کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ ، آپ کی آل اور آپ کے موالی کے لئے صدقہ کا حکم
حدیث نمبر: 4482
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِهِ مِنَ اللَّيْلِ فَأَكَلَهَا ، فَلَمْ يَنَمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، فَقَالَ بَعْضُ نِسَائِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرِقْتَ الْبَارِحَةَ ؟ قَالَ : " إِنِّي وَجَدْتُ [ تَحْتَ جَنْبِي ] تَمْرَةً فَأَكَلْتُهَا ، وَكَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور پائی اور اسے کھا لیا ، پھر اس کے بعد آپ پوری رات سو نہیں سکے ، آپ کی زوجہ محترمہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ گزشتہ رات جاگتے رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور پائی تھی تو اُسے کھا لیا تھا ، ہمارے پاس صدقہ کی کھجوریں بھی موجود تھیں ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ اُن میں سے نہ ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4482
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (6820)»
حدیث نمبر: 4483
وَعَنْ أَبِي عُمَيْرٍ ، أَوْ أَبِي عُمَيْرَةَ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ بِطَبَقٍ عَلَيْهِ تَمْرٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا هَذَا ؟ أَصَدَقَةٌ أَمْ هَدِيَّةٌ ؟ " . فَقَالَ : صَدَقَةٌ . فَقَالَ : فَقَدَّمَهُ إِلَى الْقَوْمِ ، وَحَسَنٌ - صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ - يَتَعَفَّرُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، فَأَخَذَ الصَّبِيُّ تَمْرَةً فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ ، فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَهُ فِي فِي الصَّبِيِّ ، فَانْتَزَعَ التَّمْرَةَ فَقَذَفَ بِهَا ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّ أَحْمَدَ سَمَّاهُ أُسَيْدَ بْنَ مَالِكٍ ، وَسَمَّاهُ الطَّبَرَانِيُّ رُشَيْدَ بْنَ مَالِكٍ ، وَفِيهِ حَفْصَةُ بِنْتُ طَلْقٍ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهَا غَيْرُ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهَا أَحَدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعمیر رضی اللہ عنہ ، یا شاید سیدنا ابوعمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک شخص تھال لے کر آیا ، جس میں کھجوریں موجود تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ ہدیہ ہے ، یا صدقہ ہے ؟ اس نے عرض کی : صدقہ ہے ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چیز لوگوں کی طرف بڑھا دی ، اس وقت سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ ( جو اس وقت بچے تھے ) جو اپنے ہاتھوں کے بل چل رہے تھے ، انہوں نے ایک کھجور لی ، اور اپنے منہ میں ڈال لی ، ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی بچے کے منہ میں ڈالی اور کھجور نکالی ، اور اسے ایک طرف رکھ دیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : بے شک ہم ، یعنی آل محمد ، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم میں نقل کی ہے ، تاہم امام أحمد نے راوی کا نام سیدنا اسید بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے ، جبکہ امام طبرانی نے ان کا نام رشید بن مالک بیان کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حفصہ بنت طلق ہیں ، معرف بن واصل کے علاوہ اور کسی نے اس خاتون سے روایت نقل نہیں کی ہے ، اور نہ کسی نے اس خاتون کی توثیق کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4483
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4632) اخرجه الامام احمد فى المسند (490/3)»
حدیث نمبر: 4484
وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ : حَدَّثَتْنِي أُمُّ كُلْثُومٍ ابْنَةُ عَلِيٍّ قَالَ : أَتَيْتُهَا بِصَدَقَةٍ كَانَ أَمَرَ بِهَا ، قَالَتْ : أُحَذِّرُ شَبَابَنَا ، فَإِنَّ مَيْمُونَ - أَوْ مِهْرَانَ - مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ : " يَا مَيْمُونُ - أَوْ يَا مِهْرَانُ - إِنَّا أَهْلَ بَيْتٍ نُهِينَا عَنِ الصَّدَقَةِ ، وَإِنَّ مَوَالِيَنَا مِنْ أَنْفُسِنَا فَلَا تَأْكُلِ الصَّدَقَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ : حَدَّثَنِي مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ : لَهُ طُهْمَانُ ، أَوْ ذَكْوَانُ . ¤ وَعِنْدَهُ أَيْضًا فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى يُقَالُ لَهُ : كَيْسَانُ ، أَوْ هُرْمُزٌ . ¤ وَأُمُّ كُلْثُومٍ لَمْ أَرَ مَنْ رَوَى عَنْهَا غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں : سیدہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بیان کی ، عطاء کہتے ہیں : میں ان کے پاس صدقے کی چیز لے کے آیا ، تو اس خاتون نے کہا: ہم اپنے نوجوانوں کو اس سے بچنے کی تلقین کرتے ہیں ، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا میمون رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا مہران رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ان کا گزر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : اے میمون ! ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اے مہران ! ہم ایسا گھرانہ ہیں ، کہ ہمیں صدقہ استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے ، اور ہمارے غلام بھی ہمارا حصہ ہیں ، تو تم صدقہ نہ کھانا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام نے ، مجھے یہ بات بیان کی ، جن کا نام سیدنا طہمان رضی اللہ عنہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) سیدنا ذکوان رضی اللہ عنہ تھا ۔ انہوں نے ایک روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : اُن کا نام سیدنا کیسان رضی اللہ عنہ یا سیدنا ہرمز رضی اللہ عنہ تھا ۔ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہ نامی خاتون کے بارے میں ، عطاء بن سائب کے علاوہ میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا ، جس نے اُن سے روایت نقل کی ہو ، اور عطاء کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4484
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (354/20) اخرجه الامام احمد فى المسند (34/4»
حدیث نمبر: 4485
وَعَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا الرِّضْوَانُ فَسُئِلَ مَا عَقَلْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ [ أَوْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ] قَالَ : كُنْتُ أَمْشِي مَعَهُ فَمَرَّ عَلَى جَرِينٍ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَأَخَذْتُ تَمْرَةً فَأَلْقَيْتُهَا فِي فِيَّ ، فَأَخَذَهَا بِلُعَابِهَا ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : وَمَا عَلَيْكَ لَوْ تَرَكْتَهَا ؟ فَقَالَ : " إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " . قَالَ : وَعَقَلْتُ مِنْهُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوحوراء بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، ان سے دریافت کیا گیا : آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ، یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا چیز یاد ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : میں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ کا گزر صدقہ کی کھجوروں کے ڈھیر کے پاس سے ہوا ، تو میں نے ایک کھجور لی ، اور اپنے منہ میں ڈال لی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لعاب سمیت لے لیا ، حاضرین میں سے کسی نے عرض کی : اگر آپ یہ رہنے دیتے ، تو کوئی حرج بھی نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک ، ہم یعنی آل محمد ، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے بتایا : مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے پانچ نمازوں کا حکم بھی یاد ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4485
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (6762) اخرجه الامام احمد فى المسند (1725)»
حدیث نمبر: 4486
وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ شَيْبَانَ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ : قُلْتُ لِلْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا الرِّضْوَانُ : مَا تَعَقِلُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : صَعِدْتُ غُرْفَةً فَأَخَذْتُ تَمْرَةً وَلُكْتُهَا فِي فِيَّ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلْقِهَا ; فَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ربیعہ بن شیبان ابوحوراء بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کیا یاد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : میں بالا خانہ پر چڑھا ، میں نے وہاں سے کھجور لی اور اسے اپنے منہ میں ڈال کر چبانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے نکالو ! ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4486
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2741) اخرجه الامام احمد فى المسند (1731)»
حدیث نمبر: 4487
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول کر لیتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ قبول نہیں کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4487
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4488
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَعَامٍ ، وَأَنَا مَمْلُوكٌ ، فَقُلْتُ : هَذِهِ صَدَقَةٌ . فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ فَأَكَلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ . ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِطَعَامٍ فَقُلْتُ : هَذِهِ هَدِيَّةٌ أَهْدَيْتُهَا لَكَ أُكْرِمُكَ بِهَا ، فَإِنِّي رَأَيْتُكَ لَا تَأْكُلُ الصَّدَقَةَ ، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ ، فَأَكَلُوا ، وَأَكَلَ مَعَهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھانا لے کے آیا ، میں ایک غلام تھا ، میں نے عرض کی : یہ صدقہ ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا ، تو انہوں نے اسے کھا لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہیں کھایا ، پھر میں کھانا لے کے آیا ، میں نے عرض کی : یہ ہدیہ ہے ، میں اسے آپ کو ہدیہ کے طور پر پیش کر رہا ہوں ، تاکہ اس کے ذریعے آپ کی عزت افزائی کروں ، کیونکہ میں نے آپ کو دیکھا ہے ، آپ صدقہ نہیں کھاتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ اُسے کھائیں اور اُن کے ساتھ آپ نے خود بھی اس کو کھایا ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4488
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 4489
وَعَنْ سَلْمَانَ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَائِدَةٍ عَلَيْهَا رُطَبٌ فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " . قَالَ : هَذِهِ صَدَقَةٌ عَلَيْكَ وَعَلَى أَصْحَابِكَ . قَالَ : " يَا سَلْمَانُ ، إِنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ " . فَذَهَبَ بِهَا سَلْمَانُ ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جَاءَهُ سَلْمَانُ بِمَائِدَةٍ عَلَيْهَا رُطَبٌ فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الْمَائِدَةُ ؟ " . قَالَ : هَدِيَّةٌ . فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ : " ادْنُوا فَكُلُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک دسترخوان لے کے آئے جس میں کھجوریں موجود تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یہ آپ کے لئے اور آپ کے اصحاب کے لئے صدقہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے سلمان ! ہم صدقہ نہیں کھاتے ہیں ، پھر سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ اسے لے گئے ، اگلے دن سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دسترخوان لے کر آئے ، جس پر کھجوریں موجود تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ دسترخوان کس چیز کا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : ہدیہ ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ قریب ہو جاؤ اور کھاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4489
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4490
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ ، فَإِنْ قِيلَ : هَدِيَّةٌ أَكَلَ . وَإِنْ قِيلَ : صَدَقَةٌ ، قَالَ : " كُلُوا " . وَلَمْ يَأْكُلْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، جب آپ کے اہل خانہ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے کھانا آتا تھا ، تو آپ اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے ، اگر عرض کی جاتی تھی : ہدیہ ہے ، تو آپ اسے کھا لیتے تھے ، اور اگر یہ گزارش کی جاتی تھی کہ یہ صدقہ ہے ، تو آپ ( صحابہ کرام ) یہ فرماتے تھے : تم کھا لو ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود ( اس کو ) نہیں کھاتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4490
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4491
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْقَمَ بْنَ أَبِي أَرْقَمَ الزُّهْرِيَّ عَلَى بَعْضِ الصَّدَقَةِ ، فَمَرَّ بِأَبِي رَافِعٍ فَاسْتَتْبَعَهُ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ : " يَا أَبَا رَافِعٍ ، إِنَّ الصَّدَقَةَ حَرَامٌ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَآلِ مُحَمَّدٍ ، وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ - أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ - " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ارقم بن ابوارقم رضی اللہ عنہ کو صدقہ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، اُن کا گزر سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو بھی انہوں نے اپنے ساتھ لے لیا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابورافع ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے لئے اور آل محمد کے لئے صدقہ حرام ہے ، اور قوم کا غلام ، قوم کا فرد ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُن میں سے ایک ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4491
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12059). اخرجه ابو يعلى فى المسند (2728)»
حدیث نمبر: 4492
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنْ فِتْيَانًا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَعْمِلْنَا عَلَى الصَّدَقَةِ ، نُصِيبُ مِنْهَا مَا يُصِيبُ النَّاسُ ، وَنُؤَدِّي كَمَا يُؤَدُّونَ ، فَقَالَ : " إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ ، وَهِيَ أَوْسَاخُ النَّاسِ ، وَلَكِنْ مَا ظَنُّكُمْ إِذَا أَخَذْتُ بِحَلْقَةِ بَابِ الْجَنَّةِ هَلْ أُؤْثِرُ عَلَيْكُمْ أَحَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالِدُ ابْنِ الْمَدِينِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنوہاشم سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں زکوۃ وصول کرنے کا اہلکار مقرر کریں ، تاکہ ہم اس کے حوالے سے وہ چیز حاصل کر لیں جو لوگ حاصل کرتے ہیں ، ہم بھی اُسی طرح ادائیگی کریں گے ، جس طرح لوگ ادائیگی کرتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک ہم آل محمد ، ہمارے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ، یہ لوگوں کا میل ہے ، لیکن تمہارے بارے میں میرا یہ گمان نہیں ہے کہ جب میں جنت کی کنڈی کو پکڑوں گا ، تو کسی کو تم پر ترجیح دوں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر ہے ، جو علی بن مدینی کا والد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4492
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11070)»
حدیث نمبر: 4493
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لَنَا وَلَا لِمَوَالِينَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہمارے لئے اور ہمارے غلاموں کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے منجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4493
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1668)»
حدیث نمبر: 4494
وَعَنْهُ قَالَ : بَعَثَ نَوْفَلُ بْنُ الْحَارِثِ ابْنَيْهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُمَا : انْطَلِقَا إِلَى ابْنِ عَمِّكُمَا لَعَلَّهُ يَسْتَعِينُ بِكُمَا عَلَى الصَّدَقَاتِ ، لَعَلَّكُمَا تُصِيبَانِ شَيْئًا فَتَتَزَوَّجَانِ . فَلَقِيَا عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَقَالَ : أَيْنَ تَأْخُذَانِ ؟ فَحَدَّثَاهُ حَاجَتَهُمَا . فَقَالَ لَهُمَا : ارْجِعَا [فَرَجَعَا] . فَلَمَّا أَمْسَيَا أَمْرَهُمَا أَنْ يَنْطَلِقَا إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَفَعَا الْبَابَ اسْتَأْذَنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَائِشَةَ : " أَرْخِي عَلَيْكِ سَجَفَكِ ، أُدْخِلْ عَلَيَّ ابْنَيْ عَمِّي " . فَحَدَّثَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَاجَتِهِمَا ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَحِلُّ لَكُمَا أَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الصَّدَقَاتِ شَيْءٌ ، وَلَا غُسَالَةُ أَيْدِي النَّاسِ . إِنَّ لَكُمْ فِي خُمْسِ الْخُمْسِ لَمَا يُغْنِيكُمْ - أَوْ يَكْفِيكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ الْمُلَقَّبُ بِحَنَشٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو مِحْصَنٍ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نوفل بن حارث نے ، اپنے دو صاحبزادوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور ان سے کہا: تم دونوں اپنے چچازاد کے پاس جاؤ ! ہو سکتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں زکوۃ وصول کرنے کے لئے اہلکار مقرر کر دیں گے ، اس طرح تم ایسی کمائی حاصل کر لو گے جس کے ذریعے تم شادی کر لو گے ، ان دونوں کی ملاقات سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ہوئی انہوں نے دریافت کیا : تم کیا چاہتے ہو ؟ ان دونوں نے اپنی ضرورت کے بارے میں بتایا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے فرمایا : تم لوگ واپس چلے جاؤ ! وہ دونوں واپس چلے گئے ، جب شام ہوئی ، تو نوفل بن حارث نے ان دونوں کو ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے جائیں ، جب وہ دونوں دروازے پر آئے ، تو انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : تم پردہ کر لو ! میرے دو چچازاد اندر آنے لگے ہیں ، پھر ان دونوں صاحبان نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے کام کے سلسلے میں بات چیت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے اہل بیت ! تمہارے لئے صدقہ میں سے کوئی بھی چیز جائز نہیں ہے ، جو لوگوں کے ہاتھوں کا میل ہوتی ہے ، تمہارے لئے خمس کا پانچواں حصہ ہے ، وہ تمہیں بے نیاز کر دے گا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ تمہارے لئے کفایت کر جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے ، جس کا لقب حنش ہے ، اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، ابومحصن نے اُسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4494
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 11543»