عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَتَدْرُونَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ " . قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " الْمَنِيحَةُ ; أَنْ يَمْنَحَ [ أَحَدُكُمْ ] أَخَاهُ الدِّرْهَمَ ، أَوْ ظَهْرَ الدَّابَّةِ ، أَوْ لَبَنَ الشَّاةِ ، أَوْ لَبَنَ الْبَقَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَزَادَ : " الدِّينَارَ أَوِ الْبَقَرَةَ " . وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عطیہ دینا یہ کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو درہم دے دے یا سواری دے دے یا بکری کا دودھ دے دے یا گائے کا دودھ دے دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” دینار یا گائے دے دے “ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” دینار یا گائے دے دے “ ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ مَنَحَ مِنْحَةً وَرِقًا، أَوْ ذَهَبًا، أَوْ سِقَاءً لَبَنًا ، أَوْ أَهْدَى رَفْرَفًا، فَهُوَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ،وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص عطیہ کے طور پر چاندی یا سونا یا پینے کے لئے پانی یا دودھ دے دے یا بڑا اونٹ تحفے کے طور پر دے دے تو یہ غلام آزاد کرنے کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ تَغْدُو بِأَجْرٍ وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ ، وَمَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعِتَاقَةِ الْأَحْمَرِ ، وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعِتَاقَةِ الْأَسْوَدِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبِيحَةَ ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ كَلَامًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” سب سے بہترین صدقہ عطیہ ہے ، جو صبح کے وقت بھی اجر کے ساتھ ہوتا ہے ، اور شام کے وقت بھی اجر کے ساتھ ہوتا ہے ، اور اونٹنی کو عطیہ کے طور پر دینا سفید فام شخص کو آزاد کرنے کی مانند ہے ، اور بکری کو عطیہ کے طور پر دینا سیاہ فام غلام کو آزاد کرنے کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صبیحہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کلام ذکر نہیں کیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صبیحہ ہے ، جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کلام ذکر نہیں کیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرْبَعُونَ خُلُقًا يُدْخِلُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ ; أَرْفَعُهَا مِنْحَةُ شَاةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ الْمُرِّيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” چار چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آدمی کو جنت میں داخل کرتا ہے ، جن میں سب سے بلند چیز بکری عطیہ کے طور پر دینا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، اعْقِلْ مَا أَقُولُهُ لَكَ . لَعَنَاقٌ يَأْتِي رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أُحُدٍ ذَهَبًا يَتْرُكُهُ وَرَاءَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ أَبُو الْأَسْوَدِ الْغِفَارِيُّ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! جو بات میں تمہیں کہنے لگا ہوں ، اسے یاد رکھنا ، بکری کا وہ بچہ جو کسی مسلمان شخص کو مل جائے ، یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ احد پہاڑ سونے کا ہو جائے اور وہ اسے ملے ، اور پھر وہ اسے اپنے پیچھے چھوڑ جائے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابواسود رفاعی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابواسود رفاعی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔