حدیث نمبر: 4237
عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ذِي النِّجَادَيْنِ الَّذِي هَلَكَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حُفْرَتِهِ ، وَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ : " دَلِّيَا إِلَيَّ أَخَاكُمَا " ، فَلَمَّا وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي لَحْدِهِ قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي رَاضٍ عَنْهُ فَارْضَ عَنْهُ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي صَاحِبُ الْحُفْرَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . وَكَثِيرٌ : ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
کثیر بن عبداللہ نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے ۔ عبداللہ ذونجادین غزوہ تبوک کے موقع پر رات کے وقت انتقال کر گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبر میں اترے آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے بھائی کو میری طرف بڑھاؤ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لحد میں رکھ دیا تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش تھی کہ اس قبر کا فرد میں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ کثیر نامی راوی ضعیف ہے ۔
یہ روایت نقل کی ہے ۔ عبداللہ ذونجادین غزوہ تبوک کے موقع پر رات کے وقت انتقال کر گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبر میں اترے آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے بھائی کو میری طرف بڑھاؤ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں لحد میں رکھ دیا تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش تھی کہ اس قبر کا فرد میں ہوتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ کثیر نامی راوی ضعیف ہے ۔