کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: زکوۃ وصول کرنے کے اہلکار ، اور اُنہیں اِس حوالے سے کیا ملے گا ؟
حدیث نمبر: 4449
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْعَامِلُ عَلَى الصَّدَقَةِ بِالْحَقِّ لِوَجْهِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَالْغَازِي فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى أَهْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر حق کے ہمراہ زکوۃ وصول کرنے کا کام کرنے والا شخص ، اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لینے والے کی مانند ہے ، جب تک وہ اپنے گھر واپس نہیں آتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4449
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 4450
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْعَامِلُ إِذَا اسْتُعْمِلَ فَأَخَذَ الْحَقَّ وَأَعْطَى الْحَقَّ لَمْ يَزَلْ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ذُؤَيْبُ بْنُ عِمَامَةَ . قَالَ الذَّهَبِيُّ : ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَلَمْ يُهْدَرْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عامل شخص کو جب اہلکار مقرر کیا جائے اور وہ حق وصول کرے اور حق ادا کرے ، تو وہ مسلسل اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند رہتا ہے ، جب تک وہ اپنے گھر واپس نہیں آ جاتا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ذویب بن عمامہ ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : امام دارقطنی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، اور اسے رائیگاں نہیں کیا گیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4450
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (281)»
حدیث نمبر: 4451
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا إِلَى قَوْمِهِ ، فَلَمَّا أَخَذَ صَدَقَاتِهِمْ وَافَقَ ذَلِكَ وَفَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زکوۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجا ، جب انہوں نے اُن لوگوں سے زکوۃ وصول کر لی ، تو اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4451
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (80/17)»
حدیث نمبر: 4452
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعِيًا فَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ آكُلَ مِنَ الصَّدَقَةِ فَأَذِنَ لَنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زکوۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجا ، میں نے آپ سے یہ اجازت مانگی کہ میں زکوۃ میں سے کھا لیا کروں ، تو آپ نے مجھے اجازت دیدی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4452
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4453
وَعَنْ سَلَمَةَ الْهَمْدَانِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَى قَيْسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَرْحَبِيِّ : " بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى قَيْسِ بْنِ مَالِكٍ سَلَامٌ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ وَمَغْفِرَتُهُ ، أَمَّا بَعْدُ : فَذَاكُمْ أَنِّي اسْتَعْمَلْتُكَ عَلَى قَوْمِكَ : عُرْبِهِمْ وَخُمُورِهِمْ ، وَمَوَالِيهِمْ وَحَاشِيَتِهِمْ ، وَأَعْطَيْتُكَ مِنْ ذُرَّةِ يَسَارٍ مِائَتَيْ صَاعٍ مِنْ زَبِيبِ خَيْوَانَ مِائَتَيْ صَاعٍ ، جَارٍ ذَلِكَ لَكَ وَلِعَقِبِكَ مِنْ بَعْدِكَ أَبَدًا أَبَدًا [ قَالَ قَيْسُ وَقَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ أَبَدًا أَبَدًا ] أَحَبُّ إِلَيَّ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَبْقَى[ لِي ] عَقِبِي أَبَدًا . ¤ قَالَ يَحْيَى : عُرْبُهُمْ : أَهْلُ الْبَادِيَةِ ، وَخُمُورُهُمْ : أَهْلُ الْقُرَى . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ سَلَمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ ہمدانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیس بن مالک ارحبی کی طرف خط لکھا : ” اے اللہ ! تیرے اسم سے برکت حاصل کرتے ہوئے ( میں آغاز کرتا ہوں ) یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے قیس بن مالک کے نام ہے ، تم پر سلام ہو ، اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں اور اس کی مغفرت نازل ہو ، اما بعد ! میں تمہیں تمہاری قوم پر عامل مقرر کرتا ہوں ، اُن کے دیہاتیوں پر بھی ، اور شہروں پر بھی اُن کے موالیوں پر بھی اور جانوروں پر بھی ، اور میں تمہیں یسار ( یہ یمن میں موجود ایک پہاڑ کا نام ہے ) کے اناج کے دو سو صاع ، اور خیوان ( یہ یمن کا ایک شہر ہے ) کی کشمش کے دو سو صاع دیتا ہوں ( یعنی یہ تمہاری تنخواہ مقرر کرتا ہوں ) ، اور یہ خدمت تمہارے لئے اور تمہارے بعد تمہاری آل اولاد کے لئے ہمیشہ ہمیشہ برقرار رہے گی “ ۔ قیس نامی صاحب کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” ہمیشہ ، ہمیشہ رہے گی “ یہ میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ ہے اب مجھے یہ توقع ہے کہ اب میری اولاد ہمیشہ ، ہمیشہ رہے گی ۔ یحیی نامی راوی کہتے ہیں : ” عربہم “ سے مراد ، دیہاتی لوگ ہیں اور خمورہم “ سے مراد شہری ، یعنی بستیوں کے رہنے والے لوگ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن یحیی بن سلمہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4453
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (912)»