کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اے اللہ ! تو خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ مزید عطا فرما
حدیث نمبر: 4677
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا ، وَأَبِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِأَبِي : " هَذَا ابْنُكَ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " مَا اسْمُهُ ؟ " . قَالَ : الْحُبَابُ . قَالَ : " لَا تُسَمِّهِ الْحُبَابَ فَإِنَّ الْحُبَابَ شَيْطَانٌ وَلَكِنْ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ " . ثُمَّ قَالَ لِأَبِي : " مَاذَا لَكَ مِنَ الْمَالِ ؟ " . قَالَ : لِي مِنْ أَنْوَاعِ الْمَالِ أَتَصَدَّقُ بِهِ ، وَأُعْتِقُ ، وَأَحْمِلُ وَلَكِنْ أُنْفِقُهُ فِيهِ فَيَذْهَبُ ، ثُمَّ أُقَيِّدُهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ مَلَكًا يُنَادِي فِي السَّمَاءِ : اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِمُنْفِقٍ خَلَفًا وَلِمُمْسِكِ مَالِهِ تَلَفًا ؟ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِمَا أُوتِرُ ؟ قَالَ : " بِـ ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ) ، وَ ( قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) ، وَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابوسبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے دریافت کیا : یہ تمہارا بیٹا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کا نام کیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : حباب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس کا نام حباب نہ رکھو کیونکہ حباب شیطان ہوتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے والد سے دریافت کیا : تمہارا کتنا مال ہے ۔ انہوں نے عرض کی : میرے پاس مال کی مختلف قسمیں ہیں جنہیں میں صدقہ بھی کرتا ہوں غلام بھی آزاد کرتا ہوں سواری کے لئے بھی دے دیتا ہوں ، لیکن جب میں اس میں سے خرچ کرتا ہوں تو وہ چلا جاتا ہے پھر میں اس کو قید کر دیتا ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ ایک فرشتہ آسمان میں پکار کر کہتا ہے : ” اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ عطا فرما جو شخص مال کو روک کے رکھتا ہے اس کے مال کو ضائع کر دے “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے وتر میں کیا پڑھنا چاہیے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سورت الاعلی سورت الکافرون اور سورت اخلاص ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4677
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4678
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ فَأَمَرَتِ الْخَادِمَ فَأَخْرَجَ لَهُ شَيْئًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهَا : " يَا عَائِشَةُ ، لَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ منقول ہے کہ ایک مانگنے والے نے ان سے مانگا انہوں نے خادم کو حکم دیا اس خادم نے اسے کوئی چیز نکال کے دے دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے عائشہ ! تم شمار نہ کرو ! ورنہ اللہ تعالٰی بھی تمہیں شمار کر کے دے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4678
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (70/6)»