حدیث نمبر: 4702
عَنْ جَابِرٍ قَالَ : جَاءَ حَيٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو سَلَمَةَ رَهْطُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بَنِي سَلَمَةَ مَنْ سَيِّدُكُمْ ؟ " . قَالُوا : جَدُّ بْنُ قَيْسٍ وَإِنَّا لَنُبَخِّلُهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَى مِنَ الْبُخْلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کا قبیلہ آیا ان لوگوں کو بنو سلمہ کہا: جاتا تھا یہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے بنوسلمہ تمہارا سردار کون ہے ۔ لوگوں نے جواب دیا : جد بن قیس اور ہم اسے بخیل سمجھتے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بخل سے زیادہ بڑی بیماری اور کون سی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوربیع سمان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت کی دیگر احادیث مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4702
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 4703
وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي نَخْلَةً فَمُرْهُ فَلْيَبِعْهَا ، أَوْ لِيَهَبْهَا لِي . فَأَتَى الرَّجُلُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " افْعَلْ وَلَكَ بِهَا نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ " . فَأَبَاهُ . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا أَبْخَلُ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابوصالح نے ایک صحابی کا یہ بیان نقل کیا ہے ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے باغ میں فلاں شخص کا کھجور کا درخت ہے آپ اسے حکم دیں کہ وہ اسے فروخت کر دے یا وہ مجھے ہبہ کر دے وہ شخص آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا تم ایسا کرو اس کے بدلے میں تمہیں کھجور کا درخت مل جائے گا اس نے یہ بات نہیں مانی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ سب سے بڑا بخیل ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4703
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (364/5)»
حدیث نمبر: 4704
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي نَخْلَةَ عِذْقٍ ، وَإِنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عِذْقِهِ . فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " بِعْنِي عِذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَهَبْهُ لِي " . قَالَ : لَا . قَالَ : " فَبِعْنِيهِ بِعِذْقٍ فِي الْجَنَّةِ " . قَالَ : لَا ، يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرے باغ میں فلاں شخص کا ایک گچھہ ہے وہ شخص مجھے تکلیف دیتا ہے ، اور اس کا کھجوروں کا گچھہ موجود ہونا مجھے گراں گزرتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : تم اپنا گچھہ جو فلاں شخص کے باغ میں موجود ہے وہ مجھے فروخت کر دو اس نے کہا: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ تم مجھے ہبہ کر دو اس نے کہا: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جنت میں کھجوروں کے گچھے کے عوض میں تم مجھے وہ فروخت کر دو اس نے عرض کی : جی نہیں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے تم سے زیادہ بخیل شخص کوئی نہیں دیکھا البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو سلام کرنے میں بخل سے کام لیتا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4704
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (328/3)»
حدیث نمبر: 4705
وَعَنْ أَبِي الْقَيْنِ أَنَّهُ مَرَّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ فَأَهْوَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَأْخُذَ مِنْهُ قَبْضَةً لِيَنْثُرَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ فَضَمَّ طَرَفَ رِدَائِهِ إِلَى بَطْنِهِ وَإِلَى صَدْرِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " زَادَكَ اللَّهُ شُحًّا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَفِيهِ خِلَافٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ طُرُقِ أَحَادِيثِ هَذَا الْبَابِ فِي الزُّهْدِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوالقین رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ان کے پاس کچھ کھجوریں تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف بڑھے تاکہ مٹھی بھر کھجوریں ان سے لیں اور اپنے اصحاب کے سامنے پھیلا دیں ، تو انہوں نے اپنی چادر کا کنارہ اپنے پیٹ اور سینے کے ساتھ ملا لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی تمہارے بخل میں اضافہ کرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن جمہان ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس باب کی احادیث کے بقیہ طرق زہد سے متعلق باب میں آئیں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4705
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (338/22)»