کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: میت کے بارے میں کیا کہا جائے ؟ اس چیز میں سے جو اس میں پائی جاتی ہے
حدیث نمبر: 4031
عَنْ أُمِّ عَبَّاسٍ قَالَتْ : جَعَلَتْ أُمُّ سَعْدٍ تَقُولُ : وَيْلَ أُمِّ سَعْدٍ سَعْدًا صَرَامَةً وَجِدًّا " فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَزِيدِينَ عَلَى هَذَا ، لَا تَزِيدِينَ عَلَى هَذَا ، وَكَانَ وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ حَازِمًا فِي أَمْرِ اللَّهِ ، قَوِيًّا فِي أَمْرِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُسْلِمٌ الْمُلَائِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام عباس بیان کرتی ہیں : سیدہ ام سعد نے یہ کہنا شروع کیا : ام سعد کے لئے بربادی ہے ، سعد بہادر اور مضبوط تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اس سے زیادہ نہ کہنا ، تم اس سے زیادہ نہ کہنا ، اللہ کی قسم ! میں یہ جانتا ہوں کہ وہ اللہ کے معاملے میں احتیاط کرنے والا تھا اور اللہ کے معاملے میں قوی تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلم ملائی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4031
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4032
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ; قَالَتْ أُمُّ سَعْدٍ حِينَ احْتُمِلَ نَعْشُهُ وَهِيَ تَبْكِيهِ : وَيْلَ أُمِّ سَعْدٍ سَعْدًا صَرَامَةً وِجِدًّا ، وَسَيِّدًا سُدَّ بِهِ مَسَدًّا . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ بَاكِيَةٍ تَكْذِبُ إِلَّا بَاكِيَةَ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ " . ¤
محمد محی الدین
انہوں نے یہ روایت محمد بن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے : وہ یہ کہتے ہیں : جب اُن کی لاش کو اٹھایا گیا ، تو ام سعد نے روتے ہوئے یہ کہا: ام سعد کے لئے بربادی ہے ، سعد بہادر اور مضبوط تھا اور سردار تھا ، جس کے ذریعے بچاؤ کیا جاتا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر رونے والی جھوٹ بولتی ہے ، البتہ سعد پر رونے والی کا معاملہ مختلف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4032
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 4033
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ نِسَاءَ بَنِي مَخْزُومٍ قَدْ أَقَمْنَ مَأْتَمَهُنَّ عَلَى الْوَلِيدِ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، فَأَذِنَ لَهَا ، فَقَالَتْ وَهِيَ تَبْكِيهِ : " ¤ أَبْكِي الْوَلِيدَ بْنَ [ الْوَلِيدِ بْنَ ] الْمُغِيرَةِ أَبْكِي الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَخَا الْعَشِيرَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ثَابِتٌ أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيِّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بنو مخزوم کی خواتین ولید بن ولید بن مغیرہ پر ماتم کرنے کے لئے تیار ہوئی ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی تو ایک خاتون نے روتے ہوئے یہ شعر کہا: ” میں ولید بن ولید بن مغیرہ پر رو رہی ہوں ، میں ولید بن ولید پر رو رہی ہوں ، جو خاندان کا بھائی ( یعنی ایک اہم فرد ) تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ثابت ابوحمزہ ثمالی ہے وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4033
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (991)»