حدیث نمبر: 4191
عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَسْوَدَ كَانَ يُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ فَدُفِنَ لَيْلًا ، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُخْبِرَ فَقَالَ : " انْطَلِقُوا إِلَى قَبْرِهِ " ، فَانْطَلَقُوا فَقَالَ : " إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا " ، فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ أَخِي مَاتَ وَلَمْ تُصَلِّ عَلَيْهِ ، قَالَ : " فَأَيْنَ قَبْرُهُ ؟ " فَأَخْبَرَهُ ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ الْأَنْصَارِيِّ فَصَلَّى . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سیاہ فام شخص مسجد میں صفائی کیا کرتا تھا اس کا انتقال ہو گیا اسے رات میں دفن کر دیا گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب اس بات کی اطلاع دی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اس کی قبر کی طرف چلو وہ لوگ چلے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ قبریں اپنے متعلقہ افراد کے لئے تاریکی سے بھری ہوئی ہوتی ہیں تو میرے ان پر نماز جنازہ ادا کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں نورانی کر دیتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر تشریف لائے آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا بھائی فوت ہو گیا ، لیکن آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اس کی قبر کہاں ہے ؟ اس نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس انصاری کے ساتھ تشریف لے گئے اور آپ نے اس کی بھی نماز جنازہ ادا کی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4192
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَمَا دُفِنَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کے دفن ہو جانے کے بعد قبر پر نماز جنازہ ادا کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 4193
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُ فُقَرَاءَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، وَيَشْهَدُ جَنَائِزَهُمْ إِذَا مَاتُوا ، فَتُوُفِّيَتِ امْرَأَةٌ مَنْ أَهْلِ الْعَوَالِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرَتْ فَآذِنُونِي " ، فَأَتَوْهُ لِيُؤْذِنُوهُ ، فَوَجَدُوهُ نَائِمًا وَقَدْ ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ ، فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ ، وَتَخَوَّفُوا عَلَيْهِ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَهَوَامَّ الْأَرْضِ ، فَذَهَبُوا بِهَا ، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهَا قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَيْنَاكَ لِنُؤْذِنَكَ فَوَجَدْنَاكَ نَائِمًا ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ ، وَتَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَهَوَامَّ الْأَرْضِ ، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَبْرِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے غریبوں کی عیادت کیا کرتے تھے ، اور جب وہ لوگ فوت ہو جاتے تھے تو ان کے جنازے میں شریک ہوا کرتے تھے نواحی علاقے کے رہنے والوں میں سے ایک خاتون انتقال کر گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب وہ حاضر ہو جائے ( یعنی میت کی تکفین مکمل ہو جائے ) تو مجھے اس کے بارے میں اطلاع دے دینا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو اس بارے میں اطلاع دیں ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پایا کہ آپ سو رہے تھے رات کا ایک حصہ گزر چکا تھا لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا لوگوں کو رات کی تاریکی اور زمین کے حشرات الارض کے حوالے سے بھی اندیشہ تھا وہ اس عورت کی میت لے گئے اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں دریافت کیا ، تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کو اطلاع دینے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ، لیکن ہم نے آپ کو پایا کہ آپ سو رہے تھے تو ہمیں یہ اچھا نہیں لگا کہ آپ کو بیدار کریں ہمیں آپ کے حوالے سے رات کی تاریکی اور زمین کے حشرات الارض کا بھی اندیشہ تھا راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیدل چل کر اس خاتون کی قبر کی طرف تشریف لے گئے آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور آپ نے چار تکبیریں کہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ایک جماعت نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ایک جماعت نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 4194
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ ، لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مُرْنِي بِأَمْرِكَ وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا ، قَالَ : فَعَجِبَ لِذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ غُلَامٌ ، فَقَالَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ : " اذْهَبْ فَاقْتُلْ أَبَاكَ " ، قَالَ : فَذَهَبَ مُوَلِّيًا يَفْعَلُ ، فَدَعَاهُ فَقَالَ : " أَقْبِلْ ; فَإِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِقَطِيعَةِ الرَّحِمِ " ، فَمَرِضَ طَلْحَةُ بَعْدَ ذَلِكَ ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فِي الشِّتَاءِ فِي بَرْدٍ وَغَيْمٍ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِأَهْلِهِ : " إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ ، فَآذِنُونِي بِهِ حَتَّى أَشْهَدَهُ وَأُصَلِّيَ عَلَيْهِ ، وَعَجِّلُوا " ، فَلَمْ يَبْلُغِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ حَتَّى تُوُفِّيَ ، وَجَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ ، فَكَانَ مِمَّا قَالَ طَلْحَةُ : ادْفِنُونِي وَأَلْحِقُونِي بِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ، وَلَا تَدْعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنِّي أَخَافُ الْيَهُودَ أَنْ تَصَّافَّ فِي سُنَّتِي ، وَأُخْبِرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَصْبَحَ ، فَجَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى قَبْرِهِ وَصَفَّ النَّاسَ مَعَهُ [ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ] فَقَالَ : " اللَّهُمَّ الْقَ طَلْحَةَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ وَيَضْحَكُ إِلَيْكَ " . ¤ قُلْتُ : عَزَا صَاحِبُ الْأَطْرَافِ بَعْضَ هَذَا إِلَى أَبِي دَاوُدَ وَلَمْ أَرَهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
حصین بن وحوح بیان کرتے ہیں : سیدنا طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی حکم دیجیے میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پسند آئی کیونکہ وہ لڑکے تھے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے باپ کو قتل کر دو وہ ایسا کرنے کے لئے مڑ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور فرمایا : آؤ ! مجھے اس لئے مبعوث نہیں کیا گیا کہ رشتے داری کے حقوق کو پامال کروں اس کے بعد طلحہ نامی وہ صاحبزادے بیمار ہو گئے سردی اور بارش والے دن شام کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے جب آپ واپس جانے لگے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اہل خانہ سے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ طلحہ مرنے کے قریب ہے ، جب یہ فوت ہو جائے تو تم مجھے اس بارے میں بتا دینا تاکہ میں اس کے جنازے میں شریک ہوؤں اور اس کی نماز جنازہ پڑھاؤں ابھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بنو سالم بن عوف کے محلے تک نہیں پہنچے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا رات تاریک ہو چکی تھی طلحہ نے یہ کہا: تم لوگ مجھے دفن کر دینا اور مجھے میرے پروردگار کے سپرد کر دینا تم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ بلانا کیونکہ مجھے یہودیوں کے حوالے سے یہ اندیشہ ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں اگلے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع دی گئی تو آپ تشریف لائے یہاں تک کہ آپ ان کی قبر کے پاس آ کے ٹھہرے لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی پھر آپ نے دونوں ہاتھ بلند کر کے یہ دعا کی : ” اے اللہ ! تو طلحہ سے ایسے عالم میں ملنا کہ وہ تجھے دیکھ کے ہنس رہا ہو ، اور تو اسے دیکھ کے ہنس رہا ہو “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” اطراف “ کے مصنف نے اس روایت کے کچھ حصے کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے ، اور میں نے اس کتاب میں
یہ روایت نہیں دیکھی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت نہیں دیکھی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔