کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جن لوگوں پر دنیا کو کشادہ کر دیا جائے گا ان کا بیان
حدیث نمبر: 4672
عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ : سَمِعَتِ الْأَنْصَارُ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِمَالٍ مِنْ قِبَلِ الْبَحْرَيْنِ ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ ، فَوَافَوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ ، [ فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] تَعَرَّضُوا لَهُ ، فَلَمَّا رَآهُمْ تَبَسَّمَ وَقَالَ : " لَعَلَّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ قَدِمَ وَقَدِمَ بِمَالٍ ؟ " . قَالُوا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " أَبْشِرُوا ، وَأْمَلُوا خَيْرًا ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ ، وَلَكِنْ إِذَا صُبَّتْ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا فَتَنَافَسْتُمُوهَا كَمَا تَنَافَسَهَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار نے یہ بات سنی کہ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کے آئے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بحرین بھیجا ہوا تھا ، تو وہ لوگ صبح کی نماز میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں شریک ہوئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو وہ لوگ آپ کے سامنے آ گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ کیا ، تو آپ مسکرا دیے آپ نے ارشاد فرمایا : شاید تم لوگوں نے یہ بات سنی ہے کہ ابوعبیدہ آیا ہے ، اور مال لے کے آیا ہے ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم خوشخبری حاصل کرو اور بھلے کی امید رکھو اللہ کی قسم تم لوگوں کے بارے میں مجھے غربت کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ تم لوگوں پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا ، اور تم اس کی طرف اسی طرح راغب ہو جاؤ گے جس طرح تم سے پہلے کے لوگ اس کی طرف راغب ہو گئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4673
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ التَّكَاثُرَ ، وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْخَطَأَ ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے تم لوگوں کے بارے میں غربت کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ مجھے تم لوگوں کے بارے میں کثرت کا اندیشہ ہے مجھے تم لوگوں کے بارے میں غلطی کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ مجھے تم لوگوں کے بارے میں جان بوجھ کر کرنے کا اندیشہ ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4674
وَعَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى سَفَطٍ أُتِيَ بِهِ مِنْ قَلْعَةٍ مِنَ الْعِرَاقِ ، فَكَانَ بِهِ خَاتَمٌ ، فَأَخَذَهُ بَعْضُ بَنِيهِ ، فَأَدْخَلَهُ فِي فِيهِ ، فَانْتَزَعَهُ عُمَرُ مِنْهُ ، ثُمَّ بَكَى عُمَرُ ، فَقَالَ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ : لِمَ تَبْكِي وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ لَكَ وَأَظْهَرَكَ عَلَى عَدُوِّكَ ، وَأَقَرَّ عَيْنَكَ ؟ قَالَ عُمَرُ [ إِنِّي ] : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا تُفْتَحُ الدُّنْيَا عَلَى قَوْمٍ إِلَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ ، وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَأَنَا أُشْفِقُ مِنْ ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوسنان دؤلی بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت ان کے پاس مہاجرین اولین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجود تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا کہ وہ سامان لایا جائے جو عراق کے ایک قلعہ سے آیا ہے اس میں ایک انگوٹھی موجود تھی ان کے کسی صاحبزادے نے وہ انگوٹھی لی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے وہ ان سے واپس لی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے ان کے پاس موجود افراد میں سے کسی صاحب نے ان سے دریافت کیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح نصیب کی ہے آپ کو آپ کے دشمن پر غلبہ عطا کیا ہے ، اور آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا ہے ، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دنیا جس بھی قوم پر کشادہ کی جاتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے ، اور یہ قیامت کے دن تک ہو گا ( سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو مجھے اس بات کا اندیشہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ( یہاں عربی متن میں اسی طرح تحریر ہے شاید یہاں یہ ہو گا کہ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ) اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ( یہاں عربی متن میں اسی طرح تحریر ہے شاید یہاں یہ ہو گا کہ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ) اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4675
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ هَذَا الدِّينَارَ ، وَالدِّرْهَمَ أَهْلَكَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، وَلَا أَرَاهُمَا إِلَّا مُهْلِكَاكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُنْذِرِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الزُّهْدِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایک دینار اور درہم انہوں نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاکت کا شکار کر دیا تھا اور ان دونوں کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ یہ تمہیں بھی ہلاکت کا شکار کر دیں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن منذر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث زہد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن منذر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث زہد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔