کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جس شخص کے پاس مانگے بغیر یا لالچ کے بغیر کوئی چیز آ جائے
حدیث نمبر: 4553
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذِهِ الدُّنْيَا خَضِرَةٌ حُلْوَةٌ ، فَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِطِيبِ نَفْسٍ أَوْ طِيبِ طُعْمَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ بُورِكَ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ آتَيْنَاهُ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ مِنَّا وَغَيْرِ طِيبِ طُعْمَةٍ وَإِشْرَافٍ مِنْهُ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ دنیا ، سرسبز اور میٹھی ہے ، اور جس شخص کو ہم اپنی خوشی کے ساتھ کوئی چیز دیتے ہیں ، یا کوئی پاکیزہ چیز دیتے ہیں ، جو اس کے لالچ کے بغیر ہو ، تو اُس شخص کے لئے اس چیز میں برکت رکھی جائے گی ، اور جس شخص کو ہم کوئی چیز اپنی خوشی کے بغیر دیتے ہیں ، اور اپنی خواہش کے بغیر دیتے ہیں اور وہ شخص اس کا لالچ بھی رکھتا ہو تو اس کے لئے اس چیز میں برکت نہیں رکھی جائے گی“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4554
وَعَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ حَنْطَبٍ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِنَفَقَةٍ وَكُسْوَةٍ ، فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ : أَيْ بُنَيَّ ، لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا . فَلَمَّا خَرَجَ الرَّسُولُ قَالَتْ : رُدُّوهُ عَلَيَّ . فَرَدُّوهُ . قَالَتْ : إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَائِشَةُ ، مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَاقْبَلِيهِ ; فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ " . ¤ [رَوَاهُ أَحْمَدُ ] وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ مُدَلِّسٌ ، وَاخْتُلِفَ فِي سَمَاعِهِ مِنْ عَائِشَةَ . ¤
محمد محی الدین
مطلب بن حنطب بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ خرچ اور لباس بھیجا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے قاصد سے فرمایا : اے میرے بیٹے ! میں کسی سے کچھ قبول نہیں کرتی ہوں ، جب قاصد نکلنے لگا ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اسے میرے پاس واپس لاؤ ! لوگ اسے واپس لے آئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : مجھے ایک بات یاد آ گئی ( جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا : ) ” اے عائشہ ! جب تمہیں کوئی چیز مانگے بغیر دے ، تو تم اسے قبول کر لو ، کیونکہ یہ وہ رزق ہو گا ، جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مطلب بن عبداللہ نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اس کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ مطلب بن عبداللہ نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، اس کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سماع کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4555
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ قُلْتَ لِي : " إِنَّ خَيْرًا لَكَ أَنْ لَا تَسْأَلَ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ شَيْئًا " . قَالَ : " إِنَّمَا ذَاكَ أَنْ تَسْأَلَ ، وَمَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ رَزَقَكَهُ اللَّهُ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا تھا : تمہارے لئے زیادہ بہتر یہ ہے کہ تم لوگوں سے کچھ نہ مانگنا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ حکم اس صورت میں ہے ، جب تم کچھ مانگ رہے ہو ، جب اللہ تعالیٰ تمہیں مانگے بغیر کوئی چیز عطا کرے ، تو یہ وہ رزق ہو گا ، جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا کیا ہو گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4556
وَعَنْ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ بَلَغَهُ مِنْ أَخِيهِ مَعْرُوفٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافِ نَفْسٍ فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يَرُدَّهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا : " مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ مِنْ أَخِيهِ " . وَقَالَ أَحْمَدُ : عَنْ أَخِيهِ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا خالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب کسی شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر کوئی چیز مل جائے ، تو آدمی کو اسے قبول کر لینا چاہیے اور اسے مسترد نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ یہ وہ رزق ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم ان دونوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جس شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی پہنچے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ امام أحمد نے یہ لفظ نقل کیے عن اخیہ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم ان دونوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جس شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے کوئی بھلائی پہنچے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ۔ امام أحمد نے یہ لفظ نقل کیے عن اخیہ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4557
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ آتَاهُ شَيْئًا مِنْ هَذَا الْمَالِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَسْأَلَهُ فَلْيَقْبَلْهُ ، فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کو اس مال میں سے کچھ مانگے بغیر مل جاتا ہے ، تو آدمی کو اسے قبول کر لینا چاہیے ، کیونکہ یہ وہ رزق ہو گا ، جو اللہ تعالیٰ نے اُس کی طرف بھیجا ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4558
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْوَالِ السُّلْطَانِ قَالَ : " مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَخُذْهُ وَتَمَوَّلْهُ " . ¤ وَقَالَ الْحَسَنُ : لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ يَرْحَلْ إِلَيْهَا أَوْ يُشْرِفْ لَهَا . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنَّا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَكُلْهُ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاکم وقت کی طرف ملنے والے مال کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تو وہ ( مال ) مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہو ، تو تم وہ لے لو اور اس کے ذریعے تم مال میں اضافہ کرو ۔ حسن فرماتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، جبکہ آدمی اس صورت میں چل کر اس مال کی طرف نہ گیا ہو ، یا اس کے دل میں اس کے لئے لالچ نہ ہو ۔ ” ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ہم میں سے ، جس کی طرف سے ، اللہ تعالیٰ تمہیں مانگے بغیر مال عطا کر دے ، تو تم اُسے کھا لو ( یعنی حاصل کر لو ! “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4559
وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ عَرَضَ لَهُ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ ، فَلْيَتَوَسَّعْ بِهِ فِي رِزْقِهِ ، فَإِنْ كَانَ عَنْهُ غَنِيًّا فَلْيُوَجِّهْهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ : " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ شَيْءٌ " . وَأَسْقَطَ أَحْمَدُ : " شَيْءٌ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ : سَأَلْتُ أَبِي : مَا الْإِشْرَافُ ؟ قَالَ : تَقُولُ فِي نَفْسِكَ : سَيَبْعَثُ إِلَيَّ فُلَانٌ ، سَيَصِلُنِي فَلَانٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کے سامنے اس رزق میں سے کوئی چیز ، مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر آئے ، تو اُسے اس کے ذریعے اپنے مال میں کشادگی کرنی چاہیے ، اگر وہ خود اس سے بے نیاز ہو ، تو وہ چیز اس شخص کو دے دینی چاہیے ، جو اس سے زیادہ اس کا محتاج ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جس شخص کے سامنے اُس رزق میں سے کوئی چیز پیش کی جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ امام أحمد نے لفظ ” شی “ نقل نہیں کیا ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ عبداللہ بن أحمد کہتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : ” اشراف “ ( یعنی لالچ ) سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ کہ تم اپنے دل میں یہ سوچو کہ عنقریب فلاں شخص میری طرف کچھ بھیج دے گا ، یا عنقریب فلاں شخص مجھ تک کچھ پہنچا دے گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جس شخص کے سامنے اُس رزق میں سے کوئی چیز پیش کی جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ امام أحمد نے لفظ ” شی “ نقل نہیں کیا ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ عبداللہ بن أحمد کہتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : ” اشراف “ ( یعنی لالچ ) سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ کہ تم اپنے دل میں یہ سوچو کہ عنقریب فلاں شخص میری طرف کچھ بھیج دے گا ، یا عنقریب فلاں شخص مجھ تک کچھ پہنچا دے گا ۔
حدیث نمبر: 4560
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ مِنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يَرُدَّهُ ; فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو يَعْلَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر کوئی بھلائی پہنچے ، تو اُسے اس کو قبول کرنا چاہیے اور اسے واپس نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ وہ ( ایسا ) رزق ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، انہوں نے اسے أحمد بن ابراہیم موصلی سے نقل کیا ہے ، وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، انہوں نے اسے أحمد بن ابراہیم موصلی سے نقل کیا ہے ، وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔