حدیث نمبر: 4429
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ : عَلَى كُلِّ حُرٍّ وَعَبْدٍ ، ذَكَرٍ وَأُنْثَى ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، فَقِيرٍ أَوْ غَنِيٍّ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ . ¤ قَالَ مَعْمَرٌ : بَلَغَنِي أَنَّ الزُّهْرِيَّ كَانَ يَرْوِيهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَهُوَ مَوْقُوفٌ صَحِيحٌ ، وَرَفْعُهُ لَا يَصِحُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صدقہ فطر کے بارے میں یہ فرماتے ہیں : یہ ہر آزاد اور غلام ، مذکر اور مؤنث ، چھوٹے اور بڑے ، غریب اور امیر پر لازم ہو گا ، جو کھجور کا ایک صاع ہو گا ، یا گندم کا نصف صاع ہو گا ۔ معمر بیان کرتے ہیں : مجھ تک
یہ روایت پہنچی ہے کہ زہری نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے روایت کیا ہے ۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کا ” موقوف “ ہونا مستند ہے اس کا ” مرفوع “ ہونا مستند نہیں ہے ۔
یہ روایت پہنچی ہے کہ زہری نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے روایت کیا ہے ۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کا ” موقوف “ ہونا مستند ہے اس کا ” مرفوع “ ہونا مستند نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 4430
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ صَلَاةَ الْعِيدِ ، وَيَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ : ( قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى ) . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیتے تھے ، آپ یہ آیت تلاوت کرتے تھے : ” تحقیق وہ کامیاب ہو گیا ، جس نے پاکیزگی اختیار کی ، اور اپنے پروردگار کا اسم یاد کیا ، اور نماز ادا کی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4431
وَعَنْ خُصَيْلَةَ بِنْتِ وَائِلَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : ( قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى ) ، قَالَ : إِلْقَاءُ الْقَمْحِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الصَّلَاةِ فِي الْمُصَلَّى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَشْقَرَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
فصیلہ بنت وائلہ بیان کرتی ہیں : میں نے اپنے والد کو یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا : ” تحقیق وہ کامیاب ہو گیا ، جس نے پاکیزگی اختیار کی ، اور اس نے اپنے پروردگار کے اسم کا ذکر کرتے ہوئے نماز ادا کی “ ۔ وہ فرماتے ہیں : عیدالفطر کے دن ، عیدگاہ میں نماز ادا کرنے سے پہلے گندم ادا کر دی جائے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اشقر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اشقر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4432
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الزَّكَاةُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعٌ مِنْ زَبِيبٍ ، أَوْ صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعٌ مِنْ أَقِطٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” زکوۃ ( یعنی صدقہ فطر ) مسلمانوں پر ادا کرنا لازم ہے ، جو کھجور کا ایک صاع ، یا کشمش کا ایک صاع ، یا جو کا ایک صاع یا پنیر کا ایک صاع ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4433
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ صَارِخًا يَصْرُخُ فِي بَطْنِ مَكَّةَ يَأْمُرُ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ وَيَقُولُ : " هِيَ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى ، صَغِيرٍ أَوْ كَبِيرٍ ، حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ، حَاضِرٍ أَوْ بَادٍ ; مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ أَوْ صَاعٌ مِمَّا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الطَّعَامِ ، أَلَا وَإِنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " أَوْ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ ، مَنْ أَتَى بِدَقِيقٍ قُبِلَ مِنْهُ ، وَمَنْ أَتَى بِسَوِيقٍ قُبِلَ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ السَّعْدِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . وَقَوْلُهُ : " مَنْ أَتَى بِدَقِيقٍ قُبِلَ مِنْهُ " مِنْ رِوَايَةِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَالْحَسَنُ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ مکہ کے نشیبی علاقے میں بلند آواز میں اعلان کرے اور صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دے اور یہ کہے : ” یہ حق اور واجب ہے ، جو ہر مسلمان پر لازم ہے ، خواہ وہ مذکر ہو ، یا مونث ہو ، خواہ وہ چھوٹا ہو ، یا بڑا ہو ، آزاد ہو ، یا غلام ہو ، شہری ہو ، یا دیہاتی ہو ، یہ گندم کے دو مد ، یا اس کے علاوہ کسی بھی اناج کا ایک صاع ہو گا ، اور خبردار ! بچہ فراش والے کو ملے گا ، اور زنا کار کو محرومی ملے گی “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” یا گندم کا نصف صاع ہو گا ، جو شخص آٹا لے گا ، تو اس سے قبول کیا جائے گا ، اور جو شخص جو لے آئے گا ، تو اس سے قبول کیا جائے گا“ ۔ یہ تمام روایات امام بزار نے نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عباد سعدی ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے روایت کے یہ الفاظ : ” جو شخص آٹا لے آئے گا وہ اس سے قبول کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت حسن نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے ، حسن نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت حسن نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے ، حسن نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 4434
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا زَيْدُ ، أَعْطِ زَكَاةَ رَأْسِكَ مَعَ النَّاسِ ، وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا صَاعًا مِنْ حِنْطَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا خَيْطًا " . ¤ وَفِيهِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْرَقُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے زید ! تم اپنی ذات کی زکوۃ ( یعنی صدقہ فطر ) لوگوں کے ساتھ ادا کرو ، خواہ تمہیں گندم کا ایک صاع ملے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگرچہ تمہیں ایک دھاگہ ملے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن سلیمان ازرق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگرچہ تمہیں ایک دھاگہ ملے “ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن سلیمان ازرق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4435
وَعَنْ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " أَخْرِجُوا صَدَقَةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ " . وَكَانَ طَعَامَنَا يَوْمَئِذٍ الْبُرُّ ، وَالتَّمْرُ ، وَالزَّبِيبُ . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : وَالْأَقِطُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْرَقُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” صدقہ فطر میں ، اناج کا ایک صاع نکالو “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ان دنوں ہمارا اناج ، گندم ، انگور اور کشمش ہوتے تھے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” پنیر ہوتا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن سلیمان ازرق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالصمد بن سلیمان ازرق ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4436
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَدَقَةُ الْفِطْرِ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ مُدَّانِ مِنْ دَقِيقٍ ، أَوْ قَمْحٍ ، وَمِنَ الشَّعِيرِ صَاعٌ ، وَمِنَ الْحَلْوَاءِ زَبِيبٍ أَوْ تَمْرٍ صَاعٌ صَاعٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ اللَّيْثُ بْنُ حَمَّادٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صدقہ فطر ادا کرنا ہر انسان پر لازم ہے ، جو آٹے کے ، یا گندم کے دو مد ہوں گے ، جو کا ایک صاع ہو گا ، اور میٹھی چیز یعنی کھجور اور کشمش کا ایک صاع ہو گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن حماد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی لیث بن حماد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4437
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ الْأَقِطَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دیہاتی علاقے کے رہنے والوں سے صدقہ فطر میں پنیر وصول کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4438
وَعَنْهُ قَالَ : رَأَيْتُ نَاسًا مِنَ الْعَرَبِ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أُولُو مَاشِيَةٍ ، وَإِنَّنَا نُخْرِجُ صَدَقَتَهَا ، فَهَلْ تُجْزِئُ عَنَّا مِنْ زَكَاةِ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا ، أَدُّوهَا عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَالْحُرِّ وَالْعَبْدِ ، فَأَنَّهَا طَهُورٌ لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
اُن کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے کچھ عربوں کو دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم جانوروں والے لوگ ہیں ، ہم ان کی زکوۃ ادا کرنا چاہتے ہیں ، تو کیا رمضان کی زکوۃ ہماری طرف سے کفایت کر جائے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تم اُس کو ( یعنی صدقہ فطر ) کو ہر چھوٹے اور بڑے آزاد اور غلام کی طرف سے ادا کرو ، کیونکہ یہ تمہارے لئے طہارت کا باعث ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4439
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كُنَّا نَأْكُلُ وَنَشْرَبُ ، وَنُخْرِجُ صَدَقَةَ الْفِطْرِ ، ثُمَّ نَخْرُجُ إِلَى الْمُصَلَّى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَزِيدَ الْخُوزِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم کھایا پیا کرتے تھے ، اور صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے ، پھر ہم عیدگاہ کی طرف چلے جاتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن یزید خوزی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4440
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا كَانَتْ تُخْرِجُ عَلَى عَهْدِ رَسُولٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَهْلِهَا الْحُرِّ مِنْهُمْ وَالْمَمْلُوكِ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ أَوْ صَاعًا مَنْ تَمْرٍ بِالْمُدِّ الَّذِي يَقْتَاتُونَ بِهِ . . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ، وہ اپنے اہل خانہ میں سے آزاد اور غلام ، ہر ایک کی طرف سے گندم کے دو مد ، یا کھجور کے دو صاع ادا کرتی تھیں ، یہ وہ ” مد “ تھا ، جس کے حساب سے لوگ لین دین کیا کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 4441
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا أَنَّهُمْ كَانُوا يُخْرِجُونَ زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُدِّ الَّذِي يَقْتَاتُ بِهِ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَفْعَلُ ذَلِكَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ كُلُّهُمْ . ¤ رَوَى أَحْمَدُ الرِّوَايَةَ الْأُولَى فَقَطْ ، وَرَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الْأَوْسَطِ بَعْضُهُ ، وَإِسْنَادُهُ لَهُ طَرِيقٌ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتی ہیں : وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں صدقہ فطر اس ’’ مد ‘‘ کے حساب سے ادا کرتے تھے ‘ جس ’’ مد ‘‘ کے حساب سے اہل مدینہ لین دین کیا کرتے تھے ‘ تمام اہل مدینہ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
امام احمد نے صرف پہلی روایت نقل کی ہے ‘ باقی تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر مں نقل کی ہیں ‘ معجم اوسط میں ان کا کچھ حصہ منقول ہے ‘ اور اس کی سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
امام احمد نے صرف پہلی روایت نقل کی ہے ‘ باقی تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر مں نقل کی ہیں ‘ معجم اوسط میں ان کا کچھ حصہ منقول ہے ‘ اور اس کی سند کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4442
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي زَكَاةِ الْفِطْرِ قَالَ : مُدَّانِ مِنْ قَمْحٍ أَوْ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ أَوْ شَعِيرٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صدقہ فطر کے بارے میں یہ فرماتے ہیں : یہ گندم کے دو مد ہوں گے ، یا کھجور ، یا جو کا ایک صاع ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔