کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص اللہ کے نام پر مانگے ، اس کا بیان
حدیث نمبر: 4567
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَلَا أُحَدِّثُكُمْ عَنِ الْخَضِرِ عَلَيْهِ السَّلَامُ ؟ " . قَالُوا : بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " بَيْنَمَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ يَمْشِي فِي سُوقِ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَبْصَرَهُ رَجُلٌ مُكَاتَبٌ ، فَقَالَ : تَصَدَّقْ عَلَيَّ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ . فَقَالَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَمْرٍ يَكُونُ ، مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ . فَقَالَ الْمِسْكِينُ : أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ لَمَا تَصَدَّقْتَ عَلَيَّ ، فَإِنِّي نَظَرْتُ السَّمَاحَةَ فِي وَجْهِكَ ، وَرَجَوْتُ الْبَرَكَةَ عِنْدَكَ . فَقَالَ الْخَضِرُ : آمَنْتُ بِاللَّهِ ، مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَهُ إِلَّا أَنْ تَأْخُذَنِي فَتَبِيعَنِي . فَقَالَ الْمِسْكِينُ : وَهَلْ يَسْتَقِيمُ هَذَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، [الْحَقَّ ]أَقُولُ لَقَدْ سَأَلْتَنِي بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ، أَمَا إِنِّي لَا أُخَيِّبُكَ بِوَجْهِ رَبِّي ، بِعْنِي . قَالَ : فَقَدَّمَهُ إِلَى السُّوقِ فَبَاعَهُ بِأَرْبَعِمِائَةِ دِرْهَمٍ ، فَمَكَثَ عِنْدَ الْمُشْتَرِي زَمَانًا لَا يَسْتَعْمِلُهُ فِي شَيْءٍ ، فَقَالَ لَهُ : إِنَّكَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي الْتِمَاسَ خَيْرٍ عِنْدِي ، فَأَوْصِنِي بِعَمَلٍ ، قَالَ : أَكْرَهُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ ، إِنَّكَ شَيْخٌ كَبِيرٌ ضَعِيفٌ ، قَالَ : لَيْسَ يَشُقُّ عَلَيَّ . قَالَ : قُمْ فَانْقُلْ هَذِهِ الْحِجَارَةَ . وَكَانَ لَا يَنْقُلُهَا دُونَ سِتَّةِ نَفَرٍ فِي يَوْمٍ ، فَخَرَجَ فِي بَعْضِ حَاجَتِهِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ نَقَلَ الْحِجَارَةَ فِي سَاعَةٍ ، قَالَ : أَحْسَنْتَ ، وَأَجْمَلْتَ ، وَأَطَقْتَ مَا لَمْ أَرَكَ تُطِيقُهُ . قَالَ : ثُمَّ عَرَضَ لِلرَّجُلِ سَفَرٌ ، فَقَالَ : إِنِّي أَحْسَبُكَ أَمِينًا فَاخْلُفْنِي فِي أَهْلِي خِلَافَةً حَسَنَةً ، قَالَ : وَأَوْصِنِي بِعَمَلٍ . قَالَ : إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشُقَّ عَلَيْكَ . قَالَ : لَيْسَ يَشُقُّ عَلَيَّ . قَالَ : فَاضْرِبْ مِنَ اللَّبِنِ لِبَيْتِي حَتَّى أَقْدَمَ عَلَيْكَ . قَالَ : فَمَرَّ الرَّجُلُ لِسَفَرِهِ ، قَالَ : فَرَجَعَ الرَّجُلُ وَقَدْ شُيِّدَ بِنَاؤُهُ ، قَالَ : أَسْأَلُكَ بِوَجْهِ اللَّهِ مَا سَبِيلُكَ وَمَا أَمْرُكَ ؟ قَالَ : سَأَلْتَنِي بِوَجْهِ اللَّهِ ، وَوَجْهُ اللَّهِ أَوْقَعَنِي فِي الْعُبُودِيَّةِ . فَقَالَ الْخَضِرُ : سَأُخْبِرُكَ مَنْ أَنَا ، أَنَا الْخَضِرُ الَّذِي سَمِعْتَ بِهِ ، سَأَلَنِي مِسْكِينٌ صَدَقَةً فَلَمْ يَكُنْ عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيهِ ، فَسَأَلَنِي بِوَجْهِ اللَّهِ فَأَمْكَنْتُهُ مِنْ رَقَبَتِي ، فَبَاعَنِي وَأُخْبِرُكَ أَنَّهُ مَنْ سُئِلَ بِوَجْهِ اللَّهِ فَرَدَّ سَائِلَهُ - وَهُوَ يَقْدِرُ - وَقَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جِلْدَةً لَا لَحْمَ وَلَا عَظْمَ يَتَقَعْقَعُ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : آمَنْتُ بِاللَّهِ شَقَقْتُ عَلَيْكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَلَمْ أَعْلَمْ . قَالَ : لَا بَأْسَ أَحْسَنْتَ وَاتَّقَيْتَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، احْكُمْ فِي أَهْلِي وَمَالِي بِمَا شِئْتَ ، أَوِ اخْتَرْ فَأُخَلِّيَ سَبِيلَكَ ؟ قَالَ : أُحِبُّ أَنْ تُخَلِّيَ سَبِيلِي فَأَعْبُدَ رَبِّي . فَخَلَّى سَبِيلَهُ فَقَالَ الْخَضِرُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَوْقَعَنِي فِي الْعُبُودِيَّةِ ، ثُمَّ نَجَّانِي مِنْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” کیا میں تم لوگوں کو سیدنا خضر علیہ السلام کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک مرتبہ وہ بنی اسرائیل کے بازار میں چلتے ہوئے جا رہے تھے ، ایک مکاتب شخص نے انہیں دیکھا اور کہا: آپ مجھے صدقہ دیجیے ! اللہ تعالیٰ آپ کو برکت نصیب کرے ! سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: میں اللہ تعالی پر ایمان رکھتا ہوں ، اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے ، ویسا ہی ہوتا ہے ، میرے پاس تمہیں دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ، اس مسکین نے کہا: میں آپ سے اللہ کے نام پر سوال کرتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی چیز دیجیے ! کیونکہ آپ کے چہرے پر مجھے مہربانی کے نشان نظر آ رہے ہیں ، اور مجھے آپ سے برکت کی امید ہے ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: میں اللہ تعالٰی پر ایمان رکھتا ہوں ، میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں ہے ، جو میں تمہیں دوں ، البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ تم مجھے لو اور مجھے فروخت کر دو ! اس مسکین نے کہا: کیا یہ درست ہو گا ؟ سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: جی ہاں ! میں صحیح بات کہہ رہا ہوں ، تم نے مجھ سے ایک عظیم ذات کے حوالے سے مانگا ہے ، تو میں اپنے پروردگار کی ذات کے واسطے کے حوالے سے تمہیں رسوائی کا شکار نہیں کروں گا ، تم مجھے فروخت کر دو ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں : وہ شخص انہیں بازار لے گیا اور چار سو درہم کے عوض میں انہیں فروخت کر دیا سیدنا خضر علیہ السلام کچھ عرصہ خریدار کے پاس ٹھہرے رہے ، اس خریدار نے ان سے کوئی کام نہیں لیا ، انہوں نے اس سے کہا: تم نے مجھے کسی فائدے کے حصول کے لئے ہی خریدا ہے ، تو تم مجھے کوئی کام کرنے کے لئے کہو ! اس شخص نے کہا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں آپ کو کسی مشقت کا شکار کروں ، آپ ایک بوڑھے عمر رسیدہ شخص ہیں ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: مجھے مشقت نہیں ہو گی ، اس نے کہا: آپ اُٹھیں اور اس پتھر کو منتقل کر دیں وہ ایسا پتھر تھا ، جسے چھ افرا مل کر ایک دن میں منتقل کر سکتے تھے ، وہ شخص کسی کام کے سلسلے میں گیا ، جب وہ واپس آیا ، تو ایک گھڑی میں سیدنا خضر علیہ السلام اسے منتقل کر چکے تھے ، اس نے کہا: آپ نے اچھا اور عمدہ کام کیا ہے ، اور آپ میں ایسی طاقت پائی جاتی ہے کہ میرا نہیں خیال تھا کہ آپ میں یہ طاقت ہو گی ، پھر وہ شخص سفر پر جانے لگا ، تو اس نے کہا: آپ کے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ آپ ایک امین آدمی ہیں ، تو میری غیر موجودگی میں ، میرے گھر والوں کا اچھی طرح سے خیال رکھیے گا ، سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: تم مجھے کوئی کام بھی بتا دو ! اس نے کہا: مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں آپ کو مشقت کا شکار کروں سیدنا خضر علیہ السلام نے کہا: مجھے مشقت نہیں ہو گی ، اس نے کہا: پھر آپ میرے گھر کے لئے اینٹیں تیار کر لیں ، جب تک میں آپ کے پاس آ نہیں جاتا ، پھر وہ شخص سفر پر چلا گیا ، جب وہ شخص واپس آیا ، تو اس کی تعمیر مکمل ہو چکی تھی ، اس شخص نے دریافت کیا : میں آپ سے اللہ کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں ، آپ کا معاملہ اور آپ کا طریقہ کیا ہے ؟ سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : تم نے مجھ سے اللہ کے نام پر پوچھا: ہے ، اللہ تعالیٰ کی ذات کی وجہ سے ہی مجھے غلامی میں آنا پڑا تھا ، سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : میں تمہیں بتاتا ہوں ، میں کون ہوں ؟ میں وہ خضر ہوں ، جس کے بارے میں تم نے سن رکھا ہو گا ، ایک مسکین نے مجھ سے صدقہ دینے کے لیے کچھ مانگا ، میرے پاس اُسے دینے کے لئے کچھ نہیں تھا اور اس نے مجھ سے اللہ کے نام پر مانگا تھا ، تو میں نے اپنا آپ اسے پیش کر دیا اس نے مجھے فروخت کر دیا ، میں بتاتا ہوں کہ جس شخص سے اللہ کے نام پر کچھ مانگا جائے اور وہ مانگنے والے کو واپس کر دے ، حالانکہ وہ ( اسے کچھ دینے کی قدرت رکھتا ہو ، تو وہ شخص جب قیامت کے دن کھڑا ہو گا ، تو اس کی جلد ایسی ہو گی کہ نہ گوشت ہو گا ، اور نہ ہڈی ہو گی ، اور وہ لٹک رہی ہو گی ، اس شخص نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہوں ، اے اللہ کے نبی ! میں نے آپ کو مشقت کا شکار لاعلمی میں کیا تھا ، سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ہے ، تم نے اچھا کیا ، اور تم نے پرہیز گاری اختیار کی ، اُس شخص نے کہا: اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ میرے اہل خانہ ، یا میرے مال کے بارے میں جو چاہیں حکم دیں ( وہ میں پیش کر دوں گا ) یا آپ یہ اختیار کر لیں کہ میں آپ کو چھوڑ دیتا ہوں ، سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : مجھے یہ پسند ہے کہ تم مجھے چھوڑ دو ! تاکہ میں اپنے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں ، تو اس شخص نے سیدنا خضر علیہ السلام ) کو چھوڑ دیا ، تو سیدنا خضر علیہ السلام نے فرمایا : ” ہر طرح کی حمد ، اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے مجھے غلام بنایا تھا اور پھر مجھے غلامی سے نجات بھی دے دی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7530)»