وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو السَّكْسَكِيِّ قَالَ : خَرَجْنَا فِي جِنَازَةٍ ، فَإِذَا أَهْلُهَا يَدْخُلُونَ الْقَبْرَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ ، فَقَالَ كَرْبٌ الْيَحْصَبِيُّ : قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ لِكُلِّ بَيْتٍ بَابًا ، وَبَابُ الْقَبْرِ مِنْ تِلْقَاءِ رِجْلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ يُعْرَفُوا . ¤
محمد محی الدین
صفوان بن عمر و سکسکی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک جنازے میں شریک ہوئے جنازے کے اہل خانہ اسے قبر میں قبلہ کی سمت سے داخل کرنا چاہتے تھے تو کرب یحصبی نے یہ بات بیان کی سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے
یہ روایت نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر گھر کا کوئی دروازہ ہوتا ہے ، اور قبر کا دروازہ پاؤں کی سمت میں ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت نقل کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہر گھر کا کوئی دروازہ ہوتا ہے ، اور قبر کا دروازہ پاؤں کی سمت میں ہوتا ہے “ ۔
وَعَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي جِنَازَةٍ ، فَأَمَرَ بِالْمَيِّتِ فَسُلَّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ الْقَبْرِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا انہوں نے میت کے بارے میں حکم دیا تو اسے قبر کے پائنتی کی طرف سے قبر میں اتارا گیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَبْدَءُوا بِدَفْنِ الْمَيِّتِ ، وَأَنْ يُلْقَى التُّرَابُ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ حَسَّانَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ میت کو دفن کرنے کا آغاز اور مٹی ڈالے جانے کا آغاز قبلہ کی سمت سے کیا جائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن حسان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن حسان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔