کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: خواتین کا جنازے کے ساتھ جانا
حدیث نمبر: 4123
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ لِلنِّسَاءِ أَجْرٌ فِي اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَجَاهِيلُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” خواتین کو جنازے کے ساتھ جانے میں اجر نہیں ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس میں مجہول راوی پائے جاتے ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4123
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4124
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نِسْوَةً فَقَالَ : " أَتَحْمِلْنَهُ ؟ " قُلْنَ : لَا ، قَالَ : " أَتَدْفِنَّهُ ؟ " ، قُلْنَ : لَا . قَالَ : " فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ الذَّهَبِيُّ : ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے آپ نے خواتین کو ملاحظہ فرما کر دریافت کیا : تم اسے کندھا دو گی ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم اسے دفن کرو گی ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : پھر تم ایسی حالت میں واپس جاؤ کہ تمہیں گناہ ہوا ہو تمہیں اجر نصیب نہ ہو ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن زیاد ہے ۔ امام ذہبی فرماتے ہیں وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4124
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4125
وَعَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ قَالَ : سَأَلَتُ رَبِيعَةَ الْمَعَافِرَيَّ عَنِ الْكُدَى فَقَالَ : أَحْسَبُهَا الْمَقَابِرَ ، قَالَ : فَلَمَّا رَأَيْتُ رَبِيعَةَ شَكَّ لَقِيتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ حَبِيبٍ : وَحَضَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِنَازَةَ رَجُلٍ ، فَلَمَّا وُضِعَتْ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا أَبْصَرَ امْرَأَةً فَسَأَلَ عَنْهَا فَقِيلَ : هِيَ أُخْتُ الْمَيِّتِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَقَالَ لَهَا : " ارْجِعِي " ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا حَتَّى تَوَارَتْ . قَالَ يَزِيدُ : وَقَدْ حَضَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَبَا سَلَمَةَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي آخِرِ حَدِيثٍ ذَكَرَهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَكِنَّهُ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ . ¤
محمد محی الدین
مفضل بن فضالہ بیان کرتے ہیں : میں نے ربیعہ معافری سے ” کدی “ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : میرا خیال ہے وہاں قبرستان تھا راوی کہتے ہیں : جب میں نے ربیعہ کو دیکھا کہ وہ اس بارے میں شک کا شکار ہے تو میری ملاقات یزید بن ابوحبیب سے ہوئی یزید بن حبیب نے یہ بات بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے جنازے میں موجود تھے ، جب اسے رکھا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں تو آپ نے ایک خاتون کو ملاحظہ فرمایا آپ نے اس عورت کے بارے میں دریافت کیا ، تو عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ مرحوم کی بہن ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا تم واپس چلی جاؤ آپ نے اس وقت تک نماز جنازہ شروع نہیں کی جب تک وہ عورت اوجھل نہیں ہو گئی ۔ یزید نامی راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوئی تھیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ایک حدیث کے آخر میں نقل کی ہے ، جس کو انہوں نے ذکر کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم اس کی سند منقطع ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4125
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (6747،6746)»
حدیث نمبر: 4126
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ : إِنِّي لَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قُرِّبَتْ إِلَيْهِ جِنَازَةٌ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا ، فَالْتَفَتَ فَنَظَرَ إِلَى امْرَأَةٍ مُقْبِلَةٍ فَقَالَ : " رَدُّوهَا " فَرَدُّوهَا مِرَارًا حَتَّى تَوَارَتْ ، فَلَمَّا رَآهَا تَوَارَتْ كَبَّرَ عَلَيْهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا ، جب آپ کے سامنے ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں آپ نے توجہ کی ، تو آپ کو ایک عورت آتی ہوئی نظر آئی آپ نے ارشاد فرمایا : اسے واپس کر دو تو لوگوں نے اسے کئی مرتبہ واپس کیا یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی جب آپ نے دیکھا کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئی ہے ، تو پھر آپ نے نماز جنازہ کی تکبیر کہی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ عرزمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4126
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4127
وَعَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عَلَى جِنَازَةٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ بِمِجْمَرٍ تُرِيدُ الْجِنَازَةُ فَصَاحَ بِهَا حَتَّى دَخَلَتْ فِي آجَامِ الْمَدِينَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، حَنَشٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
حنش بن معتمر اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز جنازہ ادا کرنے لگے تھے اسی دوران ایک خاتون انگیٹھی لے کر آئی وہ جنازے میں شامل ہونا چاہتی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلند آواز میں ( پکار کر واپس جانے کے لئے کہا: ) یہاں تک کہ جب وہ مدینہ منورہ کی عمارات میں داخل ہو گئی ( تو آپ نے نماز جنازہ پڑھائی ) “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ حنش نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4127
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (321/20)»
حدیث نمبر: 4128
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِنَازَةً ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهَا الْتَفَتَ فَإِذَا هُوَ بِامْرَأَةٍ ، فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى لَمْ يَرَهَا ، ثُمَّ تَقَدَّمَ وَكَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا جب آپ نماز جنازہ شروع کرنے لگے تو آپ نے توجہ کی ، تو ایک عورت موجود تھی آپ کے حکم کے تحت اسے وہاں سے بھجوا دیا گیا یہاں تک کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئی تو پھر آپ آگے بڑھے آپ نے نماز جنازہ میں چار تکبیریں کہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سالم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4128
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف