کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خرچ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 4679
عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ : فَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ : مَا أَنْفَقْتَ فَلَكَ ، وَمَا أَمْسَكْتَ فَلَيْسَ لَكَ ، فَذَلِكَ مَالُهُ " . ¤ قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الزُّهْدِ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالٌ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ہر بندے کے تین دوست ہوتے ہیں ایک دوست یہ کہتا ہے ، جو تم نے خرچ کیا وہ تمہارا ہوا جو تم نے روک لیا وہ تمہارا نہ ہوا یہ آدمی کا مال ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو مکمل روایت کے طور پر زہد سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4679
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2539)»
حدیث نمبر: 4680
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَشَرَ اللَّهُ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِهِ أَكْثَرَ لَهُمَا الْمَالَ ، وَالْوَلَدَ ، فَقَالَ لِأَحَدِهِمَا : أَيْ فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ؟ قَالَ : لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ : أَلَمْ أُكْثِرْ لَكَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ ؟ قَالَ : بَلَى أَيْ رَبِّ . قَالَ : وَكَيْفَ صَنَعْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ ؟ قَالَ : تَرَكْتُهُ لِوَلَدِي مَخَافَةَ الْعَيْلَةِ عَلَيْهِمْ . قَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ تَعْلَمُ الْعِلْمَ لَضَحِكْتَ قَلِيلًا ، وَلَبَكَيْتَ كَثِيرًا . أَمَا إِنَّ الَّذِي تَخَوَّفْتَ عَلَيْهِمْ قَدْ أَنْزَلْتُ بِهِمْ . وَيَقُولُ لِلْآخَرِ : أَيْ فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ ؟ فَيَقُولُ : لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ . قَالَ لَهُ : أَلَمْ أُكْثِرْ لَكَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ ؟ قَالَ : بَلَى أَيْ رَبِّ . قَالَ : فَكَيْفَ صَنَعْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ ؟ قَالَ : أَنْفَقْتُ فِي طَاعَتِكَ ، وَوَثِقْتُ لِوَلَدِي مِنْ بَعْدِي بِحُسْنِ طَوْلِكَ . قَالَ : أَمَا إِنَّكَ لَوْ تَعْلَمُ الْعِلْمَ لَضَحِكْتَ كَثِيرًا وَلَبَكَيْتَ قَلِيلًا ، أَمَا إِنَّ الَّذِي قَدْ وَثِقْتَ لَهُمْ بِهِ قَدْ أَنْزَلْتُ بِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے دو بندوں کو زندہ کرے گا جنہیں اس نے بکثرت مال اور اولاد عطا کی ہو گی ان میں سے ایک سے دریافت کرے گا : اے فلاں بن فلاں وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں حاضر ہوں سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے پروردگار فرمائے گا کیا میں نے تمہیں بکثرت مال اور اولاد عطا نہیں کیے تھے وہ عرض کرے گا جی ہاں اے میرے پروردگار ! پروردگار فرمائے گا میں نے جو تمہیں عطا کیا تھا تم نے اس کے بارے میں کیا طرز عمل اختیار کیا وہ جواب دے گا میں نے اسے اپنی اولاد کے لئے چھوڑ دیا اس اندیشے کے تحت کہ کہیں ان کو غربت لاحق نہ ہو جائے تو پروردگار فرمائے گا اگر تم علم رکھتے ہوتے تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے ان کے بارے میں تمہیں جس کا اندیشہ تھا وہ میں نے ان پر نازل کر دی ہے پھر پروردگار دوسرے شخص سے فرمائے گا : اے فلاں بن فلاں وہ عرض کرے گا میں حاضر ہوں اے میرے پروردگار ! اور سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے پروردگار اس سے دریافت کرے گا کیا میں نے تمہیں بکثرت مال اور اولاد عطا نہیں کیے تھے وہ عرض کرے گا جی ہاں اے میرے پروردگار ! پروردگار فرمائے گا میں نے جو تمہیں دیا تھا اس کے بارے میں تم نے کیا طرز عمل اختیار کیا وہ عرض کرے گا میں نے اسے تیری فرمانبرداری کے کام میں خرچ کیا ، اور اپنے بعد اپنی اولاد کے لئے میں نے تیرے کرم پر بھروسہ کیا ، تو پروردگار فرمائے گا اگر تم علم رکھتے ہوتے تو تم زیادہ ہنستے اور تھوڑا روتے ( مطبوعہ متن میں یہ الفاظ اسی طرح ہیں لیکن شاید یہاں یہ عبارت ہونی چاہیے تھی : اگر تم علم رکھتے ہوتے ، تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے ) ، جس چیز کے بارے میں تم نے ان لوگوں کے حوالے سے توقع رکھی تھی ، وہ میں نے ان پر نازل کر دی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4680
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (600)»
حدیث نمبر: 4681
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ ، وَفِي يَدِهِ قِطْعَةٌ مِنَ الذَّهَبِ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ : " مَا كَانَ مُحَمَّدٌ قَائِلًا لِرَبِّهِ لَوْ مَاتَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ ؟ " . فَقَسَّمَهَا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ وَقَالَ : " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ مِثْلَ هَذَا الْجَبَلِ " . - وَأَشَارَ إِلَى أُحُدٍ - " ذَهَبًا ، وَفِضَّةً فَيُنْفِقُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيَتْرُكُ مِنْهَا دِينَارًا " . ¤ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ قُبِضَ وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا ، وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً ، وَلَقَدْ تَرَكَ دِرْعَهُ مَرْهُونَةً عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ يَأْكُلُ مِنْهَا وَيُطْعِمُ عِيَالَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے آپ کے ہاتھ میں سونے کا ایک ٹکڑا تھا آپ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا محمد اپنے پروردگار کی بارگاہ میں کیا عرض کرے گا : اگر وہ ایسی حالت میں مر گیا کہ اس کے پاس یہ ہوا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے اٹھنے سے پہلے اسے تقسیم کر دیا آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ ” محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اصحاب “ کے پاس ( مطبوعہ متن میں اسی طرح مذکور ہے لیکن شاید یہاں لفظ ” اصحاب “ زائد ہے ، اصل عبارت یوں ہونی چاہیے : ” محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس “ ) اس پہاڑ جتنا سونا یا چاندی ہو ، آپ نے اُحد پہاڑ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی : اور پھر وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اور اس میں سے ایک دینار چھوڑ دے ( یعنی ایک دینار چھوڑنا بھی پسند نہیں ہے ) ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ نے کوئی دینار کوئی درہم کوئی غلام یا کوئی کنیز ( ترکہ میں ) نہیں چھوڑا آپ نے اپنی زرہ ترکہ میں چھوڑی تھی وہ جو کے تیس صاع کے عوض میں ایک یہودی شخص کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی آپ ان جو کو خود کھاتے تھے ، اور اپنے اہل خانہ کو کھلایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4681
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11697)»
حدیث نمبر: 4682
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْتَفَتَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا تَحَوَّلَ لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ وَأَدَعُ مِنْهُ دِينَارَيْنِ إِلَّا دِينَارَيْنِ أُعِدُّهُمَا لِدَيْنٍ كَانَ عَلَيَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُحد پہاڑ کی طرف توجہ کی اور یہ ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اُحد پہاڑ آل محمد کے لئے سونے کا ہو جائے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں اور پھر جس دن میں مروں تو میں نے اس میں سے دو دینار چھوڑے ہوئے ہوں البتہ ان دو دیناروں کا معاملہ مختلف ہے ، جنہیں میں نے اپنا ذمہ لازم کسی قرض کی ادائیگی کے لئے رکھا ہوا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں اس روایت کو امام أحمد نے بھی نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4682
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11899)»
حدیث نمبر: 4683
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " إِنِّي لَا أَلِجُ هَذِهِ الْغُرْفَةَ مَا أَلِجُهَا إِلَّا خَشْيَةَ أَنْ يَكُونَ فِيهَا مَالٌ فَأُتَوَفَّى وَلَمْ أُنْفِقْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے : میں اس بالا خانے میں داخل ہوتا ہوں اور میں اس میں صرف اندیشے کے تحت داخل ہوتا ہوں کہ کہیں اس میں کوئی ایسا مال موجود نہ ہو کہ جب میں مر جاؤں تو میں نے اسے کہیں خرچ نہ کیا ہوا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4683
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7105)»
حدیث نمبر: 4684
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا : " إِنِّي وَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا كُلَّهُ ثُمَّ أُوَرِّثُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے یہ فرماتے تھے : اللہ کی قسم ! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے لئے اُحد پہاڑ سارے کا سارا سونے کا ہو جائے اور پھر میں اسے وراثت میں چھوڑ جاؤں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل ہے ، اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4684
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم | الكبير (7074)»
حدیث نمبر: 4685
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَةُ دَنَانِيرَ وَضَعَهَا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ مَرَضِهِ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، ابْعَثِي بِالذَّهَبِ إِلَى عَلِيٍّ " . ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، وَشَغَلَ عَائِشَةَ مَا بِهِ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا ; كُلُّ ذَلِكَ يُغْمَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَشْغَلُ عَائِشَةَ مَا بِهِ ، فَبَعَثَ [ بِهِ ] إِلَى عَلِيٍّ ، فَتَصَدَّقَ بِهَا وَأَمْسَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَدِيدِ الْمَوْتِ لَيْلَةَ الِاثْنَيْنِ ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ بِمِصْبَاحٍ لَهَا إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا فَقَالَتْ : أَهْدِي لَنَا فِي مِصْبَاحِنَا مِنْ عُكَّتِكِ السَّمْنَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْسَى فِي جَدِيدِ الْمَوْتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الزُّهْدِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سات دینار تھے جنہیں آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس رکھوایا ہوا تھا جب آپ بیمار ہو گئے تو آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! وہ سونا علی کے پاس بھجوا دو پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی وجہ سے مشغول رہیں یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند مرتبہ یہ کہا: ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو جاتی تھی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مصروف رہتی تھیں آخر کار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دیناروں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں صدقہ کر دیا تو پیر کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر طبیعت کی زیادہ خرابی کا غلبہ ہوا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا چراغ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کے ہاں بھجوایا اور یہ کہا: کہ آپ ہمارے چراغ میں اپنا کچھ تیل ڈال دیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ ( ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث زہد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4685
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5990)»
حدیث نمبر: 4686
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ حِذْيَمٍ قَالَ : بَلَغَ عُمَرُ أَنَّهُ لَا يَدَّخِرُ فِي بَيْتِهِ مِنَ الْحَاجَةِ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِعَشَرَةِ آلَافٍ ، فَأَخَذَهَا فَجَعَلَ يُفَرِّقُهَا صُرَرًا فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : أَيْنَ تَذْهَبُ بِهَذِهِ ؟ قَالَ : أَذْهَبُ بِهَا إِلَى مَنْ يُرَجِّحُ لَنَا فِيهَا ، فَمَا أُبْقِي لَنَا إِلَّا شَيْئًا يَسِيرًا . فَلَمَّا نَفَدَ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُمْ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : اذْهَبْ إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِكَ الَّذِينَ أَعْطَيْتَهُمْ يُرَجِّحُونَ لَكَ فَخُذْ مِنْ أَرْبَاحِهِمْ . وَجَعَلَ يُدَافِعُهَا وَيُمَاطِلُهَا حَتَّى طَالَ ذَلِكَ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْ أَنَّ حَوْرَاءَ أَطْلَعَتْ أُصْبُعًا مِنْ أَصَابِعِهَا لَوَجَدَ رِيحَهَا كُلُّ ذِي رُوحٍ ، فَأَنَا أَدَعُهُنَّ لَكُنَّ ، لَا وَاللَّهِ لَأَنْتُنَّ أَحَقُّ أَنْ أَدَعَكُنَّ لَهُنَّ مِنْهُنَّ لَكُنَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَلَهُ طُرُقٌ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن عامر بن حذیم بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ وہ صاحب اپنے گھر میں ضرورت کی کوئی چیز ذخیرہ نہیں کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان صاحب کو دس ہزار ( درہم یا دینار ) بھجوائے انہوں نے وہ لے لیے اور انہیں مختلف تھیلوں میں ڈالنا شروع کیا ان کی اہلیہ نے ان سے دریافت کیا : آپ یہ کہاں لے کے جائیں گے انہوں نے جواب دیا : میں انہیں لے کر ان افراد کے پاس جاؤں گا ، جو ان کے بارے میں ہمارے لئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوں گے میں ان میں سے صرف تھوڑی سی چیز رہنے دوں گا جب وہ چیز ختم ہو گئی جو ان لوگوں کے پاس موجود تھی تو ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: اب آپ اپنے کچھ دوستوں کے پاس جائیں جنہیں آپ نے وہ چیزیں دی تھیں جو آپ کو فائدہ دلایا کرتے تھے تو اس فائدے میں سے آپ حاصل کر لیں وہ اس خاتون کے ساتھ مسلسل بحث مباحثہ کرتے رہے یہاں تک کہ یہ بات طویل ہو گئی تو انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر ایک حور اپنی ایک انگلی کو ظاہر کر دے تو اس کی خوشبو کو ہر ذی روح محسوس کرے گا ، تو کیا میں تمہارے لئے ان حوروں کو چھوڑ دوں ؟ اللہ کی قسم ! تم خواتین اس بات کی زیادہ حق دار ہو کہ میں اُن حوروں کی خاطر تمہیں چھوڑ دوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں جنت کی صفت سے متعلق باب میں اس کے مختلف طرق آئیں گے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4686
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5511)»
حدیث نمبر: 4687
وَعَنْ مَالِكِ الدَّارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخَذَ أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ ، فَجَعَلَهَا فِي صُرَّةٍ ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ : اذْهَبْ بِهَا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، ثُمَّ تَلِّهِ فِي الْبَيْتِ سَاعَةً حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ ! فَذَهَبَ بِهَا الْغُلَامُ إِلَيْهِ فَقَالَ : يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ اجْعَلْ هَذِهِ فِي بَعْضِ حَاجَاتِكَ . فَقَالَ : وَصَلَهُ اللَّهُ وَرَحِمَهُ . ثُمَّ قَالَ : تَعَالَيْ يَا جَارِيَةُ ، اذْهَبِي بِهَذِهِ السَّبْعَةِ إِلَى فُلَانٍ ، وَبِهَذِهِ الْخَمْسَةِ إِلَى فُلَانٍ ، وَبِهَذِهِ الْخَمْسَةِ إِلَى فُلَانٍ . حَتَّى أَنْفَدَهَا . فَرَجَعَ الْغُلَامُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أَعَدَّ مِثْلَهَا لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فَقَالَ : اذْهَبْ بِهَا إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَتَلِّهِ فِي الْبَيْتِ حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ ؟ ! فَذَهَبَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ : يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ : اجْعَلْ هَذِهِ فِي بَعْضِ حَاجَاتِكَ . فَقَالَ : رَحِمَهُ اللَّهُ وَوَصَلَهُ ، تَعَالَيْ يَا جَارِيَةُ ، اذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا ، اذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا ، فَاطَّلَعَتِ امْرَأَةُ مُعَاذٍ وَقَالَتْ : وَنَحْنُ وَاللَّهِ مَسَاكِينُ فَأَعْطِنَا . فَلَمْ يَبْقَ فِي الْخِرْقَةِ إِلَّا دِينَارَانِ فَدَحَا بِهِمَا إِلَيْهَا . وَرَجَعَ الْغُلَامُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ : إِنَّهُمْ إِخْوَةٌ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَمَالِكُ الدَّارِ لَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مالک دار بیان کرتے ہیں ؛ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے چار سو دینار لئے انہیں ایک تھیلی میں ڈالا اور غلام سے کہا: تم انہیں لے کے ابوعبیدہ بن جراح کے پاس جاؤ اور پھر اس کے گھر میں کچھ دیر تک ٹھہرے رہنا اور اس بات کا جائزہ لینا کہ وہ اس کا کیا کرتا ہے وہ غلام یہ رقم لے کے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور یہ کہا: امیر المؤمنین نے یہ کہا: ہے : انہیں اپنی ضروریات میں خرچ کریں تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ انہیں ملا کے رکھے اور ان پر رحم کرے پھر انہوں نے فرمایا : اے لڑکی ادھر آؤ یہ سات دینار فلاں شخص کو دے آؤ یہ پانچ فلاں کو دے آؤ یہاں تک کہ انہوں نے وہ ساری رقم خرچ کر دی غلام سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آیا انہیں اس صورت حال کے بارے میں بتایا جو اس نے پائی تھی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اتنی ہی رقم سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لئے تیار کروائی پھر فرمایا اسے لے کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور اس کے پاس ٹھہرے رہنا اور اس بات کا جائزہ لینا کہ وہ کیا کرتا ہے وہ غلام اس رقم کو لے کے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف گیا اور یہ کہا: کہ سیدنا امیر المؤمنین نے یہ آپ کی طرف بھیجا ہے ، اور یہ کہا: ہے کہ اسے اپنی ضروریات میں استعمال کریں تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالی ان پر رحم کرے اور انہیں ملا کے رکھے اے لڑکی ادھر آؤ تم فلاں کے گھر میں اتی رقم فلاں کے پاس لے جاؤ اور فلاں کے گھر میں اتنی رقم لے جاؤ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے جھانک کر یہ کہا: اللہ کی قسم ہم بھی غریب ہیں آپ ہمیں بھی کچھ دے دیں اس وقت تھیلی میں صرف دو دینار باقی بچے تھے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے وہ دو دینار اس خاتون کو دے دیے وہ غلام سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس بات پر خوش ہوئے اور فرمایا : یہ لوگ بھائی بھائی ہیں جو ایک دوسرے سے متعلق ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ مالک دار نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4687
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (33/20)»
حدیث نمبر: 4688
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حَيَّانَ الطَّائِيِّ قَالَ : كَانَ رَافِعُ بْنُ عُمَيْرَةَ السُّنَيْسِيُّ يُغَذِّي أَهْلَ ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ وَيَسْقِيهِمُ الْقَرْطَمَةَ ، [ يَعْنِي الْحَيْسَ ] ، وَلَيْسَ لَهُ إِلَّا قَمِيصٌ وَاحِدٌ هُوَ لِلْمَبِيتِ ، وَهُوَ لِلْجُمُعَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعَمْرُو بْنُ حَيَّانَ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن حیان طائی بیان کرتے ہیں : رافع بن عمیرہ سنیسی تین مساجد کے اہل افراد کو کھانا فراہم کرتے تھے ، اور انہیں قرطمہ یعنی حیس پلایا کرتے تھے حالانکہ ان کے اپنے پاس ایک قمیص ہوتی تھی وہی رات بسر کرنے کے لئے ہوتی ہے ، اور جمعہ کے لئے ہوتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عمرو بن حیان نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4688
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4466)»