حدیث نمبر: 4218
عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ : " إِنَّا مُدْلِجُونَ ، فَلَا يُدْلِجَنَّ مُصْعِبٌ وَلَا مُضْعِفٌ " ، فَأَدْلَجَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَعْبَةٍ ، فَسَقَطَ فَانْدَقَّتْ فَخِذُهُ فَمَاتَ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ ، ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ : " إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کر رہے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : ہم رات کے وقت سفر کر رہے ہیں کوئی بھی ایسا شخص رات کے وقت سفر نہ کرے ، جس کا جانور سرکش ہو ، یا کمزور ہو ایک شخص نے اپنی سرکش اونٹنی پر رات کے وقت سفر کیا وہ گر گیا اس کی زانوں کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کا حکم دیا اور پھر آپ نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے : جنت کسی نافرمان کے لئے ۔ حلال نہیں ہے ، یہ اعلان تین مرتبہ کرے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 4219
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَأَمَرَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى : " مَنْ كَانَ مُضْعِفًا مَعَنَا فَلْيَرْجِعْ " ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَرَاجَعُونَ حَتَّى بَلَغُوا مَضِيقًا مِنَ الطَّرِيقِ ، فَوَقَصَتْ بِرَجُلٍ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَنَادَى بِالْمُسْلِمِينَ فَأَتَاهُ النَّاسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] : " مَا شَأْنُكُمْ أَوْ مَا حَبَسَكُمْ ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فُلَانٌ أَتَى الْمَضِيِقَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ ، فَدَعَوْهُ يُصَلِّي عَلَيْهِ فَأَبَى ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : " إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ ، أَلَا وَإِنَّ الْحُمُرَ الْأَهْلِيَّةَ حَرَامٌ ، وَكُلُّ [ سَبُعٍ ] ذِي نَابٍ ، أَوْ قَالَ : ظُفُرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا اس نے یہ اعلان کیا ہمارے ساتھ جو شخص کمزور جانور والا ہو اسے واپس چلے جانا چاہیے تو لوگوں نے واپس جانا شروع کر دیا یہاں تک کہ وہ راستے میں ایک تنگ جگہ کے پاس پہنچے تو ایک شخص کی اونٹنی نے اسے نیچے گرا دیا جس کے نتیجے میں وہ شخص مر گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال ملاحظہ فرمائی تو بلند آواز میں مسلمانوں کو پکارا تو کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) کس چیز نے تمہیں روک دیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص تنگ جگہ پر پہنچا تھا اس کی اونٹنی نے اسے گرا دیا جس کے نتیجے میں وہ شخص مر گیا لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں تو آپ نے یہ بات قبول نہیں کی آپ نے منادی کو حکم دیا اس نے بلند آواز میں یہ اعلان کیا : جنت کسی نافرمان کے لئے حلال نہیں ہے خبردار پالتو گدھے حرام ہیں اور ہر نوکیلے دانت والے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہر ناخن والے درندے ( کا گوشت کا کھانا ) حرام ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 4220
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ رَجْلَةٍ لَهُ ، فَجَاءَ وَرَثَتُهُ مِنَ الْأَعْرَابِ ، فَأَخْبَرُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَا صَنَعَ فَقَالَ : " أَوَ فَعَلَ ذَلِكَ ؟ " وَقَالَ : " لَوْ أَعْلَمْتَنَا - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - مَا صَلَّيْنَا عَلَيْهِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے مرنے کے قریب اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا اس کے ورثاء جن کا تعلق دیہات سے تھا وہ آئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شخص کے اس عمل کے بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا اس نے ایسا کیا تھا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے ہمیں پہلے بتا دیا ہوتا تو ہم نے اس کی نماز جنازہ نہیں کرنی تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔