حدیث نمبر: 4689
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ فَيَتْرُكُ أَصْفَرَ وَلَا أَبْيَضَ إِلَّا كُوِيَ بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص جس بھی دن مرتا ہے ، اور وہ زرد یا سفید چیز ( سونا یا چاندی ) چھوڑ کر جاتا ہے ، تو اس کے ذریعے اسے داغا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 4690
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَوْكَأَ عَلَى ذَهَبٍ ، أَوْ فِضَّةٍ وَلَمْ يُنْفِقْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ جَمْرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُكْوَى بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَهُ طَرِيقٌ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص سونے یا چاندی کا منہ باندھ دیتا ہے ( یعنی انہیں سنبھال کے رکھتا ہے ) اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا ہے ، تو قیامت کے دن وہ انگارے کی شکل میں ہوں گے جس کے ذریعے اسے داغا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کی ایک اور سند بھی ہے ، جس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کی ایک اور سند بھی ہے ، جس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4691
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا بِلَالُ ، مِتْ فَقِيرًا ، وَلَا تَمُتْ غَنِيًّا " . قُلْتُ : وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ ؟ قَالَ : " مَا رُزِقْتَ فَلَا تُخْبِئْ ، وَمَا سُئِلْتَ فَلَا تَمْنَعْ " . فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ ؟ قَالَ : " هُوَ ذَاكَ أَوِ النَّارُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اے بلال تم فقیر ہونے کے عالم میں مرنا تم خوشحال ہونے کے عالم میں نہ مرنا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میرے لئے کیسے ہو سکتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں جو رزق دیا جائے تم اسے سنبھال کے نہ رکھنا اور جب تم سے کوئی چیز مانگی جائے تو تم دینے سے انکار نہ کرنا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میرے لئے کیسے ہو سکتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یا تو یہ ہو گا یا پھر آگ ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4692
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ نَعُودُهُ فَقَالَ : مَا أَدْرِي مَا يَقُولُونَ ؟ وَلَكِنْ لَيْتَ مَا فِي تَابُوتِي هَذَا جَمْرٌ . فَلَمَّا مَاتَ نَظَرُوا فَإِذَا فِيهِ أَلْفٌ أَوْ أَلْفَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سعد بن مسعود کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کے لئے حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا : مجھے نہیں سمجھ آتی کہ یہ لوگ کیا کہتے ہیں لیکن اے کاش میرے تابوت میں یہ انگارے نہ ہوں جب ان کا انتقال ہو گیا اور لوگوں نے اس بات کا جائزہ لیا تو وہاں ایک ہزار یا شاید دو ہزار ( درہم یا دینار ) موجود تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4693
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ دَيْنًا عَلَيْهِ وَلَيْسَ لَهُ وَفَاءٌ فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ وَقَالَ : " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ " . فَقَامَ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ : أَنَا أَقْضِي عَنْهُ . فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس نے اپنے ذمہ قرض کے طور پر دو دینار کی ادائیگی چھوڑی جس کو ادا کرنے کی کوئی صورت نہیں تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : میں وہ اس کی طرف سے ادا کر دوں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔
حدیث نمبر: 4694
وَذَكَرَ أَيْضًا : أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيَّتَيْنِ " . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے یہ روایت بھی ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس نے دو دینار چھوڑے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔
حدیث نمبر: 4695
وَفِي رِوَايَةٍ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ كَفَنٌ ، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " انْظُرُوا إِلَى دَاخِلَةِ إِزَارِهِ " . فَأُصِيبَ دِينَارٌ أَوْ دِينَارَانِ . فَقَالَ : " كَيَّتَانِ " . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس کے لئے کفن نہیں مل رہا تھا ایک صاحب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس کے تہبند کے اندرونی حصے کا جائزہ لو تو وہاں سے ایک دینار یا دو دینار مل گئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔
حدیث نمبر: 4696
وَفِي رِوَايَةٍ : تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ [ دِينَارٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيَّةٌ " ، ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ ] دِينَارَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " كَيَّتَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَبَعْضُ طُرُقِهِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي الزُّهْدِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا اس کے تہبند میں ایک دینار ملا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی ایک چیز ہے پھر ایک اور شخص کا انتقال ہو گیا اس کے تہبند میں دو دینار ملے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کے بعض طرق کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث زہد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کے بعض طرق کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث زہد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 4697
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ فَرَأَيْتُ فِي بَيْتِهِ دَرَاهِمَ مَكْشُوفَةً فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ ؟ قَالَ : بِعْتُ ضَيْعَتِي الْفُلَانِيَّةَ وَقَدْ أَنْفَقْتُهَا مَا أَرَى أَحَدًا أَحَقَّ بِهِ مِنِّي . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن ابوہذیل بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا خباب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے ان کے گھر میں دراہم کھلے پڑے دیکھے تو میں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : میں نے اپنی فلاں زمین فروخت کی ہے میں اس کو خرچ کروں گا کیونکہ میں یہ نہیں سمجھتا کہ کوئی ایک اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ حق رکھتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4698
وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدِي شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا ؟ " . فَقُلْتُ : ادَّخَرْنَاهُ لِشِتَائِنَا . فَقَالَ : "مَا تَخَافُ أَنْ تَرَى لَهُ بُخَارًا فِي جَهَنَّمَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اس وقت میرے پاس کچھ کھجوریں موجود تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کس لئے ہیں میں نے عرض کی : یہ شام کے کھانے کے لئے سنبھال کر رکھی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ نہیں کہ اس کی وجہ سے تم جہنم میں بخار ( یعنی دھویں ) کو دیکھو گے ۔
حدیث نمبر: 4699
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَطْعِمْنَا يَا بِلَالُ " . ثُمَّ أَقْبَضْتُ لَهُ قَبَضَاتٍ فَقَالَ : " زِدْنَا يَا بِلَالُ " . فَزِدْتُهُ ثَلَاثًا . فَقُلْتُ : لَمْ يَبْقَ شَيْءٌ إِلَّا شَيْئًا ادَّخَرْتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَالَ : " أَنْفِقْ بِلَالُ ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الْأُولَى مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَفِي الثَّانِيَةِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيِّ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمیں کھانے کے لئے دو ! میں نے کچھ مٹھی کھجوریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال مزید دو میں نے تین مرتبہ مزید پیش کیں میں نے عرض کی : اب صرف وہ چیز باقی رہ گئی ہے ، جسے میں نے اللہ کے رسول کے لئے سنبھال کے رکھا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم خرچ کرو اور عرش والی ذات کی طرف سے کمی کا اندیشہ نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ پہلی روایت میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ اور دوسری روایت میں طلحہ بن زید قرشی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ پہلی روایت میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ اور دوسری روایت میں طلحہ بن زید قرشی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 4700
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا بِلَالُ ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادَّخَرْتُهُ لَكَ وَلِضِيفَانِكَ . فَقَالَ : " أَمَا تَخْشَى أَنْ يَفُورَ لَهُ بُخَارٌ فِي جَهَنَّمَ ؟ أَنْفِقْ بِلَالُ ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ان کے پاس کھجوروں کا ایک ڈھیر موجود تھا آپ نے ارشاد فرمایا : اے بلال یہ کس لئے ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے آپ کے لئے اور آپ کے مہمانوں کے لئے سنبھال کے رکھی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتے ہو کہ جہنم میں بخار اس پر آ جائے گا : اے بلال خرچ کرو اور عرش والی ذات کی طرف سے کمی کا اندیشہ نہ رکھو “ ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4701
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ بِلَالًا فَأَخْرَجَ لَهُ صُبْرَةً مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا بِلَالُ ؟ " قَالَ : ادَّخَرْتُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " أَمَا تَخْشَى أَنْ يُجْعَلَ لَكَ بُخَارٌ فِي جَهَنَّمَ ؟ أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے انہوں نے کھجوروں کا ایک ڈھیر آپ کے سامنے پیش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : بلال یہ کس لئے ہیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے آپ کے لئے سنبھال کے رکھی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ جہنم میں بخار تمہارے لئے مقرر کر دیا ہو ۔ اے بلال ! خرچ کرو اور عرش والی ذات کی طرف سے کمی کا اندیشہ نہ رکھو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔