کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: نبی اکرم ﷺ کے وصال کے حوالے سے صبر کرنا اور خود کو تسلی دینا
حدیث نمبر: 3952
عَنْ سَابِطٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَذْكُرْ مُصِيبَتَهُ بِي فَإِنَّهَا أَعْظَمُ الْمَصَائِبِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو بُرْدَةَ عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سابط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کسی شخص کو کوئی مصیبت لاحق ہو ، تو وہ اس مصیبت کو یاد کر لے جو میرے حوالے سے ہے کیونکہ وہ سب سے بڑی مصیبت ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبردہ عمرو بن یزید ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3952
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3953
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ عَلَى امْرَأَةٍ جَاثِمَةٍ عَلَى قَبْرٍ تَبْكِي ، فَقَالَ لَهَا : " يَا أَمَةَ اللَّهِ ، اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " . فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنِّي أَنَا الْحَرَّى الثَّكْلَى . فَقَالَ : " يَا أَمَةَ اللَّهِ ، اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " . فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، لَوْ كُنْتَ مُصَابًا عَذَرْتَنِي . فَقَالَ : " يَا أَمَةَ اللَّهِ ، اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " . فَقَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، قَدْ أَسْمَعْتَ فَانْصَرِفْ عَنِّي . قَالَ : فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَوَقَفَ عَلَى الْمَرْأَةِ فَقَالَ لَهَا : مَا قَالَ لَكِ الرَّجُلُ الذَّاهِبُ ؟ قَالَتْ : قَالَ لِي كَذَا وَكَذَا . قَالَ : فَهَلْ تَعْرِفِينَهُ ؟ قَالَتْ : لَا . قَالَ : ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ : فَوَثَبَتْ مُسْرِعَةً وَهِيَ تَقُولُ : أَنَا أَصْبِرُ ، أَنَا أَصْبِرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى ، الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرَوَى الْبَزَّارُ طَرَفًا مِنْهُ ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عُبَيْدَةَ النَّاجِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جنت البقیع میں ایک خاتون کے پاس سے گزرے جو ایک قبر کے پاس بیٹھی ہوئی رو رہی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے اللہ کی کنیز ! تم اللہ تعالی سے ڈرو اور صبر سے کام لو اس عورت نے کہا: اے اللہ کے بندے ! میرا بچہ فوت ہو گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ کی کنیز ! تم اللہ سے ڈرو اور صبر سے کام لو اس عورت نے کہا: اے اللہ کے بندے ! اگر تمہیں یہ مصیبت لاحق ہوئی ہوتی تو تم مجھے معذور سمجھتے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ کی کنیز ! تم اللہ سے ڈرو اور صبر سے کام لو اس عورت نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تمہیں بات پتہ چل گئی ہے اب تم میرے پاس سے چلے جاؤ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آپ کے پیچھے آ رہا تھا وہ عورت کے پاس ٹھہرا اس نے اس عورت سے دریافت کیا : جو صاحب ابھی گئے ہیں انہوں نے تم سے کیا کہا: تھا اس عورت نے کہا: انہوں نے مجھے یہ یہ کہا: تھا اس شخص نے کہا: کیا تم انہیں پہچانتی ہو ؟ اس عورت نے جواب دیا : جی نہیں اس شخص نے کہا: وہ اللہ کے رسول تھے راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ عورت تیزی سے اٹھ کر آئی اور بولی: میں صبر سے کام لیتی ہوں میں صبر سے کام لیتی ہوں یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : صبر صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے صبر صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن اسود ابوعبیدہ ناجی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3953
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3954
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ أَنْ يُعِدَّ لَهُ طَهُورًا ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ ، وَكَانَ إِذَا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ تَبَاعَدَ حَتَّى لَا يَكَادَ يُرَى ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ أَقْبَلَ رَاجِعًا ، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ عَلَى قَبْرِ مَيِّتٍ لَهَا وَهِيَ تُعَدِّدُ وَتُعَوِّلُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا - وَهِيَ لَا تَعْرِفُهُ - فَقَالَ لَهَا : " اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي " . قَالَتْ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ . فَقَالَ لَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَجَاءَ فَأَخَذَ الْمَطْهَرَةَ مِنَ الْفَضْلِ ، فَقَامَ الْفَضْلُ فَأَتَى الْمَرْأَةَ ، فَقَالَ لَهَا : مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَامَتْ فَقَالَتْ : يَا وَيْلَهَا ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ؟ فَسَعَتْ حَتَّى لَحِقَتْهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُكَ . فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى " قَالَهَا ثَلَاثًا . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ عَنْ أَنَسٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ السَّعْدِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ کے وضو کا پانی تیار کریں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے جب آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو دور چلے جاتے تھے ، یہاں تک کہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے تھے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قضائے حاجت کر لی اور آپ واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ کا گزر ایک خاتون کے پاس سے ہوا جو اپنے ایک مردہ کی قبر پر بیٹھی ہوئی تھی اور آہ وزاری کر رہی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس عورت کے پاس ٹھہر گئے وہ عورت آپ کو پہچانتی نہیں تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صبر سے کام لو اس عورت نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تم جاؤ اور جا کے اپنا کام کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اس سے بات کی اور پھر آپ تشریف لے گئے آپ نے سیدنا فضل سے وضو کا پانی حاصل کیا سیدنا فضل اٹھ کر اس عورت کے پاس گئے اور اس سے کہا: اللہ کے رسول نے تمہیں کیا کہا: تھا ، تو وہ عورت کھڑی ہوئی اور بولی: ہائے بربادی یہ اللہ کے رسول تھے میں نے تو انہیں پہچانا ہی نہیں پھر وہ جلدی سے چلتی ہوئی آئی اور مسجد کے دروازے کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا صبر صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ سعدی ہے ، اور وہ متروک اور ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3954
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 3955
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” صبر صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3955
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً