حدیث نمبر: 3959
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ إِلَى جِنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا ، فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا قَامَ فَصَلَّى عَلَيْهَا ، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا غَيْرَ ذَلِكَ قَالَ لِأَهْلِهَا : " شَأْنَكُمْ بِهَا " . وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب جنازے کے لئے بلایا جاتا تھا ، تو آپ اس میت کے بارے میں دریافت کر لیتے تھے اگر اس کی تعریف کی جاتی تھی تو آپ اٹھ کر اس کی نماز جنازہ ادا کرتے تھے ، اور اگر اس کی برائی بیان کی جاتی تھی تو آپ اس کے اہل خانہ سے یہ کہتے تھے کہ تم لوگ خود انتظام کر لو آپ اس شخص کی نماز جنازہ نہیں ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3960
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَتَشْهَدُ لَهُ أَهْلُ أَرْبَعَةِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ إِلَّا قَالَ اللَّهُ : قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ فِيهِ ، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى . وَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَهْلُ أَرْبَعَةِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ أَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ إِلَّا خَيْرًا إِلَّا قَالَ اللَّهُ : قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ " . ¤ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھرانے کے افراد اس کے حق میں گواہی دے دیں ، تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : اس شخص کے بارے میں تمہارے علم کو میں نے قبول کیا ، اور جو چیز تم نہیں جانتے اس کے حوالے سے میں نے اس کی مغفرت کر دی “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھرانے کے افراد اس کے حق میں گواہی دے دیں کہ وہ لوگ اس کے بارے میں صرف بھلائی کا علم رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : تمہارے علم کو میں نے قبول کیا ، اور جس چیز کے بارے میں تم نہیں جانتے اس کے حوالے سے میں نے اس کی مغفرت کر دی“ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، لیکن وہ اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھرانے کے افراد اس کے حق میں گواہی دے دیں کہ وہ لوگ اس کے بارے میں صرف بھلائی کا علم رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : تمہارے علم کو میں نے قبول کیا ، اور جس چیز کے بارے میں تم نہیں جانتے اس کے حوالے سے میں نے اس کی مغفرت کر دی“ ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں بھی مذکور ہے ، لیکن وہ اس کے علاوہ ہے ۔
حدیث نمبر: 3961
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ : " مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَتَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةُ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ بِخَيْرٍ إِلَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : قَدْ قَبِلْتُ شَهَادَةَ عِبَادِي عَلَى مَا عَلِمُوا ، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا أَعْلَمُ " . ¤ قُلْتُ : لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے آپ کے پروردگار کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ” جو بھی مسلمان بندہ فوت ہوتا ہے ، اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے تین گھرانوں کے افراد اس کے حق میں بھلائی کی گواہی دے دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : میں نے اپنے بندوں کی گواہی ان کے علم کے مطابق قبول کی اور اپنے علم والی چیزوں کے حوالے سے اس کی مغفرت کر دی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث ” صحیح “ میں منقول ہے ، لیکن وہ اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3962
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ ، فَأَثْنَى النَّاسُ عَلَيْهَا خَيْرًا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " . ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى فَكَأَنَّ النَّاسَ نَالُوا مِنْهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَجَبَتْ " . فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُتِيَ بِفُلَانٍ فَقَالَ : وَجَبَتْ ، وَأُتِيَ بِفُلَانٍ فَقَالَ : وَجَبَتْ . فَقَالَ عُمَرُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أُتِيَ بِفُلَانٍ فَأَثْنَى النَّاسُ عَلَيْهِ خَيْرًا فَقُلْتَ : وَجَبَتْ ، ثُمَّ أُتِيَ بِفُلَانٍ أَثْنَى النَّاسُ عَلَيْهِ شَرًّا فَقُلْتُ : وَجَبَتْ ؟ فَقَالَ : " أُتِيَ بِأَخِيكُمْ فَشَهِدْتُمْ بِمَا شَهِدْتُمْ فَوَجَبَتْ شَهَادَتُكُمْ ، ثُمَّ أُتِيَ بِأَخِيكُمْ فُلَانٍ فَشَهِدْتُمْ [ بِمَا شَهِدْتُمْ ] فَوَجَبَتْ شَهَادَتُكُمْ ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے اس کی اچھائی بیان کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی پھر ایک اور جنازہ لایا گیا لوگوں نے اس کی برائی بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی صحابہ کرام نے عرض کی : فلاں شخص کا جنازہ لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : واجب ہو گئی پھر فلاں کو لایا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : واجب ہو گئی سیدنا عمر صلی اللہ علیہ وسلم نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں فلاں شخص کو لایا گیا لوگوں نے اس کی تعریف کی ، تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی پھر فلاں کو لایا گیا لوگوں نے اس کی برائی بیان کی ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے ایک بھائی کو لایا گیا تم نے اس کے بارے میں جو بھی گواہی دینی تھی وہ گواہی دی ، تو تمہاری گواہی واجب ہو گئی پھر تمہارے فلاں بھائی کو لایا گیا تم نے اس کے بارے میں جو گواہی دینی تھی وہ دی تو تمہاری گواہی واجب ہو گئی تم لوگ زمین میں ایک دوسرے کے بارے میں اللہ کے گواہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3963
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسَيْنِ : أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقِيلَ : هَذَا فُلَانٌ وَبِئْسَ الرَّجُلُ ، وَأُثْنِيَ عَلَيْهِ شَرًّا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعْلَمُونَ ذَلِكَ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " وَجَبَتْ " . وَأَمَّا الْآخَرُ فَأُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ فَقَالُوا : هَذَا فُلَانٌ ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا ، قَالَ : " تَعْلَمُونَ ذَلِكَ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " وَجَبَتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حَمْزَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو محافل میں موجود رہا ہوں ان میں سے ایک محفل میں ایک جنازہ لایا گیا عرض کی گئی : یہ فلاں شخص ہے ، اور یہ برا شخص ہے اس کی برائی بیان کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : واجب ہو گئی پھر ایک اور محفل میں ایک شخص کا جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا: یہ فلاں شخص ہے ۔ لوگوں نے اس کی بھلائی بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم لوگ یہ علم رکھتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ بن حمزہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ بن حمزہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3964
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ : إِنْ كُنْتَ وَإِنْ كُنْتَ . ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى فَقَالَ الْقَوْمُ : إِنْ كُنْتَ وَكُنْتَ ، فَأَثْنَوْا عَلَى وَاحِدَةٍ خَيْرًا وَالْأُخْرَى شَرًّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سَلَّمَ : " أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ، وَالْمَلَائِكَةُ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي السَّمَاءِ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " فَإِذَا شَهِدْتُمْ وَجَبَتْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي السَّنَدِ الْأَوَّلِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي الْأُخْرَى مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے اس شخص سے کہا: اگر تم یہ اور وہ ہوتے ( تو یہ مناسب تھا ) پھر ایک اور جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا: اگر تم یہ اور وہ ہوتے تو ( مناسب تھا ) یعنی انہوں نے ایک جنازے کی تعریف کی اور دوسرے کی برائی بیان کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو ، اور فرشتے آسمان میں اللہ کے گواہ ہیں ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب تم نے گواہی دے دی تو واجب ہو گئی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ پہلی کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ابومریم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، جبکہ دوسری کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ پہلی کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ابومریم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، جبکہ دوسری کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3965
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا مَاتَ الْعَبْدُ ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ مِنْهُ سِرًّا ، وَتَقُولُ النَّاسُ خَيْرًا ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ : قَدْ قَبِلْتُ شَهَادَةَ عِبَادِي عَلَى عَبْدِي ، وَغَفَرْتُ لَهُ عِلْمِي فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ [ الْحَدِيثِ ] . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بندہ مر جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ پوشیدہ معاملات کا علم رکھتا ہے اگر لوگ بھلائی کی بات کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے اپنے بندے کے بارے میں ، میں نے اپنے دوسرے بندوں کی گواہی کو قبول کر لیا اور اس کے بارے میں میرا جو علم تھا اس کے حوالے سے میں نے اس کی مغفرت کر دی“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے ، اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 3966
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّتْ جِنَازَةٌ فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الْجِنَازَةُ ؟ " فَقَالَ : جِنَازَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ، [ كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولِهِ . فَقَالَ : " وَجَبَتْ " ثَلَاثًا . ثُمَّ مَرَّتْ أُخْرَى فَقَالَ : " مَا هَذِهِ ؟ " فَقَالُوا : جِنَازَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ ] كَانَ يُبْغِضُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ : " وَجَبَتْ " ثَلَاثًا . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک جنازہ گزرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ کس کا جنازہ ہے ؟ کسی نے بتایا یہ فلاں بن فلاں کا جنازہ ہے ۔ وہ ایک ایسا شخص تھا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی پھر ایک اور جنازہ گزرا آپ نے دریافت کیا : یہ کس کا جنازہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا یہ فلاں بن فلاں کا جنازہ ہے وہ ایک ایسا شخص تھا جو اللہ اور اس کے رسول سے بغض رکھتا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا واجب ہو گئی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صیح “ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صیح “ کے رجال ہیں ۔