کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اولاد کی موت کا بیان
حدیث نمبر: 3968
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَمَّا مَاتَ ابْنُ آدَمَ قَالَ آدَمُ لِامْرَأَتِهِ حَوَّاءَ : إِنَّهُ قَدْ مَاتَ ابْنُكِ . قَالَتْ : وَمَا الْمَوْتُ ؟ قَالَ : لَا يَطْعَمُ ، وَلَا يَشْرَبُ ، وَلَا يَبْطِشُ ، وَلَا يَمْشِي . فَلَمَّا قَالَ ذَلِكَ صَرَخَتْ فَقَالَ : الرَّنَّةُ عَلَيْكِ وَعَلَى بَنَاتِكِ ، وَأَنَا وَبَنِيَّ بُرَآءُ . فَصَارَتِ الْمَوَاتِيمُ عَلَى النِّسَاءِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ سَيَّارٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب سیدنا آدم علیہ السلام کے پہلے بچے کا انتقال ہوا تو سیدنا آدم علیہ السلام نے اپنی زوجہ سیدہ حواء رضی اللہ عنہا سے کہا: تمہارا بیٹا مر گیا ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : موت کیا ہوتی ہے ؟ سیدنا آدم علیہ السلام نے فرمایا : اب یہ نہ کچھ کھائے گا ، اور نہ کچھ پیئے گا نہ پکڑے گا نہ چلے گا جب سیدنا آدم علیہ السلام نے یہ بات کہی تو سیدہ حواء رضی اللہ عنہا نے چیخ ماری تو سیدنا آدم علیہ السلام نے کہا: اب تم پر اور تمہاری بیٹیوں پر رونا دھونا مقرر ہو گیا ہے ، اور میں اور میرے بیٹے اس سے لاتعلق ہوں گے تو اس کے بعد خواتین ( کسی میت پر زیادہ ) روتی پیٹتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن سیار ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3968
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3969
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : حَدِّثْنَا حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ فِيهِ انْتِقَاصٌ وَلَا وَهْمٌ . قَالَ : سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ وُلِدَ لَهُ ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ فِي الْإِسْلَامِ فَمَاتُوا قَبْلَ أَنْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ ، وَمَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِنَّ لِلْجَنَّةِ ثَمَانِيَةَ أَبْوَابٍ يُدْخِلُهُ اللَّهُ مِنْ أَيِّ بَابٍ شَاءَ مِنْهَا الْجَنَّةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِاخْتِصَارِ النَّفَقَةِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : أَدْخَلَهُ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ هُوَ وَإِيَّاهُمُ الْجَنَّةَ " وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : میں نے ان سے کہا: آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو اس میں کوئی کمی اور کوئی وہم باقی نہ ہو ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کے اسلام میں ( یعنی مسلمان ہونے کے دوران ) تین بچے پیدا ہوں اور پھر وہ بالغ ہونے سے پہلے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنی رحمت کی وجہ سے اس شخص کو جنت میں داخل کرے گا ، اور جو شخص ( کسی بھی چیز کا ) جوڑا اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا ، تو جنت کے آٹھ دروازوں میں سے وہ جس بھی دروازے سے چاہے گا اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اور اس میں صرف خرچ کرنے کا حصہ نقل کیا ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اللہ تعالیٰ اسے اور ان لوگوں کو اپنی رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل کر دے گا “ ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3969
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 3970
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ : مَنْ أَثْكَلَ ثَلَاثَةً مِنْ صُلْبِهِ فَاحْتَسَبَهُمْ عَلَى اللَّهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس کے تین سگے بچے فوت ہو جائیں اور وہ اللہ کی راہ میں اللہ تعالیٰ کی ذات سے ان کے بارے میں ثواب کی امید رکھے اُس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3970
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «مسند أحمد بن حنبل، مسند الشاميين ، حديث عقبة بن عامر الجهني عن النبى صلى الله عليه وسلم ، 16982، المعجم الكبير للطبراني ، من اسمه عبد الله ، من اسمه عقيل ، عمرو بن الحارث ، 14660»
حدیث نمبر: 3971
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ : حَدَّثَتْنَا امْرَأَةٌ كَانَتْ تَأْتِينَا يُقَالُ لَهَا : مَاوِيَّةُ ، كَانَتْ تُرْزَأُ فِي وَلَدِهَا ، فَأَتَتْ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْمَرٍ الْقُرَشِيَّ وَمَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَنْ يُبْقِيَهُ لِي ; فَقَدْ مَاتَ لِي قَبْلَهُ ثَلَاثَةٌ . فَقَالَ : " أَمُنْذُ أَسْلَمْتِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمُنْذُ أَسْلَمْتِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمُنْذُ أَسْلَمْتِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جُنَّةٌ حَصِينَةٌ " . ¤ فَقَالَتْ مَاوِيَّةُ : قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْمَرٍ : اسْمَعِي يَا مَاوِيَّةُ . قَالَ مُحَمَّدٌ : فَخَرَجَتْ مَاوِيَّةُ مِنْ عِنْدِ ابْنِ مَعْمَرٍ ، فَحَدَّثَتْنَا هَذَا الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا مَاوِيَّةَ شَيْخَةَ ابْنِ سِيرِينَ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نے ہمیں حدیث بیان کی وہ خاتون ہمارے ہاں آیا کرتی تھی اس کی نام ماویہ تھا اس کا بچہ نہیں بچتا تھا وہ خاتون عبیداللہ بن معمر قرشی کے پاس آئی ان کے پاس ایک صحابی موجود تھے ان صحابی نے یہ بات بیان کی کہ ایک مرتبہ ایک خاتون اپنے بچے کو ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ اس بچے کو میرے لئے رہنے دے کیونکہ اس سے پہلے میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے اسلام قبول کرنے کے بعد ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے اسلام قبول کرنے کے بعد ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے اسلام قبول کرنے کے بعد ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک مضبوط ڈھال ہے ۔ ماویہ نامی خاتون بیان کرتی ہیں : عبیداللہ بن معمر نے کہا: اے ماویہ تم اس بات کو سن لو محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : ماویہ نامی خاتون عبیداللہ بن معمر کے پاس سے نکلیں تو انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف ابن سیرین کی استانی ” ماویہ “ نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3971
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 3972
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ - أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَاصِمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا ضَعَّفَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ جو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس بھی دو مسلمان ( میاں بیوی ) کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل سے ان ( میاں بیوی ) کو جنت میں داخل کرے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن عاصم انصاری ہے میں نے کسی کو اسے ” ثقہ “ قرار دیتے ہوئے یا اسے ” ضعیف “ قرار دیتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3972
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3973
وَعَنِ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا رَجَاءُ ، قَالَتْ : كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ لِي فِيهِ بِالْبَرَكَةِ ; فَإِنَّهُ قَدْ تُوُفِّيَ لِي ثَلَاثَةٌ . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمُنْذُ أَسْلَمْتِ ؟ " قَالَتْ : نَعَمْ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جُنَّةٌ حَصِينَةٌ " . فَقَالَ لِي رَجُلٌ : اسْمَعِي يَا رَجَاءُ مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ سَمَّاهَا رَحْمَاءَ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک خاتون جن کا نام سیدہ رجاء رضی اللہ عنہا تھا وہ بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھی اسی دوران ایک خاتون اپنے بچے کو لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے اس بچے کے بارے میں میرے لئے برکت کی دعا کر دیں کیونکہ میرے تین بچے فوت ہو چکے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے اسلام قبول کرنے کے بعد ( تمہارے تین بچے فوت ہوئے ہیں ؟ ) اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ ایک مضبوط ڈھال ہے تو ایک صاحب نے مجھ سے کہا: اے رجاء ! تم سن لو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا ارشاد فرما رہے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس خاتون کا نام رحماء بیان کیا ہے ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3973
درجۂ حدیث محدثین: إسناده رجالُہ
حدیث نمبر: 3974
وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدِ اسْتَجَنَّ جُنَّةً حَصِينَةً مَنْ سَلَفَ لَهُ ثَلَاثَةُ أَوْلَادٍ فِي الْإِسْلَامِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ " بِجُنَّةٍ كَثِيفَةٍ " ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو شَيْبَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ایسا شخص مضبوط ڈھال حاصل کر لیتا ہے ، جس کے اسلام قبول کرنے کے بعد ( یا مسلمان ہونے کے عالم میں ) تین بچے فوت ہو جائیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے لفظ ” موٹی ڈھال “ نقل کیا ہے اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ابوشیبہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3974
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3975
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِذٍ ، أَنَّ شُرَحْبِيلَ بْنَ السِّمْطِ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ : هَلْ أَنْتَ مُحَدِّثِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَصَافُّونَ مِنْ أَجْلِي ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينَ يَتَنَاصَرُونَ مِنْ أَجْلِي ، وَمَا مِنْ مُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ يُعْدِمُ اللَّهُ لَهُمْ ثَلَاثَةَ أَوْلَادٍ مَنْ صُلْبِهِمْ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُنَبِّهُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن عائذ بیان کرتے ہیں : شرحبیل بن سمط نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کریں گے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میری محبت ان لوگوں کے لئے ثابت ہو جاتی ہے ، جو میری خاطر ایک دوسرے کے ساتھ مل کر صف بناتے ہیں اور میری محبت ان لوگوں کے لئے ثابت ہو جاتی ہے ، جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں جو بھی مؤمن مرد یا مومن عورت اپنے تین سگے بچے جو ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں ان کے انتقال کا سامنا کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے اس ( مومن مرد یا عورت ) کو جنت میں داخل کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی منبہ بن عثمان ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3975
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3976
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ لَمْ يَرِدِ النَّارَ إِلَّا عَابِرَ سَبِيلٍ ; يَعْنِي الْجَوَازَ عَلَى الصِّرَاطِ " . ¤ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ أَحْمَدَ بْنَ مَسْعُودٍ الْمَقْدِسِيَّ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن بشیر انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کے تین بچے فوت ہو جائیں جو ابھی بالغ نہ ہوئے ہوں تو وہ شخص صرف راستے کو عبور کرنے والے کے طور پر جہنم پر وارد ہو گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ وہ پل صراط سے گزرتے ہوئے اس پر وارد ہو گا ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے صرف امام أحمد کے استاد أحمد بن مسعود مقدسی کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3976
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3977
وَعَنْ حَبِيبَةَ أَنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَمُوتُ لَهُمَا ثَلَاثَةٌ مِنَ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا جِيءَ بِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يُوقَفُوا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ . فَيَقُولُونَ : حَتَّى يَدْخُلَ آبَاؤُنَا . فَيُقَالُ لَهُمْ : ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا يَزِيدَ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ ; وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَأَعَادَهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَلَيْسَ فِيهِ يَزِيدُ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤
محمد محی الدین
سیده حبیبه رضی اللہ عنہا نامی خاتون بیان کرتی ہیں : وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : جن بھی مسلمان میاں بیوی کے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے فوت ہو جائیں تو انہیں قیامت کے دن لایا جائے گا یہاں تک کہ جنت کے دروازے پر کھڑا کیا جائے گا ، تو ان سے کہا: جائے گا تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ تو وہ کہیں گے جی نہیں جب تک ہمارے ماں باپ داخل نہیں ہوتے تو ان سے کہا: جائے گا تم اور تمہارے ماں باپ جنت میں داخل ہو جاؤ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف یزید بن ابوبکرہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے اس روایت کو ایک اور سند کے ساتھ دوبارہ بھی نقل کیا ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں اور اس کی سند میں یزید بن ابوبکرہ نامی راوی نہیں ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3977
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 3978
وَعَنْ زُهَيْرِ بْنِ عَلْقَمَةَ قَالَ : جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ابْنٍ لَهَا مَاتَ فَكَانَ الْقَوْمُ عَنَّفُوهَا فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ مَاتَ لِي ابْنَانِ مُنْذُ دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ سِوَى هَذَا . فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدِ احْتَظَرْتِ مِنَ النَّارِ بِحِظَارٍ شَدِيدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي لَهُ حَدِيثٌ آخَرُ فِي الْبَابِ الَّذِي بَعْدَ هَذَا ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
زہیر بن علقمہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے بیٹے کے حوالے سے حاضر ہوئی جس کا انتقال ہو گیا تھا لوگوں نے اس خاتون کو ڈانٹا تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے دو بیٹے اس سے پہلے فوت ہو چکے ہیں جو میرے اسلام قبول کرنے کے بعد فوت ہوئے ہیں اور اس کے علاوہ ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے جہنم سے بچنے کے لئے مضبوط بچاؤ ( رکاوٹ ) تیار کر لی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے بعد والے باب میں آگے چل کر ایک اور حدیث آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3978
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3979
وَعَنْ سِنَانٍ مَوْلَى وَاثِلَةَ قَالَ : تُوُفِّيَ وَلَدُ الرَّيَّانِ وَشَهِدَهُ وَاثِلَةُ ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنَ الْمَقْبَرَةِ قَعَدَ وَاثِلَةُ عَلَى بَابِ دِمَشْقَ ، فَمَرَّ بِهِ الرَّيَّانُ فَقَالَ لَهُ وَاثِلَةُ : يَا أَبَا سَعِيدٍ ، جَبَرَ اللَّهُ مُصِيبَتَكَ ، وَغَفَرَ لِمُتَوَفَّاكَ ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ دَفَنَ ثَلَاثَةً مِنَ الْوَلَدِ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَسِنَانٌ مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین
سنان جو سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ریان کے صاحبزادے کا انتقال ہو گیا سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ اس کی آخری رسومات میں شریک ہوئے جب وہ قبرستان سے واپس آئے ، تو سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ دمشق کے دروازے کے پاس بیٹھ گئے جب ریان ان کے پاس سے گزرے تو سیدنا واثلہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوسعید اللہ تعالیٰ تمہاری مصیبت کو ختم کرے اور تمہارے مرحوم کی مغفرت کرے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص تین بچے دفن کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص پر جہنم کو حرام کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور سنان نامی راوی مجہول ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3979
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف