کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: سرکاری اہلکاروں کے حوالے سے کس بات کا اندیشہ ہے ؟
حدیث نمبر: 4455
عَنْ مَسْعُودِ بْنِ قَبِيصَةَ أَوْ قَبِيصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : صَلَّى هَذَا الْحَيُّ مِنْ مُحَارِبٍ الصُّبْحَ ، فَلَمَّا صَلَّوْا قَالَ شَابٌّ مِنْهُمْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّهُ سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُهَا ، وَأَنَّ عُمَّالَهَا فِي النَّارِ إِلَّا مَنِ اتَّقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ، وَأَدَّى الْأَمَانَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مَسْعُودٌ ، وَشَقِيقُ بْنُ حِبَّانَ ; وَهُمَا مَجْهُولَانِ . ¤
محمد محی الدین
مسعود بن قبیصہ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) قبیصہ بن مسعود بیان کرتے ہیں : محارب قبیلے سے تعلق رکھنے والے علاقے میں اُنہوں نے صبح کی نماز ادا کی ، جب اُن لوگوں نے نماز ادا کر لی ، تو ان لوگوں میں سے ایک نوجوان نے یہ کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عنقریب تمہارے لئے زمین کے مشرقی اور مغربی علاقے فتح کر لیے جائیں گے ، اور وہاں کے ریاستی اہلکار جہنم میں جائیں گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہو ، اور امانت ادا کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعود اور ایک راوی شقیق بن حبان ہے ، اور یہ دونوں مجہول ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعود اور ایک راوی شقیق بن حبان ہے ، اور یہ دونوں مجہول ہیں ۔
حدیث نمبر: 4456
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ : " قُمْ عَلَى صَدَقَةِ بَنِي فُلَانٍ ، وَانْظُرْ لَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَكْرٍ تَحْمِلُهُ عَلَى عَاتِقِكَ - أَوْ كَاهِلِكَ - لَهُ رُغَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اصْرِفْهَا عَنِّي . فَصَرَفَهَا عَنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ لَمْ يَرَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم بنوفلاں کی زکوۃ وصول کرنے کا کام کرو ، اور اس بات کا دھیان رکھنا کہ ایسا نہ ہو کہ جب تم قیامت کے دن آؤ ، تو تم نے اپنی گردن پر کوئی اونٹ اُٹھایا ہوا ہو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) جو آواز نکال رہا ہو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ یہ خدمت مجھے نہ دیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ( ذمہ داری ) انہیں نہیں دی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف سعید بن مسیب نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف سعید بن مسیب نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 4457
وَعَنْ هُلَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الصَّدَقَةَ فَقَالَ : " لَا يَجِيئَنَّ أَحَدُكُمْ بِشَاةٍ لَهَا ثُغَاءٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ہلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کوئی ایک شخص بکری لے کر نہ آئے ، جو آواز نکال رہی ہو“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4458
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي مُمْسِكٌ بِحُجَزِكُمْ عَنِ النَّارِ : هَلُمَّ عَنِ النَّارِ ، هَلُمَّ عَنِ النَّارِ ، وَتَغْلِبُونَنِي تَقَاحَمُونَ فِيهِ تَقَاحُمَ الْفَرَاشِ أَوِ الْجَنَادِبِ ، فَأُوشِكُ أَنْ أُرْسِلَ بِحُجَزِكُمْ وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ ، فَتَرِدُونَ عَلَيَّ مَعًا وَأَشْتَاتًا ، فَأَعْرِفُكُمْ بِسِيمَاكُمْ ، وَأَسْمَائِكُمْ كَمَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ الْغَرِيبَةَ مِنَ الْإِبِلِ فِي إِبِلِهِ ، وَيَذْهَبُ بِكُمْ ذَاتَ الشِّمَالِ وَأُنَاشِدُ فِيكُمْ رَبَّ الْعَالَمِينَ فَأَقُولُ : أَيْ رَبِّ قَوْمِي ، أَيْ رَبِّ أُمَّتِي ، فَيَقُولُ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ ، إِنَّهُمْ كَانُوا يَمْشُونَ بَعْدَكَ الْقُهْقَرَى عَلَى أَعْقَابِهِمْ ، فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ شَاةً لَهَا ثُغَاءٌ ، فَيُنَادِي : يَا مُحَمَّدُ ، يَا مُحَمَّدُ ، فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا ، قَدْ بَلَّغْتُكَ . فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ ، فَيُنَادِي : يَا مُحَمَّدُ ، يَا مُحَمَّدُ . فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُكَ . فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ فَرَسًا لَهَا حَمْحَمَةٌ ، فَيُنَادِي : يَا مُحَمَّدُ ، يَا مُحَمَّدُ . فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُكَ . فَلَا أَعْرِفَنَّ أَحَدَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُ سِقَاءً مَنْ أَدَمٍ يُنَادِي : يَا مُحَمَّدُ ، يَا مُحَمَّدُ . فَأَقُولُ : لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُكَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " يَحْمِلُ قَشْعًا " مَكَانَ : " سِقَاءً " . وَرِجَالُ الْجَمِيعِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں تمہارے ڈب کو پکڑ کر جہنم میں جانے سے روکتا ہوں ، کہ جہنم سے بچ جاؤ ، کہ جہنم سے بچ جاؤ ، تو تم لوگ میرے ق ابوسے نکل کر اس میں گرنے کی کوشش کرتے ہو ، جس طرح پتنگے اور کیڑے مکوڑے ( آگ میں گرتے ہیں عنقریب میں تمہاری ڈب کو چھوڑ دوں گا ( یعنی تم میرے ہاتھ سے پھسل جاؤ گے ) میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، تم میرے پاس اکٹھے اور الگ ، الگ ہو کر آؤ گے ، میں تمہاری مخصوص نشانی کے ذریعے تمہیں پہچان لوں گا ، اور تمہارے اسماء سے اس طرح واقف ہوؤں گا ، جس طرح کوئی شخص اپنے اونٹوں کے درمیان کسی اجنبی اونٹ کو پہچان لیتا ہے ، وہ تمہیں بائیں طرف لے جائیں گے اور میں تمہارے بارے میں تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کروں گا ، میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! یہ میری قوم ہے ، اے میرے پروردگار ! یہ میری امت ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد ! تم نہیں جانتے ؟ کہ تمہارے بعد انہوں نے کیا تبدیلی کی تھی ؟ یہ لوگ تمہارے بعد اُلٹے قدموں پھر گئے تھے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) قیامت کے دن ، میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ اُس نے بکری اٹھائی ہوئی ہو ، جو آواز نکال رہی ہو ، اور وہ پکار کر کہے : اے سیدنا محمد ! اے سیدنا محمد ! ( میری مدد کریں ) اور میں یہ کہوں : میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی ، اور قیامت کے دن میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں نہ پاؤں ، کہ اُس نے اونٹ اٹھایا ہوا ہو ، اور وہ آوازیں نکال رہا ہو ، اور وہ شخص کہے : اے سیدنا محمد ! اے سیدنا محمد ! ( میری مدد کریں ) اور میں یہ کہوں : میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی ، اور میں تم میں سے کسی ایک شخص کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب وہ قیامت کے دن آئے ، تو اس نے گھوڑا اُٹھایا ہوا ہو ، جو آواز نکال رہا ہو ، وہ شخص پکار کر کہے : اے سیدنا محمد ! اے سیدنا محمد ! تو میں یہ کہوں : میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی ، میں تم میں سے کسی شخص کو قیامت کے دن ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ اُس نے چمڑے کا مشکیزہ اُٹھایا ہوا ہو ، اور وہ پکار رہا ہو : اے سیدنا محمد ! اے سیدنا محمد ! اور میں یہ کہوں کہ میں تمہارے کسی کام نہیں آ سکتا ، میں نے تمہیں تبلیغ کر دی تھی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ( شاید درست لفظ امام طبرانی ہے ) نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” مشکیزے کے لئے لفظ ” سقاء “ کی جگہ لفظ ” قشع “ نقل کیا ہے ، اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ ( شاید درست لفظ امام طبرانی ہے ) نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” مشکیزے کے لئے لفظ ” سقاء “ کی جگہ لفظ ” قشع “ نقل کیا ہے ، اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4459
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مُصَدِّقًا يُقَالُ لَهُ : ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ ، فَصَدَّقَ ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَرَكْتُ لَكُمْ حَقًّا ، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : " إِنِّي أَبْعَثُ رِجَالًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَيَأْتِي أَحَدُهُمْ ، فَيَقُولُ : وَاللَّهِ مَا تَعَدَّيْتُ وَلَا تَرَكْتُ لَكُمْ حَقًّا ، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ إِلَّا جَلَسَ فِي حِفْشِ أُمِّهِ ، فَيَنْظُرُ مَنْ هَذَا الَّذِي يُهْدِي لَهُ ، إِيَّاكُمْ وَأَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ عَلَى عَاتِقِهِ بِبَعِيرٍ لَهُ رُغَاءٌ ، أَوْ بَقَرَةٍ لَهَا خُوَارٌ ، أَوْ شَاةٍ تَثْغُو " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى نُظِرَ إِلَى بَيَاضِ إِبِطَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، اس شخص کا نام ابن لتبیہ تھا ، اس نے زکوۃ وصول کی ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کے لئے کوئی حق نہیں چھوڑا ( یعنی پوری وصولی کی ہے ) مجھے تحفے کے طور پر ایک چیز دی گئی تھی ، تو میں نے تحفہ قبول کر لیا ( سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں کچھ افراد کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجتا ہوں ، پھر ان میں سے کوئی ایک شخص آتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : اللہ کی قسم ! نہ میں نے کوئی زیادتی کی ، اور نہ ہی میں نے آپ کے کسی حق کو چھوڑا ، لیکن مجھے تحفے کے طور پر ایک چیز دی گئی ، تو میں نے تحفہ قبول کر لیا ، وہ شخص اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھا رہا ؟ کہ وہ اس بات کا جائزہ لیتا کہ کون اسے تحفہ دیتا ہے ؟ تم لوگ اس بات سے بچنے کی کوشش کرو ، کہ کوئی شخص ( قیامت کے دن اس حال میں نہ ) آئے اور اس نے اپنی گردن پر اونٹ اٹھایا ہوا ہو ، جو آواز نکال رہا ہو ، یا گائے اُٹھائی ہوئی ہو ، جو ڈکرا رہی ہو ، یا بکری اٹھائی ہوئی ہو ، جو منمنا رہی ہو“ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4460
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا يُصَدِّقُ يُقَالُ لَهُ : ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ ، فَصَدَّقَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا تَعَدَّيْتُ ، وَلَا تَرَكْتُ لَهُمْ حَقًّا ، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدِيَّةَ ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ : إِنِّي أَبْعَثُ رِجَالًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَيَأَتِي أَحَدُهُمْ فَيَقُولُ : وَاللَّهِ مَا تَعَدَّيْتُ وَلَا تَرَكْتُ لَهُمْ حَقًّا ، وَلَقَدْ أُهْدِيَ إِلَيَّ فَقَبِلْتُ الْهَدَيَّةَ ، أَلَا جَلَسَ فِي حِفْشِ أُمِّهِ فَيَنْظُرُ مَنْ هَذَا الَّذِي يَهْدِي إِلَيْهِ ، إِيَّاكُمْ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ عَلَى عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ ، أَوْ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ " . ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى نُظِرَ إِلَى بَيَاضِ إِبِطَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَنِيفَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، اس کا نام ابن لتنبیہ تھا ، اس نے زکوۃ وصول کی ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے کوئی زیادتی نہیں کی اور ان لوگوں کے حق کو ترک نہیں کیا ، البتہ مجھے ایک چیز تحفے کے طور پر دی گئی تھی ، تو میں نے تحفہ قبول کر لیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں کچھ لوگوں کو زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجتا ہوں ، پھر اُن میں سے کوئی شخص آتا ہے ، اور یہ کہتا ہے : اللہ کی قسم ! میں نے کوئی زیادتی نہیں کی ، اور اُن کے کسی بھی حق کو نہیں چھوڑا ، البتہ مجھے ایک تحفہ دیا گیا ، تو میں نے تحفہ قبول کر لیا ، وہ شخص اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہیں بیٹھا رہا ؟ تاکہ اس بات کا جائزہ لیتا کہ کون اسے تحفہ دیتا ہے ؟ تم لوگ اس چیز سے بچنے کی کوشش کرو کہ ( قیامت کے دن ) تم میں سے ایک شخص اس حالت میں آئے کہ اس کی گردن پر اونٹ موجود ہو ، جو آواز نکال رہا ہو ، یا گائے موجود ہو جو ڈکرا رہی ہو ، یا بکری موجود ہو جو منمنا رہی ہو “ ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دینے لگی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے اللہ ! کیا میں نے تبلیغ کر دی ہے ؟ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحنیفہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحنیفہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4461
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ مُصَدِّقًا فَقَالَ : " يَا سَعْدُ ، اتَّقِ أَنْ تَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ تَحْمِلُهُ لَهُ رُغَاءٌ " . قَالَ : لَا أَجِدُنِي ، اعْفِنِي ، فَأَعْفَاهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا تو ارشاد فرمایا : ” اے سعد ! تم اس بات سے ڈرنا کہ تم قیامت کے دن اونٹ لے کر آؤ ، جسے تم نے اٹھایا ہوا ہو ، اور وہ آوازیں نکال رہا ہو “ تو انہوں نے عرض کی : میرے اندر تو اتنی ہمت نہیں ہے ، آپ مجھے معاف رکھیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف کر دیا ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خدمت انہیں نہیں دی ) ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4462
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ : " يَا أَبَا الْوَلِيدِ ، ، اتَّقِ اللَّهَ ، لَا تَأْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ تَحْمِلُهُ لَهُ رُغَاءٌ ، أَوْ بَقَرَةٍ لَهَا خُوَارٌ ، أَوْ شَاةٍ لَهَا ثُغَاءٌ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ ذَلِكَ لَكَذَلِكَ ؟ قَالَ : " أَيْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ " . قَالَ : فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَعْمَلُ لَكَ عَلَى شَيْءٍ أَبَدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا ، تو ارشاد فرمایا : ” اے ابوالولید ! اللہ تعالیٰ سے ڈرنا ، تم قیامت کے دن ایسی حالت میں نہ آؤ کہ تم نے اونٹ کو اٹھایا ہوا ہو ، جو آواز نکال رہا ہو ، یا گائے کو اٹھایا ہوا ہو ، جو ڈکرا رہی ہو ، یا بکری کو اٹھایا ہوا ہو جو منمنا رہی ہو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ایسا بھی ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جی ہاں ! تو انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں آپ کے لئے اس حوالے سے کبھی کوئی کام نہیں کروں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4463
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَهُ سَاعِيًا قَالَ : " انْظُرْ أَبَا مَسْعُودٍ ، وَلَا أُلْفِيَنَّكَ تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى ظَهْرِكَ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ قَدْ غَلَلْتَهُ " . قَالَ : مَا أَنَا بِسَائِرٍ فِي وَجْهِي هَذَا . قَالَ : " إِذًا لَا أُكْرِهُكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زکوۃ کی وصولی کے لئے بھیجا ، تو ارشاد فرمایا : ” اے ابومسعود ! تم اس بات کا دھیان رکھنا کہ میں تمہیں ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں کہ جب تم قیامت کے دن آؤ تو تمہاری پشت پر اونٹ موجود ہو ، جو آواز نکال رہا ہو ، اور وہ صدقے کا اونٹ ہو ، جسے تم نے خیانت کے طور پر حاصل کیا ہو تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں تو یہ کام کبھی نہیں کروں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسی صورت میں ، میں تمہیں مجبور بھی نہیں کروں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4464
وَعَنْ جَهْمِ بْنِ فَضَالَةَ قَالَ : دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقَ فَإِذَا فِيهِ أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ يَتَفَلَّى ، وَيَدْفِنُ الْقَمْلَ فِيهِ ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَسَبَّحَ ثَلَاثًا ، وَحَمِدَ ثَلَاثًا ، وَكَبَّرَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ قَالَ : خَفِيفَاتٌ عَلَى اللِّسَانِ ، ثَقِيلَاتٌ فِي الْمِيزَانِ يَصْعَدْنَ إِلَى الرَّحْمَنِ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا أُمَامَةَ ، أَنَا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ ، وَإِنَّ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا فَيَتَعَدَّوْنَ عَلَيْنَا ؟ فَقَالَ : الصَّدَقَةُ حَقٌّ ، وَتُبَّاعُهَا فِي النَّارِ ، قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصَّرَ أَوْ تَعَدَّى ، جِيئُوا بِالْمَالِ وَلَا تُغَيِّبُوا مِنْهَا شَيْئًا فَتُخْبِثُوا مَا غَيَّبْتُمْ وَمَا جِئْتُمْ بِهِ ، وَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَلَا تَسُبُّوهُمْ ، وَاسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهِمْ . ¤
محمد محی الدین
جہم بن فضالہ بیان کرتے ہیں : میں مسجد دمشق میں داخل ہوا ، تو وہاں سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے جوئیں نکال رہے تھے ، اور جوئیں زمین میں دفن کر رہے تھے ، میں ان کے پاس بیٹھ گیا انہوں نے تین مرتبہ سبحان اللہ کہا: ، تین مرتبہ الحمد للہ کہا: اور تین مرتبہ اللہ اکبر کہا: ، پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : کچھ چیزیں ہیں ، جو زبان پر ہلکی ہیں اور میزان میں بھاری ہوں گی ، اور رحمان کی طرف اوپر جاتی ہیں ، میں نے کہا: اے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ ! میں یہات کا رہنے والا شخص ہوں ، زکوۃ وصول کرنے والے ہمارے پاس آتے ہیں اور ہمارے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ، تو سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : صدقہ حق ہے ، اور اس میں زیادتی کرنے والے جہنم میں جائیں گے ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہے خواہ وہ اس میں کمی کریں ، یا زیادتی کریں ، تم لوگ مال لے آؤ ، اس مال میں سے کچھ بھی نہ چھپاؤ تم جو کچھ چھپاؤ گے ، یا جو کچھ لے کے آؤ گے اس کو خراب نہ کرو اور جب تم انہیں دیکھو ( کہ وہ زیادتی کر رہے ہیں ) تو انہیں برا نہ کہو ، لیکن اُن کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو ! ۔
حدیث نمبر: 4465
وَفِي رِوَايَةٍ : سَأَلْتُ أَبَا أُمَامَةَ وَذَكَرْتُ لَهُ عُمَّالَ الصَّدَقَةِ فَقَالَ : الصَّدَقَةُ حَقٌّ ، وَعُمَّالُهَا فِي النَّارِ ; لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَجَهْمٌ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا ، میں نے زکوۃ کی وصولی کے اہلکاروں کا ذکر کیا ، تو انہوں نے فرمایا : زکوۃ حق ہے ، اور اس کی ( ناحق ) وصولی کرنے والے جہنم میں جائیں گے ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سے ثابت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ، اور جہنم نامی راوی معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی قزعہ بن سوید ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ، اور جہنم نامی راوی معروف نہیں ہے ۔