حدیث نمبر: 4749
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نیکی صدقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4750
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَمِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَائِهِ " . ¤ إِلَى هَهُنَا انْتَهَى حَدِيثُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نیکی صدقہ ہے ، اور نیکی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے بھائی سے ملو اور اپنے ڈول میں سے اس کے برتن میں پانی ڈال دو “ ۔ امام أحمد کی نقل کردہ حدیث یہاں ختم ہو جاتی ہے ۔
حدیث نمبر: 4751
وَلِجَابِرٍ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ مَعْرُوفٍ تَصْنَعُهُ إِلَى غَنِيٍّ ، أَوْ فَقِيرٍ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤
محمد محی الدین
امام ابویعلیٰ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نیکی جو تم کسی خوشحال یا غریب شخص کے ساتھ کرتے ہو ، تو وہ قیامت کے دن تمہارے لئے صدقہ شمار ہو گی “ ۔
یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نیکی جو تم کسی خوشحال یا غریب شخص کے ساتھ کرتے ہو ، تو وہ قیامت کے دن تمہارے لئے صدقہ شمار ہو گی “ ۔
حدیث نمبر: 4752
عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ، وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَمَالِهِ كُتِبَتْ لَهُ صَدَقَةٌ ، وَمَا وَقَى بِهِ عِرْضَهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ " . قَالَ : " وَكُلُّ نَفَقَةِ مُؤْمِنٍ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ فَعَلَى اللَّهِ خَلْفُهُ ضَامِنًا ; إِلَّا نَفَقَةً فِي بُنْيَانٍ " . ¤ قَالَ مِسْوَرٌ : قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ : فَقُلْنَا لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : مَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ : " وَمَا وَقَى بِهِ الْمَرْءُ بِهِ عَرْضَهُ " ؟ . قَالَ : يُعْطِي الشَّاعِرَ وَذَا اللِّسَانِ . قَالَ جَابِرٌ : كَأَنَّهُ يَقُولُ الَّذِي يُتَّقَى لِسَانُهُ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ بِطُولِهِ أَبُو يَعْلَى ، وَاخْتَصَرَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ كَمَا تَقَدَّمَ ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ; وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
امام ابویعلیٰ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک اور روایت نقل کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نیکی صدقہ ہے آدمی اپنے اہل خانہ پر اور اپنے مال ( یعنی غلاموں وغیرہ ) پر جو خرچ کرتا ہے وہ اس کے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے آدمی جس کے ذریعے اپنی عزت کو بچاتا ہے وہ اس کے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا فرمایا ہے : ” مومن کا ہر وہ خرچ جو معصیت میں نہ ہو ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اس کی جگہ اسے مزید عطا کرے البتہ اس خرچ کا معاملہ مختلف ہے ، جو تعمیر میں استعمال ہوتا ہے “ ۔ مسور بیان کرتے ہیں : محمد بن منکدر نے کہا: ہم نے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے کیا مراد ہے ؟ ” جس کے ذریعے آدمی اپنی عزت کو محفوظ رکھتا ہے “ ۔ انہوں نے جواب دیا : یہ کہ آدمی کسی شاعر یا زبان دراز شخص کو کچھ دے دے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں گویا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ آدمی اس کی بدزبانی سے بچ کے رہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ طویل روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکی ہے ۔ امام أحمد کی سند میں ایک راوی منکدر بن محمد بن منکدر ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی مسور بن صلت ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ طویل روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکی ہے ۔ امام أحمد کی سند میں ایک راوی منکدر بن محمد بن منکدر ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی مسور بن صلت ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4753
وَعَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” ہر نیکی صدقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 4754
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ; غَنِيًّا كَانَ أَوْ فَقِيرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى الدَّقِيقِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر نیکی صدقہ ہے خواہ وہ خوشحال شخص کے ساتھ کی جائے یا غریب شخص کے ساتھ کی جائے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ دقیقی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ دقیقی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4755
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نیکی صدقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4756
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَثَابَتٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ عَدِيٌّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
عدی بن ثابت نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نیکی صدقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ثابت نامی راوی کے حوالے سے اس کے بیٹے عدی کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ثابت نامی راوی کے حوالے سے اس کے بیٹے عدی کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4757
وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
ابومالک اشجعی اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر نیکی صدقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔