کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کثرت والے لوگوں کا بیان
حدیث نمبر: 4668
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ " . قَالُوا : إِلَّا مَنْ ؟ قَالَ : " هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ " . قَالُوا : إِلَّا مَنْ ؟ قَالَ : " هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ " . قَالُوا : إِلَّا مَنْ ؟ قَالَ : حَتَّى خِفْنَا أَنْ تَكُونَ قَدْ وَجَبَتْ . قَالَ : " إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( مال کی ) کثرت والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے لوگوں نے عرض کی : البتہ کس شخص کا معاملہ مختلف ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کثرت والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے لوگوں نے عرض کی : البتہ کس کا معاملہ مختلف ہے راوی بیان کرتے ہیں : یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ ( یہ بات ) واجب ہو جائے گی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کرے ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرے ) اور ایسے لوگ کم ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عطیہ بن سعید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4668
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1083) اخرجه احمد فى المسند (52/3)»
حدیث نمبر: 4669
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَيُّ جَبَلٍ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : أُحُدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لِي قِطَعًا ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدَعُ مِنْهُ قِيرَاطًا " . قَالَ : قُلْتُ : قِنْطَارًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قِيرَاطًا " ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ : [ يَا أَبَا ذَرٍّ ] ، " إِنَّمَا أَقُولُ الَّذِي هُوَ أَقَلُّ ، وَلَا أَقُولُ الَّذِي هُوَ أَكْثَرُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوذر ! یہ کون سا پہاڑ ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ احد پہاڑ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس سونے کا ٹکڑا ہو جسے میں اللہ کی راہ میں خرچ کروں پھر اس میں سے ایک قیراط چھوڑ دوں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک قنطار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک قیراط یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! میں وہ بات بیان کرتا ہوں ، جو سب سے کم ہے ، میں وہ نہیں کہتا ہوں جو سب سے زیادہ ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سالم بن ابوحفصہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4669
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (149/5)»
حدیث نمبر: 4670
وَعَنْ أَبِي السَّلِيلِ قَالَ : وَقَفَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِنَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي أَوْ عَمِّي أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْبَقِيعِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ أَشْهَدُ لَهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : فَحَلَلْتُ مِنْ عِمَامَتِي فَجَاءَ لَوْثًا أَوْ لَوْثَيْنِ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِمَا فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ بَنِي آدَمَ فَعَقَدْتُ عَلَيَّ عِمَامَتِي فَجَاءَ رَجُلٌ وَلَمْ أَرَ رَجُلًا بِالْبَقِيعِ أَشَدَّ سَوَادًا [ أَصْفَرَ ] مِنْهُ ، وَلَا آدَمَ ،يَعِيرُ نَاقَةٍ لَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ نَاقَةً أَحْسَنَ مِنْهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَدَقَةٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : دُونَكَ هَذِهِ النَّاقَةَ . قَالَ : فَلَمَزَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : هَذَا يَتَصَدَّقُ بِهَذِهِ ، فَوَاللَّهِ لَهِيَ خَيْرٌ مِنْهُ . فَسَمِعَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كَذَبْتَ ، بَلْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْهَا " - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - ثُمَّ قَالَ : " وَيْلٌ لِأَصْحَابٍ الْمِئِينِ مِنَ الْإِبِلِ " [ ثَلَاثًا ] . قَالُوا : إِلَّا مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا " ، وَجَمَعَ بَيْنَ كَفَّيْهِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " قَدْ أَفْلَحَ الْمُجْهِدُ الْمُزْهِدُ " - ثَلَاثًا - " الْمُزْهِدُ فِي الْعَيْشِ الْمُجْهِدُ فِي الْعِبَادَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلیل بیان کرتے ہیں : ایک شخص بقیع میں ہماری محفل کے پاس آ کر ہمارے پاس ٹھہرا اس نے کہا: میرے والد نے یا شاید میرے چچا نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بقیع میں دیکھا آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : جو شخص کوئی چیز صدقہ کرے گا اس کی وجہ سے قیامت کے دن میں اس کے حق میں گواہی دوں گا وہ صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے اپنا عمامہ کھولا ، ابھی ایک یا دو ہی پیچ کھولے تھے ، میں اس کو صدقہ کرنا چاہتا تھا ، لیکن پھر میرے من میں وہی چیز آ گئی ، جو اولاد آدم کے من میں آ جاتی ہے ، تو میں نے اپنا عمامہ دوبارہ باند لیا ، پھر ایک شخص آیا میں نے بقیع میں اس سے زیادہ سیاہ رنگ کا شخص یا گندمی رنگ کا شخص نہیں دیکھا تھا وہ اپنی اونٹنی لے کے آیا میں نے بقیع میں اس سے زیادہ خوبصورت اونٹنی کوئی نہیں دیکھی تھی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں صدقہ کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔ اس نے عرض کی : آپ یہ اونٹنی لے لیں تو ایک شخص نے اسے ٹہوکا دیا اور کہا: یہ شخص تو یہ اونٹنی صدقہ کر رہا ہے اللہ کی قسم یہ اونٹنی تو اس سے زیادہ بہتر ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی تو ارشاد فرمایا تم نے غلط کہا: ہے بلکہ وہ تم سے اور اس سے زیادہ بہتر ہے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کے لئے بربادی ہے ، جن کے پاس دو سو اونٹ ہوں یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! البتہ کس شخص کا معاملہ مختلف ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو اس طرح اور اس طرح کرتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کے اس طرح اشارہ کیا ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” کوشش کرنے والے اور زہد اختیار کرنے والے کامیاب ہو گئے “ ۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ زہد اختیار کرنے سے مراد زندگی کے معاملات میں زہد اختیار کرنا ہے ، اور کوشش کرنے سے مراد عبادت میں اہتمام کرنا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4670
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (34/5)»
حدیث نمبر: 4671
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ فِيهِ الْأَزْدِيُّ : يُعْرَفُ وَيُنْكَرُ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الزُّهْدِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کثرت والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو اس طرح اور اس طرح کہتا ہے ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن سلیمان ہے ، جس کے بارے میں ازدی نے یہ کہا: ہے : یہ کچھ معروف اور کچھ منکر ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت کی دیگر احادیث زہد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4671
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن لغيرہ