حدیث نمبر: 4008
عَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ لَا يَزَلْنَ فِي أُمَّتِي حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ : النِّيَاحَةُ ، وَالْمُفَاخَرَةُ فِي الْأَنْسَابِ ، وَالْأَنْوَاءُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں میری امت میں قیامت قائم ہونے تک مسلسل رہیں گی نوحہ کرنا نسب پر فخر کرنا اور ستاروں پر اعتماد کرنا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4008
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
حدیث نمبر: 4009
وَعَنْ جُنَادَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " ثَلَاثٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَنْ يَدَعَهُنَّ أَهْلُ الْإِسْلَامِ أَبَدًا : الِاسْتِمْطَارُ بِالْكَوَاكِبِ ، وَطَعْنٌا فِي النَّسَبِ ، وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ مُصْعَبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ جُنَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَ مُصْعَبًا وَلَا أَبَاهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جنادہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تین چیزیں زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں اہل اسلام کبھی ترک نہیں کریں گے ستاروں کی مدد سے بارش نازل ہونے کی امید رکھنا نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں مصعب بن عبیداللہ بن جنادہ کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے ان کے دادا سے نقل کی ہے ۔ میں نے کسی کو مصعب یا ان کے دادا کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4009
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4010
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْمُزَنِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثٌ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَدَعُهُنَّ النَّاسُ - أَوْ لَا يَتْرُكُهُنَّ النَّاسُ : الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ ، وَالنِّيَاحَةُ ، وَقَوْلُهُمْ : إِنَّا مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا ، وَنَجْمِ كَذَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک مزنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” تین چیزیں زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں لوگ نہیں چھوڑیں گے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) لوگ انہیں ترک نہیں کریں گے نسب میں طعن کرنا نوحہ کرنا اور ان کا یہ کہنا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے اور فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ مزنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4010
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (19/17) اخرجه الامام البزار فى المسند (798)»
حدیث نمبر: 4011
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَرْبَعٌ فِي أُمَّتِي لَيْسَ هُمْ بِتَارِكِيهَا : الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ ، وَالنِّيَاحَةُ ، تُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ النَّائِحَةُ إِذَا لَمْ تَتُبْ عَلَيْهَا دِرْعٌ مِنْ قَطِرَانٍ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میری امت میں چار چیزیں ایسی ہیں جنہیں وہ ترک نہیں کریں گے حسب میں فخر کرنا سب میں طعن کرنا ، نوحہ کرنا قیامت کے دن نوحہ کرنے والی عورت کو اٹھایا جائے گا جب کہ اس عورت نے نوحے کے حوالے سے ( دنیا میں ) توبہ نہیں کی ہو گی ، تو اس پر قطران ( تارکول ، یا کولتار کی مانند ایک چیز جو بعض درختوں سے بنائی جاتی ہے ) کی قمیص ہو گی “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4011
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 4012
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي فَقَالَ : " يَا عَبَّاسُ ، ثَلَاثٌ لَا يَدَعُهُنَّ قَوْمُكَ : الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ ، وَالنِّيَاحَةُ ، وَالِاسْتِمْطَارُ بِالْأَنْوَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا : اے عباس ! آپ کی قوم تین چیزیں ترک نہیں کرے گی نسب میں طعن کرنا ، نوحہ کرنا اور ستاروں کی مدد سے بارش کے نزول کا خواہاں ہونا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4012
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4013
وَعَنْ سَلْمَانَ ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " ثَلَاثَةٌ مِنَ الْجَاهِلِيَّةِ : الْفَخْرُ فِي الْأَحْسَابِ ، وَالطَّعْنُ فِي الْأَنْسَابِ ، وَالنِّيَاحَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ أَبُو الصَّبَّاحِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تین چیزیں زمانہ جاہلیت سے تعلق رکھتی ہیں حسب میں فخر کرنا ، نسب میں طعن کرنا اور نوحہ کرنا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور ابوصباح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4013
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6100)»
حدیث نمبر: 4014
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ رَنَّ إِبْلِيسُ رَنَّةً اجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ جُنُودُهُ فَقَالُوا : ايْئَسُوا أَنْ تَرَدُّوا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ عَلَى الشِّرْكِ بَعْدَ يَوْمِكُمْ هَذَا ، وَلَكِنِ افْتِنُوهُمْ فِي دِينِهِمْ ، وَأَفْشُوا فِيهِمُ النَّوْحَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو ابلیس رونے لگا اس کے لشکر کے افراد اس کے گرد اکھٹے ہو گئے انہوں نے کہا: تم لوگ اس بات سے مایوس ہو جاؤ کہ تم سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کو آج کے دن کے بعد شرک کی طرف لوٹا دو گے ، لیکن تم انہیں ان کے دین کے حوالے سے آزمائش کا شکار کر دو گے اور ان کے درمیان نوحہ کو پھیلا دینا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4014
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12318)»
حدیث نمبر: 4015
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا تُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ عَلَى نَائِحَةٍ وَلَا مُرِنَّةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ أَبُو مِرَايَةَ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَّحَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” فرشتے نوحہ کرنے والی عورت اور رونے والی عورت پر رحمت نازل نہیں کرتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومرایہ ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4015
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4016
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَنَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ وَقَالَ : " لَيْسَ لِلنِّسَاءِ فِي الْجِنَازَةِ نَصِيبٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الصَّبَّاحُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی عورت اور اسے غور سے سننے والی عورت پر لعنت کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا : خواتین کا جنازے میں کوئی حصہ نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صباح ابوعبداللہ ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4016
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4017
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَوْتَانِ مَلْعُونَانِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ : مِزْمَارٌ عِنْدَ نِعْمَةٍ ، وَرَنَّةٌ عِنْدَ مُصِيبَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” دو قسم کی آوازیں دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں نعمت کے وقت باجے کی آواز اور مصیبت کے وقت رونے کی آواز “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4017
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4018
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَيُّمَا نَائِحَةٍ مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَتُوبَ أَلْبَسَهَا اللَّهُ سِرْبَالًا مِنْ نَارٍ ، وَأَقَامَهَا لِلنَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی نوحہ کرنے والی عورت توبہ کیے بغیر مر جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسے آگ کی بنی ہوئی قمیص پہنائے گا ، اور قیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے کھڑا کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4018
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6005)»
حدیث نمبر: 4019
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ هَذِهِ النَّوَائِحَ يُجْعَلْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَفَّيْنِ فِي جَهَنَّمَ : صَفٌّ عَنْ يَمِينِهِمْ ، وَصَفٌّ عَنْ يَسَارِهِمْ ، فَيَنْبَحْنَ عَلَى أَهْلِ النَّارِ كَمَا تَنْبَحُ الْكِلَابُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
- سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن نوحہ کرنے والی عورتوں کی جہنم میں دو صفیں ہوں گی ایک صف اہل جہنم کے دائیں طرف ہو گی ، اور ایک صف اہل جہنم کے بائیں طرف ہو گی ، اور وہ اہل جہنم پر یوں بھونکیں گی جس طرح کتے بھونکتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4019
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4020
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ کے رسول نے نوحہ کرنے والی اور ( نوحہ کو ) غور سے سننے والی عورت پر لعنت کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عطیہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4020
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 4021
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " النَّوَائِحُ عَلَيْهِنَّ سَرَابِيلُ مِنْ قَطِرَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” نوحہ کرنے والی عورتوں پر ، قطران ( تارکول کی مانند ایک چیز ) کی قمیص ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4021
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 4022
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " النَّائِحَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى طَرِيقٍ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، سَرَابِيلُهَا مِنْ قَطِرَانٍ ، وَيَغْشَى وَجْهَهَا النَّارُ إِذَا لَمْ تَتُبْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” نوحہ کرنے والی عورت قیامت کے دن جنت اور جہنم کے درمیان موجود راستے پر ہو گی اس کی قمیص ، قطران تارکول کی مانند ایک چیز ) ہو گی ، اور اس کے چہرے ( یا اس کے وجود ) کو آگ نے ڈھانپ لیا ہو گا ، جبکہ اس نے ( مرنے سے پہلے دنیا میں ) توبہ نہیں کی ہو گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4022
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبرانى فى المعجم الكبير (7818)»
حدیث نمبر: 4023
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ نَهَى عَنِ النَّوْحِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ أَبِي عِيسَى الْحَنَّاطُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے نوحہ کرنے سے منع کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابوعیسی حناط ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4023
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4024
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُنَحْ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور اس کی حدیث حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4024
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 4025
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَادَ أَبَا سَلَمَةَ وَهُوَ وَجِعٌ ، فَسَمِعَ قَوْلَ أُمِّ سَلَمَةَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَنَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الدُّخُولِ حِينَ سَمِعَهَا تَبْكِيهِ بِكِتَابِ اللَّهِ تَقُولُ : ( وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ ) فَدَخَلَ ، ثُمَّ سَلَّمَ ، ثُمَّ قَالَ : " أَخْلَفَ اللَّهُ عَلَيْكِ يَا أُمَّ سَلَمَةَ " ، فَلَمَّا خَرَجَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ : رَأَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَرِهْتَ الدُّخُولَ لِأَنَّهُمْ يَنُوحُونَ ؟ قَالَ : " لَسْتُ أَدْخُلُ دَارًا فِيهَا نَوْحٌ وَلَا كَلْبٌ أَسْوَدُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ نَهِيكٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخْطِئُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کر رہے تھے انہیں تکلیف لاحق تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی آواز سنی جو رو رہی تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے رونے کی آواز سنی کہ وہ اللہ کی کتاب کی یہ آیت پڑھتے ہوئے رو رہی تھیں ۔ ” اور موت کی بیہوشی حق کے ساتھ آ گئی یہ وہ چیز ہے جس سے تم بھاگتے تھے “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے پھر آپ اندر داخل ہوئے پھر آپ نے سلام کیا ، پھر آپ نے فرمایا : اے ام سلمہ اللہ تعالیٰ تمہارا نگہبان ہو گا جب آپ واپس تشریف لے گئے تو آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اندر داخل ہونے کو ناپسند کیا کیونکہ وہ لوگ نوحہ کر رہے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں ایسے کسی گھر میں داخل نہیں ہوتا ، جس میں نوحہ ہو رہا ہو ، یا سیاہ کتا ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن نہیک ہے ، جسے ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے : وہ غلطی کرتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4025
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13606)»
حدیث نمبر: 4026
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ سَمِعْتُ الْوَاعِيَةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اذْهَبْ فَانْظُرْ مَا هَذَا ؟ " قَالُوا : عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ مَاتَ ، قَالَ : " لَمْ يَمُتْ " . فَأَفَاقَ ، وَكَانَ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَأُخْبِرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْتِيهِ فَتَلَقَّاهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُغْمِيَ عَلَيَّ فَصَاحَتِ النِّسَاءُ : وَاعَزَاءَاهْ ، وَاجَبَلَاهْ . فَقَالَ مَلَكٌ مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ فَجَعَلَهَا بَيْنَ رِجْلِي فَقَالَ : كَمَا تَقُولُ تَقُولُ ؟ قُلْتُ : لَا ، وَلَوْ قُلْتُ : نَعَمْ ، ضَرَبَنِي بِهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَعْمَشُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ الْحَنَفِيُّ فِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلتا ہوا جا رہا تھا اسی دوران میں نے کسی رونے والی کی آواز سنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ اور جا کر دیکھو کہ کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ نہیں مرا ہے ، جب ان صاحب کو ہوش آیا جن پر پہلے بے ہوشی طاری تھی اور انہیں یہ بات بتائی گئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس آئے ہیں تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھ پر بے ہوشی طاری ہوئی عورتوں نے چیخ کر کہنا شروع کیا ہائے زبردست آدمی ہائے پہاڑ تو ایک فرشتہ جس کے پاس گرز تھا اس نے اس گرز کو میری دونوں ٹانگوں کے درمیان رکھا اور بولا: جس طرح یہ عورت کہہ رہی ہے تم بھی اس طرح کہتے ہو ؟ میں نے کہا: جی نہیں اگر میں یہ کہہ دیتا جی ہاں تو اس نے مجھے ( گرز ) مار دینا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اعمش نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے محمد بن جابر حنفی نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4026
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4027
وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، فَجَعَلَتْ أُخْتُهُ تَقُولُ : وَاجَبَلَاهْ أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ : مَا زِلْتِ مُؤْذِيَةً لِي مُنْذُ الْيَوْمِ ، قَالَتْ : لَقَدْ كَانَ يَعِزُّ عَلَيَّ أَنْ أُوذِيَكَ ! قَالَ : مَا زَالَ مَلَكٌ شَدِيدُ الِانْتِهَارِ كُلَّمَا قُلْتِ : وَاكَذَا قَالَ : وَكَذَا أَنْتَ ؟ فَأَقُولُ : لَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْحَسَنُ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہوئی تو ان کی بہن نے یہ کہنا شروع کر دیا : ہائے پہاڑ یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ کہا: جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے فرمایا : آج تم مجھے مسلسل اذیت پہنچا رہی ہو اس خاتون نے کہا: مجھ کو غم لاحق ہو ، اگر میں آپ کو اذیت پہنچاؤں تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک فرشتہ جو زبردست ڈانٹ پھٹک کرنے والا تھا جب بھی تم کہتی تھی یہ ایسا ہے ، تو وہ فرشتہ مسلسل یہ کہتا تھا کیا تم ایسے ہو ، تو میں کہتا تھا جی نہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ حسن بصری نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4027
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (35/20)»
حدیث نمبر: 4028
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ نُوحٍ قَالَ : أَدْرَكْتُ عَجُوزًا لَنَا كَانَتْ فِيمَنْ بَايَعَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : فَأَتَيْنَاهُ يَوْمًا فَأَخَذَ عَلَيْنَا أَنْ لَا تَنُحْنَ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
مصعب بن نوح بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی کچھ بوڑھی خواتین کو پایا جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر بیعت کی تھی وہ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ ہم ( خواتین ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ نے ہم سے یہ عہد لیا کہ تم نوحہ نہیں کرو گی ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4028
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4029
وَعَنْ سَمُرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَحْمَدُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میت کو اس چیز کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے ، جو اس پر نوحہ کیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابراہیم عبدی ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4029
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 4030
وَعَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ الْكَافِرُ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَمُوتُ فَيَبْكِيهِ أَهْلُهُ فَيَقُولُونَ : الْمُطْعِمُ الْجِفَانَ الْمُقَاتِلُ الَّذِي . . فَيَزِيدُهُ اللَّهُ عَذَابًا بِمَا يَقُولُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کفار قریش میں سے ایک کافر مر گیا اس کے اہل خانہ اس پر رو رہے تھے ، اور یہ کہہ رہے تھے کھانا کھلانے والا جو ہنڈیاں کھلاتا تھا اور لڑائی کرنے والا جو ایسا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے کہی ہوئی بات کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کر دیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 4030
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف