کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا
حدیث نمبر: 4745
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي النَّاسَ ، فَأَتَاهَا رَجُلٌ فَعَزَلَهَا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ ، قَالَ : قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَقَلَّبُ فِي ظِلِّهَا فِي الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو هِلَالٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک درخت لوگوں کو اذیت پہنچایا کرتا تھا ایک شخص اس کے پاس آیا اس نے لوگوں کے راستے سے اسے ہٹا دیا تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اس شخص کو دیکھا ہے کہ وہ جنت میں اس درخت کے سائے میں کروٹیں بدل رہا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، ویسے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4745
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (3058) اخرجه احمد فى المسند (154/3)»
حدیث نمبر: 4746
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَخْرَجَ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا يُؤْذِيهِمْ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ حَسَنَةٍ ، وَمَنْ كَتَبَ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً أَدْخَلَهُ بِهَا الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤ وَلَفْظُهُ فِي الْكَبِيرِ : عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ أَخْرَجَ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا يُؤْذِيهِمْ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ مِائَةَ حَسَنَةٍ وَلَمْ يَزِدْ " . ¤ وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص مسلمانوں کے راستے سے کوئی ایسی چیز ہٹا دیتا ہے ، جو ان کو تکلیف دیتی ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لئے نیکی نوٹ کرتا ہے ، اور جس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں نیکی نوٹ کر لے اس نیکی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ معجم کبیر میں اس کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مسلمانوں کے راستے سے کوئی ایسی چیز نکال دیتا ہے ، جو انہیں اذیت دیتی ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس بندے کے لئے ایک سو نیکیاں نوٹ کرتا ہے “ ۔ اس کے لئے علاوہ مزید کوئی الفاظ نہیں ہیں ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4746
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (32)»
حدیث نمبر: 4747
وَعَنْ أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ : كَانَ مُعَاذٌ يَمْشِي وَرَجُلٌ مَعَهُ ، فَرَفَعَ حَجَرًا مِنَ الطَّرِيقِ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ رَفَعَ حَجَرًا مِنَ الطَّرِيقِ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَةٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوشیبہ مہری بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ایک شخص ان کے ساتھ تھا انہوں نے راستے سے ایک پتھر ہٹا دیا اس شخص نے دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص راستے سے پتھر ہٹا دیتا ہے اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کی جاتی ہے ، اور جس شخص کی ایک نیکی ہو وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4747
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (101/20 ، 102)»
حدیث نمبر: 4748
وَعَنِ الْمُسْتَنِيرِ بْنِ أَخْضَرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : كُنْتُ مَعَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي بَعْضِ الطُّرُقَاتِ ، فَمَرَرْنَا بِأَذًى فَأَمَاطَهُ أَوْ نَحَّاهُ عَنِ الطَّرِيقِ ، فَرَأَيْتُ مِثْلَهُ فَأَخَذْتُهُ فَنَحَّيْتُهُ ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ ؟ قُلْتُ : يَا عَمِّ ، رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ شَيْئًا فَصَنَعْتُ مِثْلَهُ . فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَمَاطَ أَذًى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ ، وَمَنْ تُقِبِّلَتْ مِنْهُ حَسَنَةٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ الْمِزِّيُّ : صَوَابُهُ عَنِ الْمُسْتَنِيرِ بْنِ أَخْضَرَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ جَدِّهِ ، كَمَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِ الْأَدَبِ ، فَإِنْ كَانَ كَمَا قَالَ الْمِزِّيُّ فَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ : عَنْ أَبِيهِ أَخْضَرَ ; فَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ أَخْضَرَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
مستنیر بن اخضر بن معاویہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی راستے سے گزر رہا تھا ہم ایک تکلیف دہ چیز کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اسے ہٹا دیا اور راستے سے اسے ایک طرف کر دیا پھر میں نے ایک اور تکلیف دہ چیز دیکھی تو میں نے اسے پکڑا اور اسے ایک طرف کر دیا انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اے میرے چچا جان ! میں نے آپ کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے بھی اس کی مانند کر لیا تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹاتا ہے اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کی جاتی ہے ، اور جس شخص کی ایک نیکی قبول ہو جائے وہ جنت میں داخل ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام مزی فرماتے ہیں درست یہ ہے کہ یہ مستنیر بن اخضر بن معاویہ بن قرہ کے حوالے سے ان کے دادا سے منقول ہے جیسا کہ امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے کتاب الادب میں روایت کیا ہے اگر ویسا ہی ہو جس طرح امام مزی نے بیان کیا ہے ، تو پھر اگر اللہ نے چاہا تو اس کی سند حسن ہو گی ، اور اگر اس کی سند میں یہ مذکور ہو تو اس نے اپنے والد اخضر کے حوالے سے اسے ذکر کیا ہے ، تو پھر میں نے کسی کو اخضر کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4748
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن