کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: قبر میں سوال ہونا
حدیث نمبر: 4276
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : شَهِدْنَا جِنَازَةً مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِهَا وَانْصَرَفَ النَّاسُ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُ الْآنَ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِكُمْ أَتَاهُ مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ أَعْيُنُهُمَا مِثْلُ قُدُورِ النُّحَاسِ وَأَنْيَابُهُمَا مِثْلُ صَيَاصِي الْبَقَرِ وَأَصْوَاتُهُمَا مِثْلُ الرَّعْدِ ، فَيُجْلِسَانِهِ فَيَسْأَلَانِهِ مَا كَانَ يَعْبُدُ وَمَنْ كَانَ نَبِيُّهُ . فَإِنْ كَانَ مِمَّنْ يَعْبُدُ اللَّهَ قَالَ : كُنْتُ أَعْبُدُ اللَّهَ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ فَآمَنَّا بِهِ وَاتَّبَعْنَاهُ ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ : ( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ) ، فَيُقَالُ لَهُ : عَلَى الْيَقِينِ حَيِيتَ ، وَعَلَيْهِ مِتَّ ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ . ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَيُوَسَّعُ لَهُ فِي حُفْرَتِهِ . ¤ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّكِّ قَالَ : " لَا أَدْرِي ، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ ، فَيُقَالُ لَهُ : عَلَى الشَّكِّ حَيِيتَ ، وَعَلَيْهِ مِتَّ ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ ، وَيُسَلَّطُ عَلَيْهِ عَقَارِبُ ، وَتَنَانِينُ لَوْ نَفَخَ أَحَدُهُمْ فِي الدُّنْيَا مَا نَبَتَتْ شَيْئًا تَنْهَشُهُ ، وَتُؤْمَرُ الْأَرْضُ فَتَضُمُّهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، قُلْتُ : وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے ، جب آپ اس کو دفن کر کے فارغ ہوئے اور لوگ واپس چلے گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ( مردہ ) اس وقت تم لوگوں کے جوتوں کی آہٹ بھی سن رہا ہو گا منکر اور نکیر اس کے پاس آئیں گے ، ان کی آنکھیں پیتل کی ہنڈیوں کی مانند ہوں گی ، اور ان دونوں کے دانت یوں نکلے ہوئے ہوں گے جس طرح گائے کے سینگ ہوتے ہیں اور ان دونوں کی آواز بجلی کی آواز کی مانند ہو گی ، وہ دونوں فرشتے اسے بٹھا کر اس سے سوال کریں گے کہ وہ کس کی عبادت کرتا تھا اور اس کا نبی کون تھا اگر وہ ایسا شخص ہو جو اللہ کی عبادت کرتا تھا ، تو یہ کہے گا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا اور میرے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو ہمارے پاس واضح نشانیاں لے کے آئے تھے ہم ان پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی پیروی کی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی “ ۔ تو اس مردے سے یہ کہا: جائے گا تم یقین پر زندہ رہے اسی پر تم مرے اور اسی پر تمہیں زندہ کیا جائے گا پھر اس مردے کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھول دیا جائے گا ، اور اس کی قبر کو اس کے لئے کشادہ کر دیا جائے گا اور اگر مردہ اہل شک میں سے ہو تو وہ یہ کہے گا مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تو میں نے بھی وہ بات کہہ دی تو اس سے یہ کہا: جائے گا تم شک پر زندہ رہے اسی پر تم مرے اور اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر اس کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھول دیا جائے اور اس پر بچھوؤں اور سانپوں کو مسلط کر دیا جائے گا ، اگر ان میں سے کوئی ایک دنیا پر پھونک مار دے تو وہاں کبھی کوئی چیز نہ آگے جہاں اس نے پھونک ماری ہو وہ اسے نوچیں گے زمین کو حکم ہو گا وہ اسے بھینچ لے گی یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : ابن لہیعہ اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4276
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4277
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دُفِنَ الْمَيِّتُ سَمِعَ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ مُنْصَرِفِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب میت کو دفن کیا جاتا ہے ، تو وہ لوگوں کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتی ہے ، جب وہ لوگ اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4277
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11135)»
حدیث نمبر: 4278
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : إِذَا حَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثٍ أُنَبِّئُكُمْ بِتَصْدِيقِ ذَلِكَ ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا مَاتَ جَلَسَ فِي قَبْرِهِ ، فَيُقَالُ : مَنْ رَبُّكَ ؟ مَا دِينُكَ ؟ مَنْ نَبِيُّكَ ؟ [ فَيُثَبِّتُهُ اللَّهُ ] فَيَقُولُ : رَبِّيَ اللَّهُ ، وَدِينِي الْإِسْلَامُ ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَيُوَسَّعُ لَهُ فِي قَبْرِهِ ، وَيُفَرَّجُ لَهُ فِيهِ . ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ : ( يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب میں تم لوگوں کو کوئی حدیث بیان کروں تو میں اس کی تصدیق کے بارے میں ( قرآن کی آیت ) تمہیں بتاؤں گا جب مؤمن مر جاتا ہے ، تو وہ اپنی قبر میں بیٹھ جاتا ہے ، اور اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارے نبی کون ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدم رکھتا ہے وہ عرض کرتا ہے میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے میرا دین اسلام ہے میرے نبی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اس کے لئے اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے ، اور اس کے لئے قبر میں کشادگی رکھی جاتی ہے پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ” اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4278
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9145)»
حدیث نمبر: 4279
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمَيِّتَ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ - يَعْنِي مُدْبِرِينَ - " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میت لوگوں کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتی ہے ، جب وہ لوگ اسے چھوڑ کر واپس جا رہے ہوتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4279
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام البزار فى المسند (873)»
حدیث نمبر: 4280
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : اسْمُ الْمَلَكَيْنِ اللَّذَيْنِ يَأْتِيَانِ فِي الْقَبْرِ مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ ، وَكَانَ اسْمُ هَارُوتَ وَمَارُوتَ - وَهُمَا فِي السَّمَاءِ - عَزَرًا وَعَزِيزًا . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قبر میں جو دو فرشتے آتے ہیں ان کے نام منکر اور نکیر ہیں ہاروت اور ماروت جب آسمان میں ہوتے تھے تو ان کا نام عزر اور عزیز تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4280
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (2724)»