کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: آدمی کا اپنی ذات ، اپنے اہل خانہ اور دیگر پر خرچ کرنا
حدیث نمبر: 4658
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا أَعْطَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی اپنی بیوی کو جو دیتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4658
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (179/4)»
حدیث نمبر: 4659
وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا سَقَى امْرَأَتَهُ مِنَ الْمَاءِ أُجِرَ " . قَالَ : فَأَتَيْتُهَا فَسَقَيْتُهَا وَحَدَّثْتُهَا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَفِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ضَعْفٌ ، وَهَذَا مِنْهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” آدمی جب اپنی بیوی کو پانی پلاتا ہے ، تو اسے اس کا اجر ملے گا“ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں اپنی بیوی کے پاس آیا میں نے اسے پانی پلایا اور اسے وہ حدیث بیان کی جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے ، زہری سے اس کے روایت کرنے میں ضعف پایا جاتا ہے ، اور یہ روایت بھی ان میں سے ایک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4659
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (128/4)»
حدیث نمبر: 4660
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يَكْرِبَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ ، وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ ، وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي لِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ وَغَيْرِهَا طُرُقٌ فِي النِّكَاحِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو چیز تم خود کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہے ، جو تم اپنی اولاد کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہے ، جو تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہے ، اور جو تم اپنے خادم کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت کی دیگر احادیث مختلف طرق کے ساتھ نکاح سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4660
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مصنف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (268/20) اخرجه احمد فى المسند (132 ، 131/4)»
حدیث نمبر: 4661
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ كَانَ لَهُ بِنْتَانِ ، أَوْ أُخْتَانِ ، أَوْ عَمَّتَانِ ، أَوْ خَالَتَانِ وَعَالَهُنَّ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ - يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِينُوهُ ، يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعْطُوهُ ، يَا عِبَادَ اللَّهِ أَقْرِضُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْعَدَوِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کی دو بیٹیاں ہوں یا دو بہنیں ہوں یا دو پھوپھیاں ہوں یا دو خالائیں ہوں اور وہ ان کی کفالت کرے تو اس شخص کے لئے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیے جائیں گے اے اللہ کے بندو ! تم اس کی مدد کرو اے اللہ کے بندو ! تم اسے دو اے اللہ کے بندو ! تم اسے قرض دو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن حبیب عدوی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4661
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 4662
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَنْفَقَ الْمَرْءُ عَلَى نَفْسِهِ ، وَوَلَدِهِ ، وَأَهْلِهِ ، وَذِي رَحِمِهِ ، وَقَرَابَتِهِ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی اپنے آپ پر اپنی اولاد پر اپنے اہل خانہ پر اپنے رشتے داروں پر اپنے قریبی عزیزوں پر جو بھی خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسور بن صلت ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4662
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 4663
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَنْ أُعْطِيَ مِنْ فَضْلِ مَا خَوَّلَنِي اللَّهُ ؟ قَالَ : " ابْدَأْ بِأُمِّكَ ، وَأَبِيكَ ، وَأُخْتِكَ ، وَأَخِيكَ ، وَالْأَدْنَى فَالْأَدْنَى ، وَلَا تَنْسَ الْجِيرَانَ وَذَا الْحَاجَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھے عطا کیا ہے اس میں سے جو اضافی چیز ہے وہ میں کسے دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی ماں سے آغاز کرو پھر اپنے باپ اپنی بہن اپنے بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں کو دو اور تم پڑوسیوں اور حاجت مندوں کو نہ بھول جانا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن أحمد عرزمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4663
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (150/20)»
حدیث نمبر: 4664
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْيَدُ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ : أُمَّكَ ، وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ ، وَأَخَاكَ ، وَأَدْنَاكَ ، فَأَدْنَاكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ، اور تم اس سے آغاز کرو جس کی تم کفالت کرتے ہو تمہاری ماں تمہارا باپ تمہاری بہن اور تمہارا بھائی اور ( پھر ) درجہ بدرجہ قریبی عزیز “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4664
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10405)»
حدیث نمبر: 4665
وَعَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رُبَّمَا فَضَلَتْ لِي الْفَضْلَةُ خَبَّأْتُهَا لِلنَّائِبَةِ وَابْنِ السَّبِيلِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بعض اوقات میرے پاس اضافی چیز ہوتی ہے ، جسے میں نے کسی مشکل یا مسافر کے لئے سنبھال کے رکھا ہوتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اپنی ماں اپنے باپ اپنی بہن اپنے بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں ( پر اضافی رقم خرچ کرو ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4665
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7413)»
حدیث نمبر: 4666
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ صَدَقَةً يَسْتَعِفُّ بِهَا فَهِيَ صَدَقَةٌ ، وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَوَلَدِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ فَهِيَ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص اپنے آپ پر خرچ کرتا ہے ، تاکہ وہ اس کے ذریعے لوگوں سے مانگنے ) بچ کے رہے تو یہ صدقہ ہے اور جو شخص اپنی بیوی پر اور اپنی اولاد پر اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کرتا ہے ، تو یہ صدقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ، جن میں سے ایک کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4666
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 4667
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَبَقِيَّةُ أَحَادِيثِ النَّفَقَةِ فِي النِّكَاحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کا اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا صدقہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم اور کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : خرچ کرنے سے متعلق دیگر احادیث نکاح سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4667
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف