کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اُن چیزوں کا بیان جن میں مسلمان کو اجر دیا جاتا ہے
حدیث نمبر: 4741
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " . قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " تُعِينُ صَانِعًا ، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ " . قَالَ : فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ ؟ قَالَ : " احْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ ; فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اس نے عرض کی : اگر میں اس کی استطاعت نہ رکھوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کام کرنے والے کی مدد کرو یا کسی اپاہج کے لئے کچھ کر کے دے دو اس نے عرض کی : اگر میں اس کی بھی استطاعت نہ رکھوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے شر کو روک کے رکھو یہ صدقہ ہو گا ، جو تم اپنی ذات کی طرف سے کرو گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4742
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : حَدَّثَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَدِيثٍ ، فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ مُنْذُ عَرَفْنَا الْإِسْلَامَ أَشَدَّ مِنْ فَرَحِنَا بِهِ ! ! قَالَ : " إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُؤْجَرُ عَنْ إِمَاطَتِهِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَفِي هِدَايَتِهِ السَّبِيلَ ، وَفِي تَعْبِيرِهِ عَنِ الْأَرْثَمِ ، وَفِي مِنْحَةِ اللَّبَنِ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيُؤْجَرُ فِي السِّلْعَةِ تَكُونُ مَصْرُورَةً [ فِي ثَوْبِهِ ] فَيَلْمَسُهَا فَتُخْطِئُهَا يَدُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ : " وَإِنَّهُ لَيُؤْجَرُ فِي إِتْيَانِهِ أَهْلَهُ ، حَتَّى إِنَّهُ لَيُؤْجَرُ فِي السِّلْعَةِ تَكُونُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ فَيَلْمَسُهَا فَيَعْقِدُ مَكَانَهَا - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - فَيَخْفِقُ بِذَلِكَ فُؤَادُهُ ، فَيَرُدُّهَا اللَّهُ عَلَيْهِ ، وَيَكْتُبُ لَهُ أَجْرَهَا " . ¤ وَفِي إِسْنَادِهِ الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی نے ایک حدیث ارشاد فرمائی ہمیں اسلام کی معرفت نصیب ہونے کے بعد کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس بات پر خوشی ہوئی آپ نے ارشاد فرمایا : ” مومن کو اس بات پر بھی اجر ملتا ہے کہ وہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے یا راستے کے بارے میں کسی کی رہنمائی کر دے یا کسی ایسے شخص کا مفہوم واضح کر دے جو صحیح طرح سے کلام نہ کر سکتا ہو ، یا دودھ عطیہ کر دے ، یہاں تک کہ اسے اس سامان کے بارے میں بھی اجر ملتا ہے ، جو اس نے اپنے کپڑے کے اندر جیب میں رکھا ہوتا ہے پھر جب وہ اس کو چھوتا ہے ، تو اس کے ہاتھ کو وہ نہیں ملتا ( یعنی گم ہو چکا ہوتا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کرنے پر بھی اجر ملتا ہے یہاں تک کہ اسے اس سامان کا بھی اجر ملتا ہے ، جو اس کے کپڑے کے ایک کنارے پر موجود ہو وہ اس کو چھوئے اس کی جگہ پر گرہ لگا دے یا اس کی مانند کوئی اور بات کہی ہے ( اور پھر وہ سامان نہ ملے ) تو اس کے دل کو اس کے حوالے سے جو پریشانی لاحق ہوتی ہے پھر اللہ تعالیٰ وہ سامان واپس بھی کر دے تو اس کے لئے اس ( پریشانی ) کا اجر نوٹ کرتا ہے “ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی منهال بن خلیفہ ہے اسے ابوحاتم نے امام ابوداؤد نے اور امام بزار نے ” ثقہ“ قرار دیا ہے ویسے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کرنے پر بھی اجر ملتا ہے یہاں تک کہ اسے اس سامان کا بھی اجر ملتا ہے ، جو اس کے کپڑے کے ایک کنارے پر موجود ہو وہ اس کو چھوئے اس کی جگہ پر گرہ لگا دے یا اس کی مانند کوئی اور بات کہی ہے ( اور پھر وہ سامان نہ ملے ) تو اس کے دل کو اس کے حوالے سے جو پریشانی لاحق ہوتی ہے پھر اللہ تعالیٰ وہ سامان واپس بھی کر دے تو اس کے لئے اس ( پریشانی ) کا اجر نوٹ کرتا ہے “ ۔
اس روایت کی سند میں ایک راوی منهال بن خلیفہ ہے اسے ابوحاتم نے امام ابوداؤد نے اور امام بزار نے ” ثقہ“ قرار دیا ہے ویسے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4743
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ تَبَسُّمَكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ يُكْتَبُ لَكَ بِهِ صَدَقَةٌ ، وَإِنَّ إِفْرَاغَكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ يُكْتَبُ لَكَ بِهِ صَدَقَةٌ ، وَإِمَاطَتُكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ يُكْتَبُ لَكَ بِهِ صَدَقَةٌ ، إِنَّ أَمْرَكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ ، وَنَهْيَكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ ، وَإِرْشَادَكَ الضَّالَّ يُكْتَبُ لَكَ بِهِ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَطَاءٍ ، وَهُوَ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملنا تمہارے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے تمہارا اپنے ڈول کے ذریعے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا تمہارے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے تمہارا راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا تمہارے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے تمہارا نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے تمہارا برائی سے منع کرنا صدقہ ہے تمہارا گمشدہ شخص کی رہنمائی کرنا تمہارے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابوعطاء ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابوعطاء ہے ، اور وہ مجہول ہے ۔
حدیث نمبر: 4744
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَاذَا يُنْجِي الْعَبْدَ مِنَ النَّارِ ؟ قَالَ : " الْإِيمَانُ بِاللَّهِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ مَعَ الْإِيمَانِ عَمَلًا ؟ قَالَ : " يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللَّهُ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فَقِيرًا لَا يَجِدُ مَا يَرْضَخُ بِهِ ؟ قَالَ : " يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَيِيًّا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ [ لَا ] يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ ؟ قَالَ : " يَصْنَعُ لِأَخْرَقَ " . قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَخْرَقَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ شَيْئًا ؟ قَالَ : " يُعِينُ مَغْلُوبًا " . قُلْتُ : أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ ضَعِيفًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُعِينَ مَغْلُوبًا ؟ قَالَ : " مَا تُرِيدُ أَنْ تَتْرُكَ فِي صَاحِبِكَ مِنْ خَيْرٍ ؟ يُمْسِكُ عَنْ أَذَى النَّاسِ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَفْعَلُ خَصْلَةً مِنْ هَؤُلَاءِ إِلَّا أَخَذَتْ بِيَدِهِ حَتَّى تُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون کون سی چیز بندے کو جہنم سے نجات دلوا سکتی ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ پر ایمان رکھنا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایمان کے ساتھ عمل بھی ہونا چاہیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جو رزق عطا کیا ہے اس میں سے آدمی کوئی چیز دے دے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص فقیر ہو ، اور اس کے پاس دینے کے لئے گنجائش نہ ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ نیکی کا حکم دے اور وہ برائی سے منع کرے راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ اس لائق نہ ہو کہ وہ نیکی کا حکم دے سکے یا برائی سے منع کر سکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کسی اپاہج کے لئے کوئی کام کر دے میں نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ خود اپاہج ہو ، اور وہ کوئی کام نہ کر سکتا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ مغلوب کی مدد کر دے میں نے عرض کی : اگر وہ خود کمزور ہو ، اور کسی مغلوب کی مدد نہ کر سکتا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کیا چاہتے ہو کہ تم اپنے ساتھی میں کوئی بھلائی نہ رہنے دو ؟ وہ لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے بچا رہے میں نے عرض کی : اگر وہ ایسا کرے گا ، تو وہ جنت میں داخل ہو گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو بھی مسلمان ان کاموں میں سے جو بھی کام کرے گا ، تو وہ کام اس شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کروا دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس سے پہلے اس کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس سے پہلے اس کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔