کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اوپر والے ہاتھ کا بیان اور صلہ رحمی کا زیادہ حق دار کون ہے ؟
حدیث نمبر: 4533
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ : فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا ، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا ، وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَزَادَ : " وَيَدُ السَّائِلِ السُّفْلَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، فَاسْتَعِفَّ عَنِ السُّؤَالِ وَعَنِ الْمَسْأَلَةِ مَا اسْتَطَعْتَ ، فَإِنْ أُعْطِيتَ شَيْئًا - أَوْ قَالَ : خَيْرًا - فَلْيُرَ عَلَيْكَ ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، وَارْضَخْ مِنَ الْفَضْلِ ، وَلَا تُلَامُ عَلَى الْعَفَافِ " . وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ اوپر والا ہے ، دینے والے کا ہاتھ اس کے بعد والا ہے ، اور مانگنے کے والے ہاتھ نیچے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” مانگنے والے کا ہاتھ ، قیامت کے دن تک نیچے والا رہے گا ، تم مانگنے سے اور سوال کرنے سے بچو ! جہاں تک تم سے ہو سکے اگر تمہیں کچھ دیا جائے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اگر بھلائی دی جائے ، تو وہ تم پر نظر آنی چاہیے اور تم اپنے زیر کفالت پر خرچ کا آغاز کرو ، اور تم اضافی چیز کو عطیہ کر دو ، اور مانگنے سے بچنے پر ملامت نہیں کی جاتی ہے “ ۔ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4533
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (5152) اخرجه الامام احمد فى المسند (4261)»
حدیث نمبر: 4534
وَعَنْ عَطِيَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْيَدُ الْمُعْطِيَةُ خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ عَطِيَّةَ : أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ قَوْمِهِ ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هَلْ قَدِمَ مَعَكُمْ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، فَتًى خَلَّفْنَاهُ عَلَى رِحَالِنَا ، قَالَ : " أَرْسِلُوا إِلَيْهِ " . فَلَمَّا أُدْخِلْتُ عَلَيْهِ وَهُمْ عِنْدَهُ اسْتَقْبَلَنِي ، فَقَالَ : " إِنَّ الْيَدَ الْمُنْطِيَةَ هِيَ الْعُلْيَا ، وَإِنَّ الْيَدَ السَّائِلَةَ هِيَ السُّفْلَى ، وَمَا اسْتَغْنَيْتَ فَلَا تَسَلْ ، فَإِنَّ مَالَ اللَّهِ مَسْئُولٌ وَمُنْطًى " . فَكَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُلْغَتِي ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دینے والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” وہ اپنی قوم کے وفد کے ہمراہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہارے ساتھ کوئی ایسا فرد بھی آیا ہے ، جو تمہارے علاوہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! ایک نوجوان ہے ، جسے ہم اپنے پیچھے اپنی سواریوں میں چھوڑ کے آئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پیغام بھیج کر اسے بلواؤ ! جب مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، تو میرے ساتھی آپ کے پاس موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا استقبال کیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : منطیہ ( یعنی دینے والا ) ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے ، اور مانگنے والا ہاتھ نیچے والا ہوتا ہے ، جب تک تم بے نیاز ہو ، تم نہ مانگو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ کا مال ، اس کے بارے میں حساب بھی لیا جائے گا ، اور وہ دیا بھی جائے گا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے محاور ے کے مطابق بات چیت کی “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4534
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (167، 166/17) اخرجه الامام احمد فى المسند (226/4) اخرجه الامام البزار فى المسند (916)»
حدیث نمبر: 4535
وَعَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ : " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ; أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، وَأَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت خطبہ دے رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” دینے والا ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے ( تم خرچ کرتے ہوئے ، یوں خرچ کرو ، کہ پہلے ) تمہاری ماں ، تمہارا باپ ، تمہارا بھائی ، پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، تاہم وہ اختلاط کا شکار ہوا تھا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4535
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (283/22) اخرجه الامام احمد فى المسند (7105)»
حدیث نمبر: 4536
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنَى يَرْبُوعٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ; أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، وَأَدْنَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
بنویر بوع سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” دینے والا ہاتھ اوپر والا ہاتھ ہوتا ہے ( تم خرچ کرتے ہوئے یوں خرچ کرو ، کہ پہلے ) تمہاری ماں ، تمہارا باپ ، تمہارا بھائی ، تمہاری بہن اور پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز ہوں“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4536
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (377/5،64/4)»
حدیث نمبر: 4537
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبُوعِيِّ ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ يَقُولُ : " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ; أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ فَأَخَاكَ ، وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَذُكِرَ بِأَسَانِيدَ أُخَرَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ مِثْلَهُ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثعلبہ بن زہدم یربوعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” دینے والا ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے ( تم یوں خرچ کرو ) تمہاری ماں ، تمہارا باپ ، تمہاری بہن ، اور تمہارا بھائی اور پھر درجہ بدرجہ تمہارے قریبی عزیز “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، دیگر اسانید کے ساتھ یہ روایت اسود بن ثعلبہ کے حوالے سے منقول ہے ، انہوں نے اس کی مانند نقل کی ہے ، ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ، تاہم پہلی روایت کے رجال ، صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4537
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1384) اخرجه الامام البزار فى المسند (918917)»
حدیث نمبر: 4538
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے ، اور تم خرچ کا آغاز اپنے زیر کفالت ( افراد ) سے کرو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے محمد بن عبداللہ تمیمی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4538
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 4539
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ طَرِيقٌ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اوپر والا ہاتھ ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے ، اور تم خرچ کا آغاز اُس سے کرو ، جو تمہارے زیر کفالت ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کا ایک اور طریق ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4539
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4540
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ، وَيَدُ الْآخِذِ السُّفْلَى إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے ، لینے والے کا ہاتھ نیچے والا ہوتا ہے ، ایسا قیامت کے دن تک رہے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حماد بن شعیب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4540
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4403)»
حدیث نمبر: 4541
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا أَبْقَتْ غِنًى ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجُفْرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سب سے بہتر صدقہ وہ ہے ، جو خوشحالی باقی رہنے دے ، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے ، اور تم خرچ کا آغاز اُس سے کرو ، جس کی تم کفالت کرتے ہو“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جفری ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4541
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12726)»
حدیث نمبر: 4542
وَعَنْ عِمْرَانَ ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ : أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران رضی اللہ عنہ اور سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اوپر والا ہاتھ ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ، اور تم خرچ کا آغاز اُس سے کرو ، جس کی تم کفالت کرتے ہو ، تمہاری ماں اور تمہارا باپ اور پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4542
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (149/18)»
حدیث نمبر: 4543
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، وَلْيَبْدَأْ أَحَدُكُمْ بِمَنْ يَعُولُ ، وَخَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ يُعِفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اوپر والا ہاتھ نیچے والے سے بہتر ہوتا ہے ، تم میں سے کوئی ایک شخص ( خرچ کا ) آغاز اس سے کرے ، جس کی وہ کفالت کرتا ہے ، سب سے بہتر صدقہ وہ ہے ، جو کرنے کے بعد آدمی خوشحال رہے ، جو شخص مانگنے سے بچتا ہے ، اللہ تعالی اُسے بچا کے رکھتا ہے ، جو شخص ( لوگوں سے ) بے نیازی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالی اسے بے نیاز رکھتا ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جو شخص مانگنے سے بچتا ہے ، اللہ تعالیٰ اُسے بچا کے رکھتا ہے ، اور جو شخص ( لوگوں سے ) بے نیازی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالی اسے بے نیاز رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4543
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3093،3092،3091) اخرجه الامام احمد فى المسند (434، 403/3)»
حدیث نمبر: 4544
وَعَنْ عَدِيٍّ الْجُذَامِيِّ أَنَّهُ لَقِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَانَتْ لِي امْرَأَتَانِ فَاقْتَتَلَتَا ، فَرَمَيْتُ إِحْدَاهُمَا فَقَتَلْتُهَا فَقَالَ : " اعْقِلْهَا وَلَا تَرِثْهَا " فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ [حَمْرَاءَ] جَدْعَاءَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، تَعَلَّمُوا فَإِنَّمَا الْأَيْدِي ثَلَاثَةٌ : فَيَدُ اللَّهِ الْعُلْيَا ، وَيَدُ الْمُعْطِي الْوُسْطَى ، وَيَدُ الْمُعْطَى السُّفْلَى ، فَتَعَفَّفُوا وَلَوْ بِحُزَمِ الْحَطَبِ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ [ أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ ]" . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي الْفَرَائِضِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی جذامی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ ایک سفر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری دو بیویاں تھیں ، اُن دونوں کی لڑائی ہوئی ، میں نے اُن دونوں میں سے ایک کو مار کے اسے قتل کر دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس کی دیت دو گے اور تم اُس کے وارث نہیں بنو گے ، راوی کہتے ہیں : یہ منظر آج بھی میری نگاہ میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سرخ اونٹنی جدعاء پر سوار تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے : ” اے لوگو ! تم لوگ یہ بات جان لو کہ ہاتھ تین قسم کے ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا ہاتھ سب سے اوپر والا ہے ، دینے والے کا ہاتھ درمیانی ہے ، اور لینے والے کا ہاتھ نیچے والا ہے ، تو تم مانگنے سے بچو ! خواہ لکڑیاں اکھٹی کر کے کرو ، خبردار ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ خبردار ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی ایک اور سند بھی ہے ، جو فرائض سے متعلق باب میں آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4544
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (110/17) . اخرجه ابو يعلى فى المسند *(6859)»