حدیث نمبر: 4706
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ اسْتَخْلَصَ هَذَا الدِّينَ لِنَفْسِهِ فَلَا يَصْلُحُ لِدِينِكُمْ إِلَّا السَّخَاءُ وَحُسْنُ الْخُلُقِ ; أَلَا فَزَيِّنُوا دِينَكُمْ بِهِمَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنَ الْعُقَيْلِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے اس دین کو اپنے لیے خالص قرار دیا ہے تمہارے دین کے لئے مناسب چیز صرف سخاوت اور اچھے اخلاق ہیں خبردار تم اپنے دین کو ان دونوں کے ذریعے آرستہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 4707
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللَّهِ بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ ، وَالْبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ بَعِيدٌ مِنَ الْجَنَّةِ بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ ، وَالْجَاهِلُ السَّخِيُّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ [ عَزَّ وَجَلَّ ] مِنَ الْعَابِدِ الْبَخِيلِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سخی شخص اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے جہنم سے دور ہوتا ہے ، اور جنت کے قریب ہوتا ہے ، اور بخیل شخص اللہ تعالی سے دور ہوتا ہے ، جنت سے دور ہوتا ہے لوگوں سے دور ہوتا ہے ، اور جہنم کے قریب ہوتا ہے ، اور جاہل سخی اللہ تعالی کے نزدیک بخیل عبادت گزار سے زیادہ پسندیدہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4708
وَعَنْهَا قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فِي الْجَنَّةِ بَيْتٌ يُقَالُ لَهُ : بَيْتُ السَّخَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ جَحْدَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں ایک گھر ہے ، جس کا نام ” سخاوت کا گھر “ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں جحدر بن عبداللہ اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں جحدر بن عبداللہ اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 4709
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنِ السَّيِّدُ ؟ قَالَ : " يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ " . قَالُوا : فَمَا فِي أُمَّتِكَ سَيِّدًا ؟ قَالَ : " بَلَى رَجُلٌ أُعْطِيَ مَالًا حَلَالًا وَرُزِقَ سَمَاحَةً وَأَدْنَى الْفَقِيرَ وَقَلَّتْ شَكَاتُهُ فِي النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَافِعُ أَبُو هُرْمُزَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ؟ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! سردار کون ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سیدنا یوسف بن سیدنا یعقوب بن سیدنا اسحاق بن سیدنا ابراہیم علیہم السلام لوگوں نے عرض کی : آپ کی امت میں سردار کون ہو گا آپ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ وہ شخص جسے حلال مال دیا گیا ہو ، اور نرمی عطا کی گئی ہو وہ فقیر کو قریب رکھے اور لوگوں سے اس کی شکایات کم ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4710
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَلْعٍ الْأَنْصَارِي ، أَنَّ إِخْوَتَهُ شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا : إِنَّهُ يُبَذِّرُ مَالَهُ وَيَبْسُطُ فِيهِ . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، آخُذُ نَصِيبِي مِنَ الثَّمَرَةِ فَأُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مَنْ صَحِبَنِي . فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدْرَهُ وَقَالَ : " أَنْفِقْ يُنْفِقِ اللَّهُ عَلَيْكَ " . ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ خَرَجْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعِي رَاحِلَةٌ . قَالَ : وَأَنَا أَكْبَرُ أَهْلِ بَيْتِي الْيَوْمَ وَأَيْسَرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو عَاصِمٍ ، قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا قیس بن سلع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کے بھائیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی انہوں نے عرض کی : یہ اپنا مال فضول خرچ کرتا ہے ، اور بہت زیادہ خرچ کرتا ہے میں نے عرض کی : میں پھلوں میں سے اپنا حصہ خرچ کرتا ہوں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں اور اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : تم خرچ کرو اللہ تعالیٰ تم پر خرچ کرے گا یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی راوی کہتے ہیں : اس کے بعد میں اللہ کی راہ میں جنگ میں نکلا تو میرے پاس صرف ایک سواری تھی وہ فرماتے ہیں اس وقت میں اپنے اہل خانہ میں سب سے زیادہ بڑا ہوں اور سب سے زیادہ خوشحال ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سعید بن زیاد ابوعاصم اسے نقل کرنے میں منفرد ہے۔( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سعید بن زیاد ابوعاصم اسے نقل کرنے میں منفرد ہے۔( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 4711
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيِّ قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَارَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءَ فَرَأَى حِصْنَةً فِي الْأَمْوَالِ ، وَالْأَرَاضِي ، وَلَمْ يَكُنْ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُمْ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ " . فَقَالُوا : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا أَنْتَ . قَالَ : " لَوْ أَنَّكُمْ إِذَا هَبَطْتُمْ لِعِيدِكُمْ - يَعْنِي الْجُمُعَةَ - مَكَثْتُمْ حَتَّى تَسْمَعُوا مِنِّي قَوْلِي " . قَالُوا : نَعَمْ ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا أَنْتَ . فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ حَضَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَتَنَفَّلَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ مَقَامِهِ ، وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّاهُمَا فِي بَيْتِهِ ، حَتَّى كَانَ يَوْمَئِذٍ فَتَنَفَّلَهُمَا فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ اسْتَقْبَلَهُمْ بِوَجْهِهِ فَتَبِعَتِ الْأَنْصَارُ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ " . فَقَالُوا : لَبَّيْكَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا أَنْتَ . قَالَ : " كُنْتُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تَعْبُدُونَ اللَّهَ تَحْمِلُونَ الْكَلَّ فِي أَمْوَالِكُمْ ، وَتَفْعَلُونَ الْمَعْرُوفَ ، وَتَصِلُونَ حَتَّى إِذَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ بِالْإِسْلَامِ وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَنْتُمْ تُحْصِنُونَ . فِيمَا يَأْكُلُ ابْنُ آدَمَ أَجْرٌ ، وَفِيمَا يَأْكُلُ الطَّيْرُ أَجْرٌ ، وَفِيمَا يَأْكُلُ السَّبُعُ أَجْرٌ " . فَانْصَرَفَ الْقَوْمُ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ إِلَّا هَدَمَ مِنْ مَالِهِ ثُلْمَةً أَوْ ثَلَاثًا - يَعْنِي : هَدَمُوا فِي حِيطَانِ بَسَاتِينِهِمْ لِيَدْخُلَ الْقَوْمُ فَيَأْكُلُونَ مِنَ الثَّمَرَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ : " وَكَانَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيَشْهَدُ الْجِنَازَةَ ، وَيُدْعَى فَيُجِيبُ " . وَقَالَ : لَا يُرْوَى عَنْ جَابِرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، قُلْتُ : وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبدالله سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو عمرو بن اوس کے محلے میں بدھ کے دن تشریف لائے آپ نے لوگوں کی زمین اور اموال میں ایک بڑا گھر دیکھا جو آپ نے اس سے پہلے ملاحظہ نہیں فرمایا تھا آپ نے ان لوگوں سے فرمایا : اے انصار کے گروہ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تم اپنے عید کے موقع پر آؤ اور ٹھہرے رہو یہاں تک کہ میری گفتگو سن لو تو یہ مناسب ہو گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ جمعہ کے دن ایسا کرنا لوگوں نے عرض کی : ٹھیک ہے ، یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں جب جمعہ کا دن آیا تو وہ لوگ آپ کی اقتداء میں شریک ہوئے جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے اپنی جگہ پر ہی دو رکعات نفل ادا کیے ۔ اس سے پہلے آپ جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد گھر تشریف لے جایا کرتے تھے ، اور اپنے گھر میں وہ دو رکعات ادا کیا کرتے تھے ، لیکن اس دن آپ نے وہ دو نفل مسجد میں ادا کر لیے جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے اپنا رخ ان لوگوں کی طرف کیا انصار مسجد میں آ گئے تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آ گئے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : اے انصار کے گروہ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زمانہ جاہلیت میں تم لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے تھے ، لیکن اپنے اموال کے ذریعے مصیبت زدہ کا زیادہ بوجھ اٹھاتے تھے ، اور بھلائی کا کام کیا کرتے تھے اور صلہ رحمی کیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تم پر احسان کیا ، تو اب تم نے اونچے گھر قلعے بنانے شروع کر دیے ہیں انسان جو چیز کھاتا ہے اس کا اجر ملتا ہے پرندہ جو چیز کھاتا ہے درندہ جو چیز کھاتا ہے اس کا اجر ملتا ہے وہ لوگ واپس گئے تو ان میں سے ہر شخص نے اپنی زمین پر موجود عمارت کو گرا دیا راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے باغ کے اردگرد جو دیواریں بنائی ہوئی تھیں انہیں منہدم کر دیا تاکہ لوگ اندر جا کر وہاں کا پھل کھا سکیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” وہ بیمار کی عیادت کرتے تھے جنازے میں شریک ہوتے تھے بلایا جاتا تھا ، تو چلے جایا کرتے تھے “ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے۔( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس روایت کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” وہ بیمار کی عیادت کرتے تھے جنازے میں شریک ہوتے تھے بلایا جاتا تھا ، تو چلے جایا کرتے تھے “ راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے۔( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس روایت کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔