کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: عشر وصول کرنے والے ، عرفاء ( یعنی سرکاری اہلکاروں ) ٹیکس وصول کرنے والوں کا بیان
حدیث نمبر: 4469
عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ ، احْمَدُوا اللَّهَ الَّذِي رَفَعَ عَنْكُمُ الْعُشُورَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے عرب کے گروہ ! تم اس بات پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرو کہ اُس نے تم سے عشر کو اٹھا لیا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 4470
وَعَنْ مَالِكِ بْنِ عَتَاهِيَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا رَأَيْتُمْ عَاشِرًا فَاقْتُلُوهُ " . يَعْنِي بِذَلِكَ : الصَّدَقَةَ عَلَى غَيْرِ حَقِّهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " الصَّدَقَةُ يَأْخُذُهَا عَلَى غَيْرِ حَقِّهَا " . وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا مالک بن عتاھیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب تم عشر ( یعنی بھتہ ) وصول کرنے والے کو دیکھو ، تو اُسے قتل کر دو“ ۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ناحق طور پر صدقہ وصول کرنے والا شخص ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ صدقہ جسے آدمی ناحق طور پر وصول کرتا ہے “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ صدقہ جسے آدمی ناحق طور پر وصول کرتا ہے “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4471
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : مَرَّ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ عَلَى كِلَابِ بْنِ أُمَيَّةَ ، وَهُوَ جَالِسٌ عَلَى مَجْلِسِ الْعَاشِرِ بِالْبَصْرَةِ ، فَقَالَ : مَا يُجْلِسُكَ هَهُنَا ؟ قَالَ : اسْتَعْمَلَنِي عَلَى هَذَا الْمَكَانِ - يَعْنِي زِيَادًا - فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ : أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ : بَلَى . فَقَالَ عُثْمَانُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كَانَ لِدَاوُدَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [مِنَ اللَّيْلِ ] سَاعَةٌ يُوقِظُ فِيهَا أَهْلَهُ يَقُولُ : يَا آلَ دَاوُدَ ، قُومُوا فَصَلُّوا ، فَإِنَّ هَذِهِ سَاعَةٌ يَسْتَجِيبُ اللَّهُ فِيهَا الدُّعَاءَ إِلَّا لِسَاحِرٍ أَوْ عَاشِرٍ " . فَرَكِبَ كِلَابُ بْنُ أُمَيَّةَ سَفِينَةً ، فَأَتَى زِيَادًا ، فَاسْتَعْفَاهُ فَأَعْفَاهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا گزر ، کلاب بن امیہ کے پاس سے ہوا ، جو بصرہ میں عشر وصول کرنے والے کی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : تم یہاں کیوں بیٹھے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے اس نے اس جگہ پر عامل مقرر کیا ہے ، اُن کی مراد یہ تھی زیاد نے ایسا کیا ہے ، تو سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ! کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ بیان کروں ؟ جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، کلاب بن امیہ نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ کے نبی سیدنا داؤد علیہ السلام رات کے ایک مخصوص حصے میں ، اپنے اہل خانہ کو بیدار کرتے تھے ، اور یہ کہتے تھے : اے داؤد کے گھر والو ! تم اٹھو اور نماز ادا کرو ، کیونکہ یہ ایک ایسی گھڑی ہے ، جس میں اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے ، صرف جادو کرنے والے ، اور عشر وصول کرنے والے کی دعا قبول نہیں کرتا“ ۔ تو کلاب بن امیہ کشتی میں سوار ہو کر زیاد کے پاس آئے اور انہوں نے استعفیٰ دے دیا ، تو اس نے ان کا استعفیٰ قبول کر لیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 4472
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ نِصْفَ اللَّيْلِ ، فَيُنَادِي مُنَادٍ : هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى ؟ هَلْ مَنْ مَكْرُوبٍ فَيُفَرَّجُ عَنْهُ ؟ فَلَا يَبْقَى مُسْلِمٌ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ إِلَّا زَانِيَةً تَسْعَى بِفَرْجِهَا ، أَوْ عَشَّارًا " . ¤
محمد محی الدین
معجم اوسط میں بھی اسے نقل کیا ہے ، تا ہم اس کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نصف رات کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور منادی پکار کر یہ کہتا ہے : کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا مستجاب ہو ؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی پریشانی کا شکار شخص ہے کہ اس کی پریشانی دور کر دی جائے ؟ تو جو بھی مسلمان اس وقت دعا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا ہے ، البتہ زنا کرنے والی عورت ، یا عشر وصول کرنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے الفاظ یہ ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے قریب ہو جاتا ہے ، اور جو بھی مغفرت طلب کرتا ہے اس کی مغفرت کر دیتا ہے ، البتہ زنا کرنے والی عورت اور عشر ( یعنی بھتہ ) وصول کرنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ ان میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔ اس حدیث کے مختلف طرق ہیں ، جو آگے چل کر مناسب مقامات پر آئیں گے ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے الفاظ یہ ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے قریب ہو جاتا ہے ، اور جو بھی مغفرت طلب کرتا ہے اس کی مغفرت کر دیتا ہے ، البتہ زنا کرنے والی عورت اور عشر ( یعنی بھتہ ) وصول کرنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ ان میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔ اس حدیث کے مختلف طرق ہیں ، جو آگے چل کر مناسب مقامات پر آئیں گے ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 4473
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَلَفْظُهُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يَدْنُو مِنْ خَلْقِهِ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَسْتَغْفِرُ إِلَّا لِبَغِيٍّ بِفَرْجِهَا ، أَوْ عَشَّارٍ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤ وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ تَأْتِي فِيمَا يُنَاسِبُهَا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤
محمد محی الدین
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے الفاظ یہ ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے قریب ہو جاتا ہے ، اور جو بھی مغفرت طلب کرتا ہے اس کی مغفرت کر دیتا ہے ، البتہ زنا کرنے والی عورت اور عشر ( یعنی بھتہ ) وصول کرنے والے شخص کا معاملہ مختلف ہے “ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ ان میں ایک راوی علی بن زید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ویسے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔ اس حدیث کے مختلف طرق ہیں ، جو آگے چل کر مناسب مقامات پر آئیں گے ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 4474
وَعَنْ أَبِي الْخَيْرِ قَالَ : عَرَضَ مَسْلَمَةُ بْنُ مَخْلَدٍ - وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرَ - عَلَى رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ أَنْ يُوَلِّيَهُ الْعُشُورَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ صَاحِبَ الْمُكْسِ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " صَاحِبُ الْمَكْسِ فِي النَّارِ " - يَعْنِي : الْعَاشِرَ . وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوالخیر بیان کرتے ہیں : مسلمہ بن مخلد ، جو مصر کے گورنر تھے ، انہوں نے سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ کو یہ پیشکش کی کہ وہ انہیں عشر وصول کرنے کا نگران بنا دیتے ہیں ، تو سیدنا رویفع رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ناجائز ٹیکس وصول کرنے والا جہنم میں جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، البتہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ٹیکس وصول کرنے والا جہنم میں جائے گا “ ( راوی کہتے ہیں : ) اس سے مراد عاشر ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، البتہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ٹیکس وصول کرنے والا جہنم میں جائے گا “ ( راوی کہتے ہیں : ) اس سے مراد عاشر ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4475
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا رَأَى سُهَيْلًا قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ سُهَيْلًا ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كَانَ عَشَّارًا مِنْ عَشَّارِي الْيَمَنِ يَظْلِمُهُمْ فَمَسَخَهُ اللَّهُ فَجَعَلَهُ حَيْثُ تَرَوْنَ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب وہ سہیل نامی ستارے کو دیکھتے تھے ، تو یہ کہتے تھے : اللہ تعالی سہیل پر لعنت کرے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یمن کے بھتہ وصول کرنے والوں میں ، یہ ایک بھتہ وصول کرنے والا تھا ، جو لوگوں پر ظلم کرتا تھا ، تو اللہ تعالی نے اسے مسخ کر دیا اور اُسے وہاں بنا دیا ہے ، جو تم دیکھ رہے ہو“ ۔
حدیث نمبر: 4476
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ سُهَيْلًا فَقَالَ : " كَانَ عَشَّارًا ظَلُومًا فَمَسَخَهُ اللَّهُ شِهَابًا فَجَعَلَهُ حَيْثُ تَرَوْنَ " . ¤ رَوَاهُمَا الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” یہ ظلم کے طور پر بھتہ وصول کرنے والا ایک شخص تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے مسخ کر کے شہاب بنا دیا ، اور اسے وہاں رکھ دیا ، ۔ جسے تم دیکھتے ہو “ ۔ یہ دونوں روایات امام بزار نے نقل کی ہیں ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہیں ۔
حدیث نمبر: 4477
وَلَفْظُهُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " كَانَ عَشَّارًا يَظْلِمُهُمْ وَيَنْصِبُهُمْ أَمْوَالَهُمْ ، فَمَسَخَهُ اللَّهُ شِهَابًا ، فَجَعَلَهُ حَيْثُ تَرَوْنَ " . ¤ وَضَعَّفَهُ الْبَزَّارُ ; لِأَنَّ فِي رُوَاتِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَفِي الْأُخْرَى مُيَسِّرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
ان کی روایت کے الفاظ یہ ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” یہ ایک بھتہ وصول کرنے والا شخص تھا ، جو لوگوں پر ظلم کرتا تھا اور ان کے اموال چھین لیتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے مسخ کر کے شہاب بنا دیا اور وہاں رکھ دیا ، جہاں تم دیکھتے ہو “ ۔ امام بزار نے اس کو ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، کیونکہ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے ، اور وہ متروک ہے دوسری روایت میں ایک راوی میسر بن عبید ہے ، اور وہ بھی متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 4478
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَعَنَ سُهَيْلًا - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَإِنَّهُ كَانَ يُعَشِّرُ النَّاسَ ، فَمَسَخَهُ اللَّهُ شِهَابًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَابِرُ الْجُعْفِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَسُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل پر تین مرتبہ لعنت کی ، کیونکہ وہ لوگوں سے عشر ( یعنی نا جائز ٹیکس ) وصول کرتا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اسے مسخ کر کے شہاب بنا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور اس کے بارے میں بہت زیاد کلام کیا گیا ہے ، شعبہ اور سفیان ثوری نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور اس کے بارے میں بہت زیاد کلام کیا گیا ہے ، شعبہ اور سفیان ثوری نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4479
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَالَ : " طُوبَى لَهُ إِنْ لَمْ يَكُنْ عَرِيفًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، وَلَمْ يَنْسِبْهُ ، فَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس کے لئے مبارک باد ہے ، اگر یہ عریف ( یعنی ریاستی اہلکار ) نہ رہا ہو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے محمد نامی راوی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور ان کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، تو میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے محمد نامی راوی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور ان کا اسم منسوب بیان نہیں کیا ہے ، تو میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4480
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ فِي النَّارِ حَجَرًا يُقَالُ لَهُ : وَيْلٌ ، يَصْعَدُ عَلَيْهِ الْعُرَفَاءُ ، وَيَنْزِلُونَ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جہنم میں ایک پتھر ہے ، جس کا نام ” ویل “ ہے ” عریف “ لوگ ( یعنی ریاستی اہلکار ) اس پر چڑھیں گے بھی ، اور اس سے اُتریں گے بھی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ہے میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ہے میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 4481
وَعَنْ مَوْدُودِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ كُرَيْبِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سَيْفِ بْنِ جَارِيَةَ الْيَرْبُوعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ رَجُلًا مَنْ بَنِي تَمِيمٍ ذَهَبَ بِمَالِي كُلِّهِ ؟ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عِنْدِي مَا أُعْطِيكَهُ " . ثُمَّ قَالَ : " وَهَلْ لَكَ أَنْ تُعَرِّفَ عَلَى قَوْمِكَ ؟ " . أَوْ " أَلَا أُعَرِّفُكَ عَلَى قَوْمِكَ ؟ " قُلْتُ : لَا . قَالَ : " أَمَا إِنَّ الْعَرِيفَ يُدْفَعُ فِي النَّارِ دَفْعًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَمَوْدُودٌ وَأَبُوهُ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤
محمد محی الدین
مودود بن حارث بن یزید بن کریب بن یزید بن سيف بن جاریہ یربوعی ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بنوتمیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص میرا پورا مال لے گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے ، جو میں تمہیں دے دوں ، پھر آپ نے فرمایا : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ تم اپنی قوم کے عریف بن جاؤ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) کیا میں تمہیں تمہاری قوم کا عریف نہ بنا دوں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک عریف کا تعلق ہے ، تو اسے یکبارگی جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، مودود نامی راوی اور اس کے والد کے حالات بیان کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، مودود نامی راوی اور اس کے والد کے حالات بیان کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔