کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جنازے کے لیے کھڑا ہونا
حدیث نمبر: 4110
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ رَأَى جِنَازَةً فَقَامَ لَهَا وَقَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى جِنَازَةً فَقَامَ لَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ بِمَا يَشْفِي . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے جنازہ دیکھا تو وہ کھڑے ہو گئے پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے جنازے کو دیکھا تو اس کے لئے کھڑے ہو گئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمران بن مناح ہے میں نے کسی کو اس کے ایسے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا جو شفاء بخش ہوں ( یعنی ضرورت پوری کر دیں ) ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4110
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4111
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَمُرُّ بِنَا جِنَازَةُ الْكَافِرِ نَقُومُ لَهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ قُومُوا لَهَا ; فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ الْأَرْوَاحَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ بھی گزرتا ہے ، تو کیا ہم اس کے لئے بھی کھڑے ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ تم اس کے لئے کھڑے ہو کیونکہ تم اس جنازے کے لئے کھڑے نہیں ہوتے ہو تم اس ذات کے لئے کھڑے ہوتے ہو جو ارواح کو قبض کرتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4111
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4112
وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اس کے لئے کھڑے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4112
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (6573)»
حدیث نمبر: 4113
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : لَا نَعْلَمُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ یہ فرماتے ہیں ہمارے علم کے مطابق
یہ روایت سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے بعض حضرات نے یہ بات بیان کی ہے یہ سیدنا ابوسعید بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4113
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 4114
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَامَ فَقِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ ؟ فَقَالَ : " إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ قُلْتُ : وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ غَيْرُ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا آپ کھڑے ہو گئے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : موت کی پریشانی ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام نسائی رحمہ اللہ نے روایت نقل کی ہے جو جنازے کے لئے کھڑے ہونے کے بارے میں ہے ، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4114
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4115
وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا ، أَوْ يَهُودِيًّا ، أَوْ نَصْرَانِيًّا فَقُومُوا لَهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهَا نَقُومُ وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ " . ¤ قَالَ لَيْثٌ : فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيُّ فَقَالَ : إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ عَلِيٍّ نَنْتَظِرُ جِنَازَةً ؛ إِذْ مَرَّتْ بِنَا أُخْرَى فَقُمْنَا ، فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا يُقِيِمُكُمْ ؟ فَقُلْنَا : هَذَا مَا تَأْتُونَا بِهِ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : وَمَا ذَاكَ ؟ قُلْتُ : زَعَمَ أَبُو مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا ، أَوْ يَهُودِيًّا ، أَوْ نَصْرَانِيًّا فَقُومُوا لَهَا ; فَإِنَّهُ لَيْسَ نَقُومُ لَهَا وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ " ، فَقَالَ عَلِيٌّ : مَا فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ مَرَّةٍ بِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ ، كَانُوا أَهْلَ كِتَابٍ وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِهِمْ ، فَإِذَا نُهِيَ انْتَهَى فَمَا عَادَ بَعْدُ . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ عَلِيٍّ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے تو خواہ وہ مسلمان ہو ، یا عیسائی ہو ، یا یہودی ہو تم اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ کیونکہ ہم اس کے لئے کھڑے نہیں ہوتے ہیں بلکہ ہم اس وجہ سے کھڑے ہوتے ہیں جو فرشتے اس کے ساتھ ہوتے ہیں “ ۔ لیث بیان کرتے ہیں : میں نے مجاہد کو یہ حدیث بیان کی ، تو انہوں نے بتایا : عبداللہ بن سخبرہ ازدی نے مجھے یہ حدیث بیان کی وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے جنازے کا انتظار کر رہے تھے اسی دوران ایک جنازہ گزرا تو ہم کھڑے ہو گئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں کھڑے ہوئے ہو ؟ ہم نے کہا: یہ اس وجہ سے ہے ، جو ( حدیث ) آپ نے ہمیں بیان کی ہے : اے سیدنا محمد کے اصحاب ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کون سی حدیث ہے ؟ میں نے کہا: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب تمہارے پاس سے جنازہ گزرے خواہ مسلمان کا ہو ، یا یہودی کا ہو ، یا عیسائی کا ہو تو تم اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ کیونکہ ہم اس کے لئے کھڑے نہیں ہوتے بلکہ ہم اس کے ساتھ جانے والے فرشتوں کے لئے کھڑے ہوتے ہیں“ ۔ سیدنا علی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا صرف ایک یہودی کے لئے کیا تھا ، آپ ( امور میں ) اہل کتاب کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے تھے ، جب آپ کو اس سے منع کر دیا گیا ، تو آپ باز آ گئے اور اس کے بعد ایسا نہیں کیا ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4115
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4116
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ : " إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا آپ کھڑے ہو گئے اس بارے میں آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : تو آپ نے ارشاد فرمایا : موت کی مخصوص گھبراہٹ ہوتی ہے ۔
یہ روایت امام بزاز نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع اسدی ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4116
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام البزار فى المسند (838)»
حدیث نمبر: 4117
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ لِجِنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یہودی کے جنازے کے لئے کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا ہے ، جو آپ کے پاس سے گزرا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4117
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4118
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : تَذَاكَرْنَا الْقِيَامَ عِنْدَ الْجِنَازَةِ عِنْدَ عَلِيٍّ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ : مَا زِلْنَا نَفْعَلُهُ . فَقَالَ عَلِيٌّ : صَدَقْتَ ; ذَاكَ وَأَنْتُمْ يَهُودُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں جنازے کے لیے قیام کے معاملے میں گفتگو کر رہے تھے تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم مسلسل ایسا کرتے رہے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ٹھیک کہا: ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تم یہودی ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4118
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (252/17)»
حدیث نمبر: 4119
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّ بِهَا عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے جنازے کی وجہ سے کھڑے ہو گئے تھے جو آپ کے پاس سے گزرا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4119
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 4120
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ مَرَّتْ بِهِمْ جِنَازَةٌ فَقَامَ الْقَوْمُ وَلَمْ يَقُمْ فَقَالَ : مَاذَا صَنَعْتُمْ ؟ إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَأَذِّيًا بِرِيحِ الْيَهُودِ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان لوگوں کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو کچھ لوگ کھڑے ہو گئے ، لیکن وہ کھڑے نہیں ہوئے انہوں نے فرمایا : تم لوگوں نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہودی کی بو سے اذیت محسوس کرتے ہوئے کھڑے ہوئے تھے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4120
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4121
وَعَنْ حُسَيْنٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ - أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا - أَنَّهُ قَالَ : إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَجْلِ جِنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّ بِهَا عَلَيْهِ فَقَالَ : آذَانِي رِيحُهَا . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ خَلَا قَوْلَهُ : آذَانِي رِيحُهَا ، وَحَدِيثُ حُسَيْنٍ لَيْسَ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یا ان دونوں حضرات میں سے کسی ایک کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ” ایک یہودی کا جنازہ پاس سے گزرنے پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے آپ نے ارشاد فرمایا : اس کی بو نے مجھے اذیت پہنچائی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اس کی بو نے مجھے اذیت پہنچائی ہے “ ۔ جبکہ سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث محدثین میں سے کسی اور نے نقل نہیں کی ہے
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4121
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4122
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ قَالَ : مَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِتِلْكَ الْجِنَازَةِ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ يَهُودِيَّةً ، فَإِذَا هِيَ رِيحُ بَخُورِهَا ، فَقَامَ حَتَّى جَازَتْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عَمْرٍو السَّدُوسِيُّ ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ أَبِي عَامِرٍ الْعَقَدِيِّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عیاش بن ابوربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس جنازے کی وجہ سے کھڑے نہیں ہوئے تھے وہ جنازہ ایک یہودی عورت کا تھا ، اس کی دھونی کی بو کی وجہ سے آپ کھڑے ہوئے تھے ، اور اس وقت تک کھڑے رہے تھے ، جب تک وہ آگے نہیں گزر گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو سدوسی ہے ابوعامر عقدی کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4122
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف