حدیث نمبر: 4443
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كَمْ صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ : " كَذَا وَكَذَا " قَالَ : فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ قَالَ : فَنَظَرُوا فَوَجَدُوهُ قَدْ تَعَدَّى عَلَيْهِ بِصَاعٍ . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَيْفَ بِكُمْ إِذَا سَعَى عَلَيْكُمْ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ : " أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي " فَخَاضَ الْقَوْمُ وَبَهَرَهُمُ الْحَدِيثُ ، حَتَّى قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِذَا كَانَ رَجُلٌ غَائِبٌ عَنْكَ فِي إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ فَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَتُعُدِّيَ عَلَيْهِ فَكَيْفَ يَصْنَعُ ، وَهُوَ عَنْكَ غَائِبٌ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ ، فَلَمْ يُغَيِّبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ ، ثُمَّ أَدَّى الزَّكَاةَ ، فَتَعُدِّيَ عَلَيْهِ فِي الْحَقِّ فَأَخَذَ سِلَاحَهُ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے ، ایک شخص آیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں فلاں چیز کی زکوۃ کتنی بنے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اتنی اور اتنی بنے گی ، اس نے عرض کی : پھر فلاں شخص نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے ، راوی کہتے ہیں : جب ان لوگوں نے تحقیق کی ، تو پتہ چلا کہ اس نے ایک صاع کی زیادتی کی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب تمہارے پاس وصولی کرنے والا ایسا شخص آئے گا ، جو اس زیادتی سے زیادہ زیادتی تمہارے ساتھ کرے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اس زیادتی سے زیادہ زیادتی کرے گا ، تو وہ لوگ زیادہ پریشان ہو گئے اور اس بات نے انہیں پریشان کر دیا یہاں تک کہ ان میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس وقت کیا ہو گا کہ جب کوئی شخص آپ کو چھوڑ کر اپنے اونٹوں اور جانوروں میں ہو گا ، کھیتوں میں ہو گا ، اور پھر اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا اور پھر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی ، تو اس وقت اسے کیا کرنا چاہیے جبکہ وہ آپ کے پاس موجود نہ ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنی دلی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا ، اور وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے حصول کا ارادہ رکھے گا ، اور اپنے مال میں سے کوئی بھی چیز نہیں چھپائے گا ، اور نماز قائم کرے گا ، اور زکوۃ ادا کرے گا ، پھر حق کے معاملے میں اس کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے ، تو اگر وہ اپنا ہتھیار لے کر جنگ کرتا ہے ، اور مارا جاتا ہے ، تو وہ شہید شمار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس سب کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اس زیادتی سے زیادہ زیادتی کرے گا ، تو وہ لوگ زیادہ پریشان ہو گئے اور اس بات نے انہیں پریشان کر دیا یہاں تک کہ ان میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس وقت کیا ہو گا کہ جب کوئی شخص آپ کو چھوڑ کر اپنے اونٹوں اور جانوروں میں ہو گا ، کھیتوں میں ہو گا ، اور پھر اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا اور پھر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی ، تو اس وقت اسے کیا کرنا چاہیے جبکہ وہ آپ کے پاس موجود نہ ہو ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنی دلی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا ، اور وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے حصول کا ارادہ رکھے گا ، اور اپنے مال میں سے کوئی بھی چیز نہیں چھپائے گا ، اور نماز قائم کرے گا ، اور زکوۃ ادا کرے گا ، پھر حق کے معاملے میں اس کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے ، تو اگر وہ اپنا ہتھیار لے کر جنگ کرتا ہے ، اور مارا جاتا ہے ، تو وہ شہید شمار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس سب کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4444
وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ : جَلَسَ إِلَيْنَا شَيْخٌ فِي دُكَّانِ أَيُّوبَ فَسَمِعَ الْقَوْمَ يَتَحَدَّثُونَ فَقَالَ : حَدَّثَنِي مَوْلَايَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ : مَا اسْمُهُ ؟ قَالَ : قُرَّةُ بْنُ دُعْمُوصٍ النُّمَيْرِيُّ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَهُ النَّاسُ ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ فَنَادَيْتُهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اسْتَغْفِرْ لِلْغُلَامِ النُّمَيْرِيِّ ، قَالَ : " غَفَرَ اللَّهُ لَكَ " ، قَالَ : وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَاعِيًا فَلَمَّا رَجَعَ رَجَعَ بِإِبِلٍ جِلَّةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَيْتَ هِلَالَ بْنَ عَامِرٍ ، وَنُمَيْرَ بْنَ عَامِرٍ ، وَعَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ ، فَأَخَذْتَ جِلَّةَ أَمْوَالِهِمْ ؟ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ الْغَزْوَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَكَ بِإِبِلٍ جِلَّةٍ تَرْكَبُهَا وَتَحْمِلُ عَلَيْهَا . فَقَالَ : " وَاللَّهِ لَلَّذِي تَرَكْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أَخَذْتَ ، ارْدُدْهَا وَخُذْ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ وَصَدَقَاتِهِمْ " . قَالَ : فَسَمِعْتُ الْمُسْلِمِينَ يُسَمُّونَ تِلْكَ الْإِبِلَ الْمَسَانَّ الْمُجَاهِدَاتِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
جریر بن حازم بیان کرتے ہیں : ایوب کے چبوترے پر ، ایک صاحب ہمارے پاس آ کر بیٹھے ، انہوں نے لوگوں کو بات چیت کرتے ہوئے سنا ، تو یہ بات بیان کی : میرے آقا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے ، میں نے ان سے دریافت کیا : اُن کا نام کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سیدنا قرہ بن دعموص نمیری رضی اللہ عنہ ، وہ بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، لوگ آپ کے ارد گرد موجود تھے ، میں آپ کے قریب ہونے کی کوشش کرنے لگا ، میں ایسا نہیں کر پایا ، تو میں نے آپ کو بلند آواز میں پکار کر کہا: یا رسول اللہ ! آپ نمیری فرد کے لئے دعائے مغفرت کیجیئے ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالی تمہاری مغفرت کرے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کو زکوۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجا ، جب وہ واپس آئے ، تو وہ عمدہ اونٹ لے کر آئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ہلال بن عامر ، نمیر بن عامر اور عامر بن ربیعہ کے پاس گئے اور پھر تم نے ان کے بہترین اموال حاصل کر لئے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو سنا تھا کہ آپ کسی جنگ کا ذکر کر رہے تھے ، تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں آپ کے پاس عمدہ اونٹ لے کے آؤں ، تاکہ آپ اُن پر سوار ہو سکیں اور سواری کے لئے دے سکیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کی قسم ! جسے تم چھوڑ کے آئے ہو ، وہ میرے نزدیک ان سے زیادہ پسندیدہ ہیں جو تم نے وصول کیے ہیں ، تم انہیں واپس کر دو ! اور درمیانے درجے کے اموال اور صدقات حاصل کرو “ ۔ رادی کہتے ہیں : تو میں نے مسلمانوں کو سنا کہ انہوں نے ان اونٹوں کا نام ” مسان مجاہدات “ رکھا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4445
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَبِي النَّضْرِ قَالَ : جَلَسَ إِلَيَّ شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ وَمَعَهُ صَحِيفَةٌ فِي يَدِهِ قَالَ : وَذَاكَ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ ، فَقَالَ لِي : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، تَرَى هَذَا الْكِتَابَ مُغْنِيًا عَنِّي شَيْئًا عِنْدَ هَذَا السُّلْطَانِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : وَمَا هَذَا الْكِتَابُ ؟ قَالَ : هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَهُ لَنَا أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا . قَالَ : قُلْتُ : لَا وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ أَنْ يُغْنِيَ عَنْكَ شَيْئًا . وَكَيْفَ كَانَ شَأْنُ هَذَا الْكِتَابِ ؟ قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ بِإِبِلٍ لَنَا نَبِيعُهَا ، وَكَانَ أَبِي صَدِيقًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيِّ فَنَزَلْنَا الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : اخْرُجْ مَعِي فَبِعْ لِي إِبِلِي هَذِهِ قَالَ : فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَكِنْ سَأَخْرُجُ مَعَكَ وَأَجْلِسُ ، وَتَعْرِضُ إِبِلَكَ ، فَإِذَا رَضِيتَ مِنْ رَجُلٍ وَفَاءً وَصِدْقًا مِمَّنْ سَاوَمَكَ أَمَرْتُكَ بِبَيْعِهِ . قَالَ : فَخَرَجْنَا إِلَى السُّوقِ فَوَقَّفْنَا ظُهْرَنَا ، وَجَلَسَ طَلْحَةُ قَرِيبًا ، فَسَاوَمَنَا الرِّجَالُ حَتَّى إِذَا أَعْطَانَا رَجُلٌ مَا نَرْضَى قَالَ لَهُ أَبِي : أُبَايِعُهُ ؟ قَالَ : بِعْهُ ، قَدْ رَضِيتُ لَكُمْ وَفَاءً فَبَايِعُوهُ . فَبَايَعْنَاهُ فَلَمَّا قَبَضْنَا مَالَنَا ، وَفَرَغْنَا مِنْ حَاجَتِنَا ، قَالَ أَبِي لِطَلْحَةَ : خُذْ لَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا أَنْ لَا يُعْتَدَى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا قَالَ : فَقَالَ : هَذَا لَكُمْ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ . قَالَ : عَلَى ذَلِكَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابٌ ، قَالَ : فَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ صَدِيقٌ لَنَا ، يُرِيدُ أَنْ يَكُونَ لَهُ كِتَابٌ أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْهِ فِي صَدَقَتِهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا لَهُ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُ قَدْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ مِنْكَ كِتَابٌ عَلَى ذَلِكَ . قَالَ : فَكَتَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْكِتَابَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ النَّهْيَ عَنْ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي عَنْ طَلْحَةَ فَقَطْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سالم بن ابوامیہ ابونضر بیان کرتے ہیں : بنوتمیم سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ میرے پاس مسجد بصرہ میں بیٹھے ، اُن کے پاس ان کے ہاتھ میں ایک صحیفہ موجود تھا ، راوی کہتے ہیں : یہ حجاج کے زمانے کی بات ہے ۔ انہوں نے مجھ سے کہا: اے اللہ کے بندے ! کیا تم یہ سجھتے ہو کہ یہ تحریر مجھے اس حکمران کے پاس کسی چیز میں کام آ سکتی ہے ؟ میں نے کہا: یہ تحریر کیا ہے ؟ انہوں نے کہا: یہ اللہ کے رسول کا مکتوب ہے ، جو آپ نے ہمارے لئے تحریر کیا تھا کہ ہماری زکوۃ کے بارے میں ہمارے ساتھ زیادتی نہ کی جائے راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: اللہ کی قسم ! میرا نہیں خیال کہ یہ آپ کے کسی کام آ سکے گی ، ویسے اس تحریر کا معاملہ کیا ہے ؟ تو ان صاحب نے بتایا : میں اپنے والد کے ساتھ مدینہ منورہ آیا ، میں اُن دنوں لڑکا تھا ، ہم اپنا اونٹ لے کے آئے تھے ، جسے ہم فروخت کرنا چاہتے تھے ، میرے والد سیدنا طلحہ بن عبیداللہ تمیمی رضی اللہ عنہ کے دوست تھے ، ہم نے مدینہ منور میں پڑاؤ کیا ، میرے والد نے اُن سے کہا: آپ میرے ساتھ چلیں اور میرا یہ اونٹ فروخت کروا دیں ، تو انہوں نے بتایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے ، کہ شہری شخص دیہاتی شخص کی کوئی چیز فروخت کروائے ، البتہ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں ، میں بیٹھ جاؤں گا ، اور تم اپنے اونٹ کو بیچنا ، جب تم کسی شخص سے راضی ہو کہ جو تمہاری پسند کے مطابق بھاؤ دے رہا ہو ، تو پھر میں تمہیں اُسے فروخت کرنے کی ہدایت کر دوں گا ، راوی کہتے ہیں : ہم لوگ بازار کی طرف گئے ، ہم نے اپنے جانور کھڑے کیے ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ قریب بیٹھ گئے ، مختلف لوگوں نے ہمارے ساتھ بھاؤ تاؤ کیا ، یہاں تک کہ جب ایک شخص نے ہمیں ہماری پسند کی قیمت دینے کا طے کیا ، تو میرے والد نے اُن سے دریافت کیا : کیا میں اسے فروخت کر دوں ؟ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اسے فروخت کر دو ، میں تمہاری ادائیگی سے راضی ہوں ، تم اس کے ساتھ سودا کر لو ، ہم نے اس شخص کے ساتھ سودا کر لیا ، جب ہم نے اپنا مال قبضے میں لیا اور اپنے کام سے فارغ ہو گئے ، تو میرے والد نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی تحریر لے دیں کہ ہماری زکوۃ کے بارے میں ہمارے ساتھ زیادتی نہ کی جائے تو انہوں نے کہا: یہ سہولت ، تو تمہیں اور ہر مسلمان کو حاصل ہے ، تو میرے والد نے کہا: ( میں یہ چاہتا ہوں ) میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی تحریر ہونی چاہیے ، راوی کہتے ہیں : پھر وہ نکلے ، یہاں تک کہ ہمیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص دیہاتی علاقے کا رہنے والا ہے ، میرا دوست ہے ، یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس یہ تحریر ہو کہ زکوة کے بارے میں اس کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ حق ، تو اس کو اور ہر مسلمان کو حاصل ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ چاہتا ہے کہ آپ کی طرف سے اس بارے میں کوئی تحریر ہو ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ تحریر لکھوا کے دیدی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے ، جو شہری کے دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت کرنے کے بارے میں ہے ،
یہ روایت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔ یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے ، جو شہری کے دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت کرنے کے بارے میں ہے ،
یہ روایت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔ یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4446
وَعَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الْمُتَعَدِّي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” زکوۃ وصول کرنے میں ، زیادتی کرنے والا ، زکوۃ ادا نہ کرنے والے کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 4447
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ ، وَالْمُتَعَدِّي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ; لَمْ يَسْمَعْ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى مِنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اس شخص کا ایمان نہیں ، جس کی امانت نہ ہو ، اور زکوۃ وصول کرنے میں ، زیادتی کرنے والا اُسے ادا نہ کرنے والے کی مانند ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ، اسحاق بن یحیی نے اپنے دادا سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند منقطع ہے ، اسحاق بن یحیی نے اپنے دادا سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 4448
وَعَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ : أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً حَسَنَةً فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ : " قَاتَلَ اللَّهُ صَاحِبَ هَذِهِ النَّاقَةِ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَاشِيَةِ الْإِبِلِ . قَالَ : " فَنِعْمَ إِذًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کے اونٹوں میں ایک عمدہ اونٹنی دیکھی ، تو فرمایا : اللہ تعالی اس اونٹنی وصول کرنے والے شخص کو برباد کرے ، اُس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے عام سے دو اونٹوں کے عوض میں اسے لیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر ٹھیک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یزید بن سنان رہاوی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یزید بن سنان رہاوی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔