کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جو شخص جنازے کے ساتھ چلتا ہے س کے لئے خاموش رہنے اور غور و فکر کا ( حکم ہونا )
حدیث نمبر: 4129
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الصَّمْتَ عِنْدَ ثَلَاثٍ : عِنْدَ تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ ، وَعِنْدَ الزَّحْفِ ، وَعِنْدَ الْجِنَازَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ تین مواقع پر خاموشی کو پسند کرتا ہے قرآن کی تلاوت کے وقت ، میدان جنگ میں اور جنازے کے وقت “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4129
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5130)»
حدیث نمبر: 4130
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا شَهِدَ جِنَازَةً رُئِيَتْ عَلَيْهِ كَآبَةٌ وَأَكْثَرَ حَدِيثَ النَّفْسِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي آثَارٌ فِي هَذَا فِي الْمَنَاقِبِ ، وَفِي بَابِ مَا يَقُولُ عِنْدَ إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے میں شریک ہوتے تھے تو آپ پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوتے تھے ، اور آپ زیادہ تر اپنے خیالوں میں گم ہوتے تھے ( یعنی دوسروں کے ساتھ بات چیت نہیں کرتے تھے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس بارے میں مختلف آثار ” مناقب “ سے متعلق باب میں آئیں گے اور اس باب میں آئیں گے کہ جب میت کو قبر میں داخل کیا جائے تو اس وقت کیا پڑھا جائے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4130
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11189)»