حدیث نمبر: 4502
عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ : رُبَّمَا سَقَطَ الْخِطَامُ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ : فَيَضْرِبُ بِذِرَاعِ نَاقَتِهِ فَيُنِيخُهَا فَيَأْخُذُهُ . قَالَ : فَقَالُوا لَهُ : أَفَلَا أَمَرْتَنَا فَنُنَاوِلْكَهُ . قَالَ : إِنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَا بَكْرٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ فِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : بعض اوقات سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے لگام گر جاتی تھی ، تو وہ اپنی کلائی کے ذریعے اپنی اونٹنی کو مار کر اسے بٹھاتے تھے ، پھر وہ اس لگام کو خود اٹھاتے تھے ، لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے ہمیں حکم دینا تھا ، ہم یہ آپ کو پکڑا دیتے ، تو انہوں نے فرمایا : میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، ابن ابوملیکہ نامی راوی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، عبداللہ بن مومل نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، ابن ابوملیکہ نامی راوی نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، عبداللہ بن مومل نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4503
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا وَوَاثَقَنِي سَبْعًا ، وَأَشْهَدَ اللَّهَ عَلَيَّ تِسْعًا : أَنِّي لَا أَخَافُ فِي اللَّهَ لَوْمَةَ لَائِمٍ . ¤ قَالَ أَبُو الْمُثَنَّى : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " هَلْ لَكَ فِي الْبَيْعَةِ وَلَكَ الْجَنَّةُ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . وَبَسَطْتُ يَدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " وَلَا سَوْطَكَ إِنْ سَقَطَ مِنْكَ حَتَّى تَنْزِلَ فَتَأْخُذَهُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ چیزوں کے حوالے سے مجھ سے بیعت لی تھی ، سات چیزوں کے حوالے سے مجھ سے پختہ عہد لیا تھا ، اور نو چیزوں کے حوالے سے اللہ تعالٰی کو گواہ بنایا تھا ۔ یہ کہ میں اللہ تعالی کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا ۔ ابومثنی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا : کیا تم بیعت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ تمہیں جنت ملے گی ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! پھر میں نے ہاتھ پھیلایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر شرط عائد کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی کہ میں کبھی لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا ، میں نے عرض کی : ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہاں تک کہ اگر تمہاری چھڑی گر جائے گی ، تو وہ بھی نہیں مانگو گے ، بلکہ خود اتر کر اسے پکڑو گے ۔
حدیث نمبر: 4504
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سِتَّةُ أَيَّامٍ ثُمَّ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ بَعْدُ " . فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ قَالَ : " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ ، وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ ، وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ ، وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً [ وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ ] . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چھ دن ہیں ، اے ابوذر ! سمجھ لو کہ اُس کے بعد تم سے کیا کہا: جائے گا ؟ جب ساتواں دن آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اپنے معاملے کے پوشیدہ اور علانیہ ، ہر حوالے سے ، اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں ، جب تم کوئی برائی کرو ، تو اچھائی بھی کر لو ، اور کبھی تم کسی سے کوئی چیز نہ مانگنا ، خواہ تمہاری چھڑی گر جائے ، اور تم امانت قبضے میں نہ لینا ، اور تم دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دینا “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4505
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُبَايِعُ ؟ " . فَقَالَ ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : [عَلَى مَ نُبَايِعُ ؟ أَلَيْسَ قَدْ بَايَعْنَاكَ مَرَّةً] يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَى أَنْ لَا تَسْأَلُوا أَحَدًا شَيْئًا " . فَقَالَ ثَوْبَانُ : فَمَا لَهُ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " . فَبَايَعَهُ ثَوْبَانُ . قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بِمَكَّةَ فِي أَجْمَعِ مَا يَكُونُ مِنَ النَّاسِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ ، وَهُوَ رَاكِبٌ فَرُبَّمَا وَقَعَ عَلَى عَاتِقِ رَجُلٍ فَيَأْخُذُهُ الرَّجُلُ فَيُنَاوِلُهُ فَمَا يَأْخُذُهُ مِنْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَنْزِلُ فَيَأْخُذُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون بیعت کرے گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم کس بات پر بیعت کریں ؟ کیا ہم ایک مرتبہ آپ کی بیعت کر نہیں چکے ہیں ؟ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بات پر کہ تم کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگو گے ، سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے عوض میں آدمی کو کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت ، تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کو مکہ میں دیکھا کہ وہ لوگوں کے ہجوم میں موجود تھے ، ان کی چھڑی گر گئی ، وہ سوار تھے ، ان کی چھڑی کسی شخص کے کندھے پر گری تھی ، اُس شخص نے اسے لیا اور انہیں پکڑانا چاہا ، تو انہوں نے اس سے نہیں لی ، یہاں تک کہ وہ خود نیچے اترے اور انہوں نے خود وہ اُٹھائی ۔
حدیث نمبر: 4506
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَرَفَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فَقَالَ : " مَنْ يُبَايِعُنِي ؟ " - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَلَمْ يَقُمْ إِلَيْهِ أَحَدٌ إِلَّا ثَوْبَانُ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کچھ اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک بلند کیا ، اور ارشاد فرمایا : کون میری بیعت کرے گا ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، تو کوئی اُٹھ کر آپ کی طرف نہیں آیا ، صرف سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4507
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ : بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ ، وَأَنْ أَدْنُوَ مِنْهُمْ ، وَأَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنِّي ، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي ، وَأَنْ أَصِلَ رَحِمِي وَإِنْ جَفَانِي ، وَأَنْ أُكْثِرَ مِنْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ، وَأَنْ أَتَكَلَّمَ بِمُرِّ الْحَقِّ ، وَلَا تَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ، وَأَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَأَظُنُّهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَلَهُ طَرِيقٌ تَأْتِي فِي مَوَاضِعِهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ الشَّعْبِيَّ لَمْ أَجِدْ لَهُ سَمَاعًا مِنْ أَبِي ذَرٍّ . ¤
محمد محی الدین
حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل ﷺ نے مجھے سات باتوں کی تلقین کی تھی : مساکین سے محبت رکھنا ‘ یہ کہ میں ان کے قریب رہوں ‘ یہ کہ میں اپنے سے نیچے والے فرد کی طرف دیکھوں ‘ اپنے سے اوپر والے شخص کی طرف نہ دیکھوں ‘ یہ کہ میں صلہ رحمی کروں ‘ اگرچہ رشتہ دار میرے ساتھ زیادتی کریں ، یہ کہ میں لا حول ولا قوۃ الا بااللہ کثرت سے پڑھوں ‘ یہ کہ میں حق بات کہوں خواہ وہ کڑوی ہو ‘ اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کروں ‘ اور یہ کہ میں لوگوں سے کچھ نہ مانگوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، معجم صغیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اس کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ اسے امام احمد نے بھی روایت کیا ہے ‘ اس کی ایک اور سند ہے ‘ جو دوسرے مقام پر آئے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ البتہ میں نے امام شعبی کے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع سے متعلق کوئی روایت نہیں پائی ہے ۔
حدیث نمبر: 4508
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمُ صَاحِبُ الْمَسْأَلَةِ مَا لَهُ فِيهَا لَمْ يَسْأَلْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قَابُوسُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اگر مانگنے والے کو یہ پتہ چل جائے کہ مانگنے میں اس کو کیا ملے گا ؟ تو وہ کبھی نہ مانگے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قابوس ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قابوس ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق کی بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4509
وَعَنْ أُمِّ سِنَانٍ الْأَسْلَمِيَّةِ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُبَايِعَاتِ قَالَتْ : جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي جِئْتُكَ عَلَى حَيَاءٍ ، وَمَا جِئْتُكَ حَتَّى أُلْجِئْتُ مِنَ الْحَاجَةِ . فَقَالَ : " لَوِ اسْتَغْنَيْتِ لَكَانَ خَيْرًا لَكِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ صَالِحٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سنان اسلمیہ رضی اللہ عنہ ، جو بیعت کرنے والی خواتین میں سے ایک ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں شرمندگی کے عالم میں آپ کے پاس آئی ہوں اور میں آپ کے پاس اُس وقت آئی ہوں ، جب ضرورت کی وجہ سے میں مجبور ہو گئی ہوں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر تم بے نیازی اختیار کرتیں ، تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہوتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر بن صالح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر بن صالح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4510
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْتَغْنُوا عَنِ النَّاسِ ، وَلَوْ بِشَوْصِ السِّوَاكِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگوں سے بے نیاز رہو ! خواہ وہ ایک مسواک کے حوالے سے ہی کیوں نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4511
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلًا فَيَأْكُلَ ، وَيَتَصَدَّقَ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ ، أَوْ مَنَعُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک شخص رسی لے ( کر لکڑیاں اکٹھی کر کے انہیں فروخت کر کے ) ، خود بھی اُسے کھائے اور صدقہ بھی کرے ، یہ اُس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے ، کہ وہ لوگوں سے مانگے ، اور وہ اُسے دیں یا نہ دیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4512
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَاهُ فَقَالَ : " اذْهَبَا إِلَى هَذِهِ الشُّعُوبِ فَاحْتَطِبَا فَبِيعَاهُ " . فَذَهَبَا فَاحْتَطَبَا ، ثُمَّ جَاءَا فَبَاعَا ، فَأَصَابَا طَعَامًا ، ثُمَّ ذَهَبَا فَاحْتَطَبَا أَيْضًا ، فَجَاءَا فَلَمْ يَزَالَا حَتَّى ابْتَاعَا ثَوْبَيْنِ ثُمَّ ابْتَاعَا حِمَارَيْنِ فَقَالَا : قَدْ بَارَكَ اللَّهُ لَنَا فِي أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے آپ سے کچھ مانگا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم دونوں ان گھاٹیوں میں جاؤ اور وہاں سے کچھ لکڑیاں اکھٹی کر کے انہیں فروخت کرو ، وہ دونوں چلے گئے انہوں نے لکڑیاں اکھٹی کیں ، پھر وہ آئے اور انہوں نے انہیں فروخت کر دیا ، انہیں اناج حاصل ہوا ، پھر وہ دونوں گئے ، انہوں نے پھر لکڑیاں اکٹھی کیں ، پھر وہ آئے ، وہ مسلسل ایسا کرتے رہے ، یہاں تک کہ انہوں نے دو کپڑے بھی خرید لئے ، پھر انہوں نے دو گدھے بھی خرید لئے اُن دونوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم میں ، اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے برکت رکھ دی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن حرب ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4513
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَتْ لِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ ، فَلَمَّا فُتِحَتْ قُرَيْظَةُ جِئْتُ لِيُنْجِزَ لِي مَا وَعَدَنِي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَمَنْ يَقْنَعْ يُقْنِعْهُ اللَّهُ " . فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : لَا جَرَمَ ، لَا أَسْأَلُهُ شَيْئًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو سَلَمَةَ قِيلَ : إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین
ابوسلمہ بن عبدالرحمن ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہوا تھا ، جب قریظہ فتح ہوا ، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تاکہ آپ نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ پورا کر دیں ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص بے نیازی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالی اسے بے نیاز رکھتا ہے ، جو شخص قناعت حاصل کرنا چاہتا ہے ، اللہ تعالی اسے قناعت عطا کر دیتا ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو میں نے دل میں سوچا کہ یہ تو ضروری ہے کہ میں اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، ابوسلمہ نامی راوی کے بارے میں یہ بات بیان کی گئی ہے : انہوں نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، ابوسلمہ نامی راوی کے بارے میں یہ بات بیان کی گئی ہے : انہوں نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4514
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً عَنْ ظَهْرِ غِنًى اسْتَكْثَرَ بِهَا مِنْ رَضْفِ جَهَنَّمَ " . قَالُوا : وَمَا ظَهْرُ غِنًى ؟ قَالَ : " عَشَاءُ لَيْلَةٍ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ . وَالْحَسَنُ - وَإِنْ أَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ - فَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ حَبِيبٍ . بَيْنَهُمَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، كَمَا حَكَاهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ ، عَنِ ابْنِ صَاعِدٍ ، وَعُمَرُو بْنُ خَالِدٍ كَذَّبَهُ أَحْمَدُ ، وَابْنُ مَعِينٍ ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود کچھ مانگتا ہے ، تو وہ اس کے ذریعے جہنم کے انگاروں میں اضافہ کرتا ہے “ لوگوں نے عرض کی : خوشحال ہونے سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : رات کا کھانا موجود ہونا “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں یہ بات مذکور ہے : اسے حسن بن ذکوان نے حبیب بن ابوثابت سے نقل کیا ہے ، حسن نامی راوی کے حوالے سے اگرچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت نقل کیا ہے ، لیکن ایک سے زیادہ افراد نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، اور اس نے حبیب سے سماع بھی نہیں کیا ہے ان دونوں کے درمیان ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے ، جیسا کہ ابن عدی نے یہ بات کتاب ” الکامل “ میں ابن صاعد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ عمرو بن خالد نامی راوی کو امام أحمد ، یحیی بن معین اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں یہ بات مذکور ہے : اسے حسن بن ذکوان نے حبیب بن ابوثابت سے نقل کیا ہے ، حسن نامی راوی کے حوالے سے اگرچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت نقل کیا ہے ، لیکن ایک سے زیادہ افراد نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، اور اس نے حبیب سے سماع بھی نہیں کیا ہے ان دونوں کے درمیان ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے ، جیسا کہ ابن عدی نے یہ بات کتاب ” الکامل “ میں ابن صاعد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ عمرو بن خالد نامی راوی کو امام أحمد ، یحیی بن معین اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4515
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَقَدْ سَمِعَتُ فُلَانًا ، وَفُلَانًا يُحْسِنَانِ الثَّنَاءَ يَذْكُرَانِ أَنَّكَ أَعْطَيْتَهُمَا دِينَارَيْنِ قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَاللَّهِ لَكِنَّ فُلَانًا مَا هُوَ كَذَلِكَ ، لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ فَمَا يَقُولُ ذَلِكَ ! ! أَمَا وَاللَّهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَخْرُجُ بِمَسْأَلَتِهِ مِنْ عِنْدِي يَتَأَبَّطُهَا - يَعْنِي : يَكُونُ تَحْتَ إِبِطِهِ - يَعْنِي نَارًا - " . قَالَ : قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لِمَ تُعْطِيهَا إِيَّاهُمْ ؟ قَالَ : " فَمَا أَصْنَعُ ؟ يَأْبَوْنَ إِلَّا ذَاكَ ، وَيَأْبَى اللَّهُ لِي الْبُخْلَ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " لَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ الْعَشَرَةِ إِلَى الْمِائَةِ ، أَوْ قَالَ الْمِائَتَيْنِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے فلاں شخص کو اور فلاں شخص کو سنا کہ وہ تعریف کر رہے تھے ، اور یہ ذکر کر رہے تھے کہ آپ نے ان لوگوں کو دو دینار عطا کیے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! لیکن فلاں شخص کا معاملہ تو اس طرح نہیں ہے ، میں نے اُسے دس سے لے کر ، ایک سو کے درمیان ( دینار ) دیے ہیں ، وہ ایسا کیوں کہہ رہا ہے ؟ اللہ کی قسم ! تم میں سے کوئی ایک شخص مانگ کر میرے پاس سے کوئی چیز لے لیتا ہے ، جسے وہ اپنی بغل کے نیچے دبا لیتا ہے ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ اُسے بغل کے نیچے دبا لیتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ وہ چیز اُس کے لئے آگ ہوتی ہے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر آپ وہ چیز انہیں دیتے کیوں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں کیا کروں ؟ وہ لوگ اس پر اصرار کرتے ہیں اور اللہ تعالی نے میرے لئے بخل سے انکار کیا ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” میں نے اُسے دس سے لے کر ایک سو کے درمیان ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو سو کے درمیان ( دینار عطا کیے ہیں ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” مسیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” مسیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4516
وَعَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : دَخَلَ رَجُلَانِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلَانِهِ فِي شَيْءٍ ، فَأَعَانَهُمَا بِدِينَارَيْنِ ، فَخَرَجَا فَإِذَا هُمَا يُثْنِيَانِ خَيْرًا ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، رَأَيْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا خَرَجَا مِنْ عِنْدِكَ يُثْنِيَانِ خَيْرًا . قَالَ : " لَكِنَّ فُلَانًا مَا يَقُولُ ذَلِكَ ، وَقَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا بَيْنَ عَشَرَةٍ إِلَى مِائَةٍ فَمَا يَقُولُ ذَلِكَ ؟ وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَخْرُجُ بِصَدَقَتِهِ مِنْ عِنْدِي مُتَأَبِّطُهَا وَإِنَّمَا هِيَ لَهُ نَارٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَيْفَ تُعْطِيهِ وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّهَا لَهُ نَارٌ ؟ قَالَ : " فَمَا أَصْنَعُ ؟ يَأْتُونِي يَسْأَلُونِي ، وَيَأْبَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِيَ الْبُخْلَ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : دو آدمی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دینار کے ذریعے ان کی مدد کی ، پھر وہ دونوں نکلے ، تو وہ دونوں تعریف کر رہے تھے ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : میں نے فلاں اور فلاں کو دیکھا ، وہ دونوں آپ کے پاس سے نکلے اور وہ دونوں تعریف کر رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ؛ لیکن فلاں کو تو یہ بات نہیں کہنی چاہیئے ، اُسے تو میں نے دس سے لے کر ایک سو کے درمیان کی رقم عطا کی ہے وہ ایسا کیوں کہہ رہا تھا ؟ تم میں سے کوئی ایک شخص میرے پاس سے کوئی چیز لے کر بغل میں دبا کے نکلتا ہے ، اور وہ چیز اس کے لئے آگ ہوتی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پھر آپ اسے کیوں دے دیتے ہیں ؟ جبکہ آپ یہ بات جانتے ہیں ، وہ چیز اس کے لئے آگ ہوتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر میں کیا کروں ؟ وہ میرے پاس آ کر مجھ سے مانگتے ہیں اور اللہ تعالیٰ میرے لئے بخل سے انکار کرتا ہے ( یعنی اسے میری طرف سے بخل منظور نہیں ہے ) ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4517
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ أَنَّهُ قَالَتْ لَهُ أُمُّهُ : أَلَا نَنْطَلِقُ فَنَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا يَسْأَلُهُ النَّاسُ ؟ فَانْطَلَقْتُ أَسْأَلُهُ فَوَجَدْتُهُ قَائِمًا يَخْطُبُ ، وَهُوَ يَقُولُ : " مَنِ اسْتَعَفَّ أَعَفَّهُ اللَّهُ ، وَمَنِ اسْتَغْنَى أَغْنَاهُ اللَّهُ ، وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ وَلَهُ عِدْلُ خَمْسِ أَوَاقٍ فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا " . قَالَ : فَقُلْتُ - بَيْنِي وَبَيْنَ نَفْسِي - : لَنَاقَةٌ لَهَا خَيْرٌ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ ، وَلِفُلَانَةَ نَاقَةٌ أُخْرَى خَيْرٌ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
جعفر بن عبداللہ بن حکم نے ، اپنے والد کے حوالے سے ، مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص ( یعنی صحابی ) کے بارے میں یہ ذکر کیا ہے کہ اُس کی والدہ نے اُس سے کہا: کیا ہم چلیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ مانگیں نہیں ؟ جس طرح لوگ آپ سے مانگتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میں روانہ ہوا ، تاکہ کچھ مانگوں ، تو میں نے آپ کو کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے پایا ، آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : ” جو شخص مانگنے سے بچتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے بچا کے رکھتا ہے ، جو شخص بے نیازی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالی اسے بے نیازی عطا کرتا ہے ، جس شخص کے پاس پانچ اوقیہ کے برابر رقم موجود ہو ، تو وہ لپٹ کر مانگنے والا شمار ہوتا ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے سوچا اس خاتون ( یعنی میری والدہ ) کے پاس ، جو اونٹنی ہے ، وہ تو پانچ اوقیہ سے زیادہ بہتر ہے ، اور فلاں خاتون کے پاس جو اونٹنی ہے ، وہ بھی پانچ اوقیہ سے زیادہ بہتر ہے ، تو میں واپس آ گیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہیں مانگا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4518
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَفْتَحْ أَحَدُكُمْ عَلَى نَفْسِهِ بَابَ مَسْأَلَةٍ إِلَّا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ بَابَ فَقْرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، وَالْعَلَاءِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی شخص اپنی ذات کے حوالے سے مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے ، تو اللہ تعالی اس پر غربت کا دروازہ کھول دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے محمد بن عبدالرحمن کے حوالے سے ، سہیل اور العلاء سے نقل کی ہے ، اور میں اُس سے واقعہ نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے محمد بن عبدالرحمن کے حوالے سے ، سہیل اور العلاء سے نقل کی ہے ، اور میں اُس سے واقعہ نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 4519
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ يَرْفَعُ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تُلِحُّوا فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَإِنَّهُ مَنْ يَسْتَخْرِجْ مِنَّا بِهَا شَيْئًا لَمْ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مانگتے ہوئے آہ وزاری نہ کرو ! کیونکہ جو شخص اس طرح ہم سے کوئی چیز نکلواتا ہے ، اس کے لئے اُس چیز میں برکت نہیں رکھی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4520
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعَ سَأَلَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ بِهِ لَهُمَا ، وَخَتَمَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَيْهِمَا . قَالَ : فَأَمَّا عُيَيْنَةَ فَقَالَ : مَا فِيهِ ؟ فَقَالَ : فِيهِ الَّذِي أُمِرْتُ بِهِ ، فَقَبِلَهُ وَعَقَدَهُ فِي عِمَامَتِهِ ، وَكَانَ أَحْلَمَ الرَّجُلَيْنِ ، وَأَمَّا الْأَقْرَعُ فَقَالَ : أَحْمِلُ صَحِيفَةً لَا أَدْرِي مَا فِيهَا كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ ، فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِمَا ، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ فَمَرَّ بِبَعِيرٍ مُنَاخٍ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ ثُمَّ مَرَّ بِهِ فِي آخِرِ النَّهَارِ ، فَقَالَ : " أَيْنَ صَاحَبُ هَذَا الْبَعِيرِ ؟ " . فَابْتُغِي فَلَمْ يُوجَدْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقُوا اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهَائِمِ ارْكَبُوهَا صِحَاحًا ، وَارْكَبُوهَا سِمَانًا كَالْمُتَسَخِّطِ آنِفًا إِنَّهُ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا يُغْنِيهِ ؟ قَالَ : " مَا يُغَدِّيهِ أَوْ يُعَشِّيهِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ ، وَجَعَلَ أَنِ الَّذِي قَالَ : أَحْمِلُ صَحِيفَةً كَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ هُوَ عُيَيْنَةُ عَلَى الْعَكْسِ مِنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنظلیہ انصاری رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : عیینہ اور اقرع نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ ان دونوں کے لئے کوئی تحریر لکھ دیں ، اور اس پر اللہ کے رسول نے مہر لگوا دی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ تحریر اُن دونوں کے حوالے کر دیں ، راوی بیان کرتے ہیں : جہاں تک عینیہ کا تعلق تھا ، تو اس نے دریافت کیا : اس میں کیا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس میں وہ چیز ہے ، جس کے بارے میں ، میں نے حکم دیا ہے ، تو اس نے اس تحریر کو قبول کیا ، اور اسے اپنے عمامے میں باندھ لیا ، وہ اُن دونوں افراد میں زیادہ بردبار تھا ، جہاں تک کہ اقرع کا تعلق ہے ، تو اس نے کہا: کیا میں ایسا صحیفہ اٹھا کے لے کر جاؤں ؟ جس کے بارے میں مجھے پتہ ہی نہیں ہے کہ اس میں کیا ہے ؟ یہ تو متلمس کے صحیفے کی مانند ہو جائے گا ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کے قول کے بارے میں بتایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں گزرے ، آپ ایک اونٹ کے پاس سے گزرے ، جو مسجد کے دروازے پر بیٹھا ہوا تھا ، یہ دن کے ابتدائی حصے کی بات ہے ، جب آپ دن کے آخری حصے میں اُس کے پاس سے گزرے ، تو آپ نے دریافت کیا : اس اونٹ والا شخص کہاں ہے ؟ اُسے تلاش کیا گیا ، لیکن وہ نہیں ملا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان جانوروں کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! تم ان پر اس وقت سواری کرو جب یہ صحیح ہوں ، اور اس وقت سواری کرو ، جب یہ موٹے تازے ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : جو شخص کچھ مانگے اور اس کے پاس ایسی چیز موجود ہو ، جو اسے ( مانگنے سے ) بے نیاز کر سکتی ہو ، تو وہ جہنم کے انگارے زیادہ کرنے والا ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا چیز اسے ( مانگنے سے ) بے نیاز کر سکتی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کا صبح یا شام کا کھانا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے مختصر طور پر نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ جس شخص نے یہ کہا: تھا : کیا میں ایک ایسا صحیفہ اٹھاؤں ، جو متلمس کے صحیفے کی مانند ہے ، وہ کہنے والا شخص عیینہ تھا ، یعنی یہ چیز اس روایت کے برعکس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے مختصر طور پر نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ جس شخص نے یہ کہا: تھا : کیا میں ایک ایسا صحیفہ اٹھاؤں ، جو متلمس کے صحیفے کی مانند ہے ، وہ کہنے والا شخص عیینہ تھا ، یعنی یہ چیز اس روایت کے برعکس ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4521
وَعَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْكُوفَةِ أَمِيرًا فَخَطَبَ فَقَالَ : إِنَّ فِي إِعْطَاءِ هَذَا الْمَالِ فِتْنَةً ، وَفِي إِمْسَاكِهِ فِتْنَةً ، وَلِذَلِكَ قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ نَزَلَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
مطرف بن عبدالله بن شخیر ، ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ کوفہ کے امیر تھے ، انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی : ” یہ مال دینا بھی فتنہ ہے ، اور اسے روک کے رکھنا بھی فتنہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کے ساتھ مصروف ہوتے تھے ( یعنی اس کو تقسیم کرنا شروع کرتے تھے ) تو اس سے فارغ ہو کر ہی منبر سے نیچے آتے تھے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4522
وَعَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً وَهُوَ عَنْهَا غَنِيٌّ كَانَتْ شَيْئًا فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کچھ مانگتا ہے ، حالانکہ وہ مانگنے سے بے نیاز ہو ، تو یہ چیز قیامت کے دن اُس کے چہرے پر ” کچھ “ ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4523
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ شَيْنٌ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَزَادَ : " وَمَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ نَارٌ ، إِنْ أُعْطِيَ قَلِيلًا فَقَلِيلٌ ، وَإِنْ أُعْطِيَ كَثِيرًا فَكَثِيرٌ " . ¤ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خوشحال شخص کا مانگنا ، قیامت کے دن اُس کے چہرے پر بے عزتی کا نشان ہو گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” خوشحال شخص کا مانگنا آگ ہے ، اگر اسے تھوڑا دیا جائے تو تھوڑی آگ ہو گی ، اور اگر زیادہ دیا جائے ، تو زیادہ آگ ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” خوشحال شخص کا مانگنا آگ ہے ، اگر اسے تھوڑا دیا جائے تو تھوڑی آگ ہو گی ، اور اگر زیادہ دیا جائے ، تو زیادہ آگ ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4524
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْمَسْأَلَةُ كُدُوحٍ فِي وَجْهِ صَاحِبِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَمَنْ شَاءَ اسْتَبْقَى عَلَى وَجْهِهِ ؟ ! وَأَهْوَنُ الْمَسْأَلَةِ مَسْأَلَةُ ذِي الرَّحِمِ يَسْأَلُهُ فِي حَاجَةٍ ، وَخَيْرُ الْمَسْأَلَةِ الْمَسْأَلَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنًى ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مانگنا ، اپنے مانگنے والے شخص کے لئے ، قیامت کے دن چہرے پر داغ ہو گا ، اب جو شخص چاہے ، وہ اپنے چہرے پر داغ کو باقی رکھے اور سب سے آسان مانگنا ، رشتے دار سے مانگنا ہے کہ آدمی اپنی حاجت کے سلسلے میں اس سے کچھ مانگ لے ، اور سب سے بہتر مانگنا ، وہ مانگنا ہے ( کہ جب آدمی دوسرے سے مانگے ، تو دینے والا اس کو دینے کے بعد ) خوشحال رہے ، اور تم اپنے زیر کفالت پر خرچ کرنے کا آغاز کرو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4525
وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ سَأَلَ وَهُوَ غَنِيٌّ عَنِ الْمَسْأَلَةِ يُحْشَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهِيَ خُمُوشٌ فِي وَجْهِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کچھ مانگتا ہے ، حالانکہ وہ مانگنے سے بے نیاز ہو ، تو قیامت کے دن جب اُسے اٹھایا جائے گا ، تو یہ چیز اس کے چہرے پر داغ ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4526
وَعَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَأَلَ مِنْ غَيْرِ فَقْرٍ فَكَأَنَّمَا يَأْكُلُ الْجَمْرَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص غربت نہ ہونے کے باوجود مانگتا ہے ، تو وہ گویا انگارے کھاتا ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4527
وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ سَأَلَ النَّاسَ فِي غَيْرِ مُصِيبَةٍ جَاحَتْهُ فَكَأَنَّمَا يَلْقَمُ الرَّضْفَةَ " . ¤ رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي إِسْنَادِ الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ . ¤
محمد محی الدین
ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص کسی مصیبت کے لاحق ہوئے بغیر لوگوں سے مانگتا ہے ، تو وہ گویا انگارہ چباتا ہے “ ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، پہلی روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، دوسری روایت میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ثوری اور شعبہ نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4528
وَعَنْ مَسْعُودِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَسْأَلُ وَهُوَ غَنِيٌّ حَتَّى يُخْلَقَ وَجْهُهُ ، فَمَا يَكُونُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ وَجْهٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مسعود بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بندہ مسلسل مانگتا رہتا ہے ، حالانکہ وہ خوش حال ہوتا ہے ، یہاں تک کہ اُس کا چہرہ بوسیدہ ( یا خراب ) ہو جاتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس کا کوئی چہرہ نہیں ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4529
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصْلُحُ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا مِنْ ذِي رَحِمٍ أَوْ سُلْطَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . وَلَهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ ، وَالتِّرْمِذِيِّ ، وَالنَّسَائِيِّ مِنْ رِوَايَةِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْهُ : " أَنَّ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا أَوْ فِي أَمْرٍ لَابُدَّ مِنْهُ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی خوشحال شخص کے لئے مانگنا جائز نہیں ہے ، البتہ وہ کسی رشتہ دار سے یا حاکم وقت سے مانگ سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اُسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اُن صحابی کے حوالے سے امام ابوداؤد امام ترمذی اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ایک روایت نقل کی ہے ، جو زید بن عقبہ نے اُن سے نقل کی ہے ۔ ( اُس کے الفاظ یہ ہیں : ) ” مانگنا ایک خراش ہے ، جو آدمی اپنے چہرے پر ڈال لیتا ہے ، البتہ اگر آدمی حاکم وقت سے مانگے ، یا کسی ایسی صورت حال میں مانگے ، جس میں مانگے بغیر چارہ نہ ہو ، تو معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اُسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اُن صحابی کے حوالے سے امام ابوداؤد امام ترمذی اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ایک روایت نقل کی ہے ، جو زید بن عقبہ نے اُن سے نقل کی ہے ۔ ( اُس کے الفاظ یہ ہیں : ) ” مانگنا ایک خراش ہے ، جو آدمی اپنے چہرے پر ڈال لیتا ہے ، البتہ اگر آدمی حاکم وقت سے مانگے ، یا کسی ایسی صورت حال میں مانگے ، جس میں مانگے بغیر چارہ نہ ہو ، تو معاملہ مختلف ہے “ ۔
حدیث نمبر: 4530
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ : قُلْتُ لَهُ : مَا لَكَ لَا تَطْلُبُهُ كَمَا يَطْلُبُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنْ وَرَاءَكُمْ عَقَبَةً كَؤُودًا لَا يَجُوزُهَا الْمُثْقِلُونَ ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَتَخَفَّفَ لِتِلْكَ الْعَقَبَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیده ام درداء رضی اللہ عنہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں : میں نے ان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ اس طرح نہیں طلب کرتے ہیں ، جس طرح فلاں اور فلاں طلب کر لیتے ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تمہارے آگے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے ، بوجھل لوگ اسے پار نہیں کر سکیں گے “ ۔ ( سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ اُس گھاٹی کے لئے ، میں ہلکا پھلکا رہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4531
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : جَاءَ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبَّاسَ فَحَفَنَ لَهُ ، قَالَ : " أَزِيدُكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، فَحَفَنَ لَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَزِيدُكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، فَحَفَنَ لَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَزِيدُكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَبْقِ لِمَنْ بَعْدَكَ " ثُمَّ دَعَانِي فَحَفَنَ لِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَيْرٌ لِي أَوْ شَرٌّ لِي ؟ قَالَ : " لَا بَلْ شَرٌّ لَكَ " ، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ مَا أَعْطَانِي ثُمَّ قُلْتُ : لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ عَطِيَّةً بَعْدَكَ . ¤ قَالَ مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ - : قَالَ حَكِيمٌ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُبَارِكَ لِي . قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَدِهِ " . ¤ قُلْتُ : لِحَكِيمٍ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بحرین سے کچھ مال آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں کچھ مال دیا ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا میں آپ کو مزید دوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزید دیا ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا میں آپ کو مزید دوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا میں آپ کو مزید دوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بعد والے کے لئے بھی باقی رہنے دیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور مجھے دیا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے ، یا برا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ تمہارے حق میں برا ہے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مجھے دیا تھا ، وہ میں نے آپ کو واپس کر دیا ، پھر میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں کبھی کسی سے کوئی عطیہ قبول نہیں کروں گا ۔ محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے برکت نصیب کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ” اے اللہ ! تو اس کے ہاتھ کے سودے میں ، اس کے لئے برکت رکھ دے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو ” صحیح “ میں منقول ہے ، وہ اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو ” صحیح “ میں منقول ہے ، وہ اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 4532
وَلَهُ عِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى : أَنَّهُ أَعَانَ بِفَرَسَيْنِ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَأُصِيبَتَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ فَرَسَيَّ أُصِيبَتَا فَعَوِّضْنِي ، فَأَعْطَاهُ ، فَاسْتَزَادَهُ . ¤ وَفِي الْأَوَّلِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ الْمَكِّيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ : أَنَّهُ صَدُوقٌ يَهِمُ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی نے ، سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک روایت بھی نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ” غزوہ حنین کے موقع پر انہوں نے دو گھوڑے پیش کیے ، وہ دونوں مارے گئے ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے دو گھوڑے مارے گئے ہیں ، تو آپ مجھے اس کا عوض دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک گھوڑا عطا کیا ، اور انہیں مزید بھی عطا کیا ( یا انہوں نے مزید طلب کیا ) “ ۔ پہلی روایت میں اسماعیل بن مسلم مکی ہے ، اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے : یہ صدوق ہے ، لیکن وہم کا شکار ہوتا ہے ۔