کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: صدقات کو الگ کرنا ( یعنی تقسیم کرنا )
حدیث نمبر: 4466
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ إِذَا بَعَثَ السُّعَاةَ عَلَى الصَّدَقَاتِ أَمَرَهُمْ بِمَا أَخَذُوا مِنَ الصَّدَقَاتِ أَنْ يُجْعَلَ فِي ذَوِي قَرَابَةِ مَنْ أُخِذَ مِنْهُمُ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ قَرَابَةٌ فَلِأُولِي الْعَشِيرَةِ ، ثُمَّ لِذِي الْحَاجَةِ مِنَ الْجِيرَانِ وَغَيْرِهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں : جب آپ زکوۃ وصول کرنے کے اہلکاروں کو بھیجتے تھے ، تو انہیں یہ ہدایت کرتے تھے کہ وہ جب زکوۃ وصول کر لیں ، تو جن لوگوں سے زکوۃ وصول کی ہے ، اُن کے قریبی رشتہ داروں کو درجہ بدرجہ دیں ، اگر قریبی رشتہ دار نہ ہوں ، تو خاندان کے دیگر افراد کو دیں ، پھر ان کے پڑوسیوں اور دیگر افراد میں سے حاجت مند لوگوں کو وہ دیدیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن وقاصی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4466
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 4467
وَعَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالْكُوفَةِ كَانَ أَمِيرًا قَالَ : فَخَطَبَ يَوْمًا فَقَالَ : إِنَّ فِي إِعْطَاءِ هَذَا الْمَالِ فِتْنَةً ، وَفِي إِمْسَاكِهِ فِتْنَةً ، وَبِذَلِكَ قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى فَرَغَ ثُمَّ نَزَلَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مطرف بن عبداللہ بن شخیر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ کوفہ کے امیر تھے ، ایک دن انہوں نے خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : اس مال کو دینا بھی آزمائش ہے ، اسے روک کے رکھنا بھی آزمائش ہے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ ( یعنی اس کو تقسیم کرنے میں ) مصروف رہے ، یہاں تک کہ فارغ ہو گئے ، پھر آپ منبر سے نیچے آئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4467
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (58/5)»
حدیث نمبر: 4468
وَعَنْ أَبِي الْفَيْضِ قَالَ : شَهِدْتُ مُعَاوِيَةَ وَأَعْطَى الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ حِمَارًا ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ : الْعِرْبَاضُ بْنُ سَارِيَةَ ، فَقَالَ : مَا لَكَ أَنْ تَأْخُذَهُ ، وَمَا لِمُعَاوِيَةَ أَنْ يُعْطِيَكَ ، كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَحْمِلُهُ عَلَى عُنُقِكَ رَأْسُهُ أَسْفَلَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو الْفَيْضِ لَمْ يُدْرِكِ الْمِقْدَادَ ، وَالْمِقْدَادُ لَمْ يُدْرِكْ خِلَافَةَ مُعَاوِيَةَ . ¤
محمد محی الدین
ابوالفیض بیان کرتے ہیں : میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، انہوں نے سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو ایک گدھا دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب ، جن کا نام سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ تھا ، وہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ تم نے اسے کیوں وصول کیا ہے ؟ اور معاویہ کو کیا حق ہے کہ وہ تمہیں دے ؟ میں گویا اس وقت بھی تمہاری طرف دیکھ رہا ہوں کہ قیامت کے دن تم نے اسے اپنی گردن پر اٹھایا ہوا ہو گا ، اور اس کا سر نیچے کی طرف ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، ابوالفیض نامی راوی نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4468
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (245/18)»