کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: کس شخص کے لئے مانگنا حلال ہو جاتا ہے ؟
حدیث نمبر: 4550
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا قَوْمٌ نَتَسَاءَلُ أَمْوَالَنَا ؟ قَالَ : " يَسْأَلُ الرَّجُلُ فِي الْجَائِحَةِ أَوِ الْفَتْقِ لِيُصْلِحَ بِهِ [ بَيْنَ قَوْمِهِ ] ، فَإِذَا بَلَغَ أَوْ كَرُبَ اسْتَعَفَّ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسے لوگ ہیں ، جو ایک دوسرے کے اموال مانگ لیتے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” آدمی کسی آفت لاحق ہونے ، یا ( لڑائی یا قتل کی صورت میں کوئی ) تاوان ( یا دیت وغیرہ ) لازم ہونے پر مانگے گا ، تاکہ اس کے ذریعے اپنے معاملے کو ٹھیک کر لے ، جب وہ ضرورت تک پہنچ جائے ، یا اُس کے قریب ہو ، تو پھر اسے ( مانگنے سے ) بچنا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4550
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (406/19). اخرجه الامام احمد فى المسند (53/5)»
حدیث نمبر: 4551
وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْحَسَنِ ، وَالْحُسَيْنِ فَسَأَلَهُمَا فَقَالَا : إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَصْلُحُ إِلَّا لِثَلَاثَةٍ : لِجَائِحَةٍ مُجْحِفَةٍ ، أَوْ لِحَمَالَةٍ مُثْقِلَةٍ ، أَوْ دَيْنٍ فَادِحٍ ، فَأَعْطَيَاهُ فَأَتَى ابْنَ عُمَرَ فَأَعْطَاهُ وَلَمْ يَسْأَلْهُ . فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : أَتَيْتُ ابْنَيْ عَمِّي فَسَأَلَانِي وَأَنْتَ لَمْ تَسْأَلْنِي ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَبْنَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا كَانَا يُغَرَّانِ الْعِلْمَ غَرًّا . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُونُسُ بْنُ خَبَّابٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مجاہد بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، اُس نے ان دونوں سے کچھ مانگا ، تو ان دونوں حضرات نے فرمایا : مانگنا ، صرف تین صورتوں میں جائز ہے ، ایسی آفت لاحق ہو ، جو نقصان کر دے ، یا ایسی ادائیگی لازم ہو ، جو بوجھل کر دے ، یا ایسا قرض ہو ، جو زیر بار کر دے ، پھر اُن دونوں حضرات نے اسے کچھ دے دیا ، پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ویسے ہی کچھ دے دیا ، اس سے کچھ دریافت نہیں کیا ، اس شخص نے ان سے کہا: میں اپنے دو چچازاد افراد کے پاس گیا ، تو انہوں نے مجھ سے سوال کیا ، اور آپ نے مجھ سے کوئی سوال نہیں کیا ، تو سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادوں کو علم لقموں کی طرح کھلایا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یونس بن خباب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4551
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (510)»
حدیث نمبر: 4552
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصْلُحُ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا مِنْ ذِي رَحِمٍ أَوْ سُلْطَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ : " لِلسَّائِلِ حَقٌّ ، وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ " إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خوشحال شخص کے لئے مانگنا جائز نہیں ہے ، البتہ کسی رشتہ دار سے ، یا حاکم وقت سے مانگ سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، ایک جماعت نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ آگے چل کے ایک حدیث آئے گی : مانگنے والے کا حق ہوتا ہے ، اگر وہ گھوڑے پر آئے “ اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4552
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف