حدیث نمبر: 3956
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَزِّيهِ بِابْنِهِ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ : " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، سَلَامٌ عَلَيْكَ ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ ، أَمَّا بَعْدُ : فَأَعْظَمَ اللَّهُ لَكَ الْأَجْرَ ، وَأَلْهَمَكَ الصَّبْرَ ، وَرَزَقَنَا وَإِيَّاكَ الشُّكْرَ ، فَإِنَّ أَنْفُسَنَا وَأَمْوَالَنَا وَأَهْلَنَا مِنْ مَوَاهِبِ اللَّهِ الْهَنِيئَةِ ، وَعَوَارِيهِ الْمُسْتَوْدَعَةِ ، مَتَّعَكَ اللَّهُ بِهِ فِي غِبْطَةٍ وَسُرُورٍ ، وَقَبَضَهُ مِنْكَ بِأَجْرٍ كَثِيرِ الصَّلَاةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْهُدَى ، إِنِ احْتَسَبْتَهُ فَاصْبِرْ ، وَلَا يُحْبِطُ جَزَعُكَ أَجْرَكَ فَتَنْدَمَ ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْجَزَعَ لَا يَرُدُّ مَيِّتًا وَلَا يَدْفَعُ حُزْنًا ، وَمَا هُوَ نَازِلٌ فَكَانَ قَدْ ، وَالسَّلَامُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان کے ایک صاحبزادے فوت ہو گئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو خط لکھ کے ان کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے ساتھ تعزیت کی آپ نے انہیں خط میں یہ لکھا : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف سے معاذ بن جبل کے نام ہے تم کو سلام ہو میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے اما بعد اللہ تعالیٰ تمہیں عظیم اجر عطا کرے تمہیں صبر عطا کرے اور ہمیں اور تمہیں شکر کی توفیق عطا کرے کیونکہ ہماری جانیں ہمارے اموال اور ہمارے اہل خانہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہیں اور اس کی طرف سے عارضی طور پر دی ہوئی چیز ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بچے کے حوالے سے خوشی اور سرور بخشا تھا اور پھر اسے تم سے واپس لے لیا جو بہت سے اجر کے ہمراہ ہے ، جو درود رحمت اور ہدایت کی شکل میں ہے اگر تم اس پر ثواب کی امید رکھتے ہو ، تو صبر سے کام لو اور تمہاری گریہ وزاری تمہارے اجر کو ضائع نہ کر دے کہ بعد میں تم ندامت کا شکار ہو جاؤ تم یہ جان لو کہ آہ وفغاں مردے کو واپس نہیں لاتی ہے ، اور غم کو ختم نہیں کرتی ہے ، جو کچھ نازل ہونا ہے وہ ہو کے رہے گا والسلام“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3956
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3957
وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَعَدَ أَصْحَابُهُ حِزَانًا يَبْكُونَ حَوْلَهُ ، فَجَاءَ رَجُلٌ طَوِيلٌ صَبِيحٌ فَصِيحٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ ، أَشْعَرُ الْمَنْكِبَيْنِ وَالصَّدْرِ ، فَتَخَطَّى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَ بِعِضَادَيِ الْبَابِ ، فَبَكَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ : إِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ ، وَخُلْفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ ، وَعِوَضًا مَنْ كُلِّ مَا فَاتَ ، فَإِلَى اللَّهِ فَأَنِيبُوا ، وَإِلَيْهِ فَارْغَبُوا ، فَإِنَّمَا الْمُصَابُ مَنْ لَمْ يَجْبُرْهُ الثَّوَابُ . فَقَالَ الْقَوْمُ : تَعْرِفُونَ الرَّجُلَ ؟ فَنَظَرُوا يَمِينًا وَشِمَالًا فَلَمْ يَرَوْا أَحَدًا ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : هَذَا الْخَضِرُ أَخُو النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو مَعْمَرٍ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو آپ کے اصحاب آپ کے اردگرد غمگین بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک طویل القامت شخص آیا جس کا چہرہ روشن تھا اور زبان فصیح تھی اس نے تہبند باندھا ہوا تھا اور چادر اوڑھی ہوئی تھی کندھے کے بال زیادہ تھے ، اور سینے کے بال بھی زیادہ تھے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو پھلانگتا ہوا آگے آیا اور دروازے کی چوکھٹ کے پاس کھڑا ہو گیا وہ گھڑی بھر تک روتا رہا پھر اس نے یہ کہا: ہر مصیبت کے حوالے سے اللہ تعالٰی سے ہی مدد حاصل کی جا سکتی ہے ، اور ہر ہلاک ہونے والے کی جگہ وہی کفایت کرتا ہے ، اور ہر فوت ہونے والی چیز کا عوض عطا کرتا ہے ، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اس کی طرف رغبت رکھو کیونکہ مصیبت زدہ وہ شخص ہوتا ہے ، جسے ثواب نصیب نہ ہو حاضرین نے کہا: کیا تم لوگ ان صاحب کو جانتے ہو ؟ ان لوگوں نے دائیں بائیں دیکھا تو انہیں کوئی نظر نہ آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھائی سیدنا خضر علیہ السلام تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبدالصمد ابومعمر ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3957
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3958
وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَتَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَاعِضُّوهُ وَلَا تَكْنُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب تم کسی شخص کو زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق تعزیت کرتے ہوئے دیکھو ، تو اس پر سختی ( سے ناراضگی ) کا اظہار کرو ، اور کنایہ نہ کرو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3958
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح