حدیث نمبر: 3932
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : إِذَا قُتِلَ الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَوَّلُ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ دَمِهِ يُكَفِّرُ اللَّهُ ذُنُوبَهُ كُلَّهَا ، ثُمَّ يُرْسِلُ لَهُ اللَّهُ بِرَيْطَةٍ مِنَ الْجَنَّةِ فَتُقْبَضُ فِيهَا نَفْسُهُ وَيُجَسَّدُ مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى تُرَكَّبَ فِيهِ رُوحُهُ ثُمَّ يُعَرِّجُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ كَأَنَّهُ كَانَ مَعَهُمْ مُنْذُ خَلَقَهُ اللَّهُ حَتَّى يُؤْتَى بِهِ الرَّحْمَنُ - عَزَّ وَجَلَّ - وَيَسْجُدُ قَبْلَ الْمَلَائِكَةِ ثُمَّ تَسْجُدُ الْمَلَائِكَةُ بَعْدَهُ ، ثُمَّ يُغْفَرُ لَهُ وَيُطَهَّرُ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الشُّهَدَاءِ فَيَجِدُهُمْ فِي رِيَاضٍ خُضْرٍ وَثِيَابٍ مِنْ حَرِيرٍ عِنْدَهُمْ ثَوْرٌ وَحُوتٌ يُلَغِثَانِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ بِشَيْءٍ لَمْ يُلْغَثَاهُ بِالْأَمْسِ يَظَلُّ الْحُوتُ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيَأْكُلُ مَنْ كُلِّ رَائِحَةٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَإِذَا أَمْسَى وَكَزَهُ الثَّوْرُ بِقَرْنِهِ فَذَكَاهُ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ فَوَجَدُوا فِي طَعْمِ لَحْمِهِ كُلَّ رَائِحَةٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ وَيَلْبَثُ الثَّوْرُ نَافِشًا فِي الْجَنَّةِ يَأْكُلُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا أَصْبَحَ عَدَا عَلَيْهِ الْحُوتُ فَذَكَاهُ بِذَنَبِهِ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ فَوَجَدُوا فِي طَعْمِ لَحْمِهِ كُلَّ ثَمَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ ، يَنْظُرُونَ إِلَى مَنَازِلِهِمْ يَدْعُونَ اللَّهَ بِقِيَامِ السَّاعَةِ فَإِذَا تَوَفَّى اللَّهُ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ مَلَكَيْنِ بِخِرْقَةٍ مِنَ الْجَنَّةِ وَرَيْحَانٍ مِنْ رَيْحَانِ الْجَنَّةِ فَقَالَ : أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ ، اخْرُجِي فَنِعْمَ مَا قَدَّمْتِ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رَائِحَةِ مِسْكٍ وَجَدَهَا أَحَدُكُمْ بِأَنْفِهِ وَعَلَى أَرْجَاءِ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ يَقُولُونَ : سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ جَاءَ مِنَ الْأَرْضِ الْيَوْمَ رُوحٌ طَيِّبَةٌ فَلَا يَمُرُّ بِبَابٍ إِلَّا فَتَحَ لَهُ وَلَا مَلَكٍ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ وَيَشْفَعُ حَتَّى يُؤْتَى بِهِ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَتَسْجُدُ الْمَلَائِكَةُ قَبْلَهُ ثُمَّ يَقُولُونَ : رَبَّنَا هَذَا عَبْدُكَ فُلَانٌ تَوَفَّيْنَاهُ وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ فَيَقُولُ : مُرُوهُ بِالسُّجُودِ فَيَسْجُدُ النَّسَمَةُ ثُمَّ يُدْعَى مِيكَائِيلُ فَيُقَالُ : اجْعَلْ هَذِهِ النَّسَمَةَ مَعَ أَنْفُسِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى أَسْأَلَكَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُؤْمَرُ بِجَسَدِهِ فَيُوَسِّعُ لَهُ ، طُولُهُ سَبْعُونَ وَعَرْضُهُ سَبْعُونَ وَيَنْبِذُ فِيهِ الرَّيْحَانَ وَيَبْسُطُ لَهُ الْحَرِيرَ فِيهِ ، وَإِنْ كَانَ مَعَهُ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ نَوَّرَهُ وَإِلَّا جُعِلَ لَهُ نُورًا مِثْلَ نُورِ الشَّمْسِ ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى مَقْعَدِهِ فِي الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا . ¤ وَإِذَا تَوَفَّى اللَّهُ الْعَبْدَ الْكَافِرَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ مَلَكَيْنِ وَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِقِطْعَةٍ بِجَادٍ أَنْتَنُ مِنْ كُلِّ نَتَنٍ وَأَخْشَنُ مَنْ كُلِّ خَشِنٍ فَقَالَ : أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ اخْرُجِي إِلَى جَهَنَّمَ وَعَذَابٍ أَلِيمٍ وَرَبٍّ عَلَيْكِ سَاخِطٍ ، اخْرُجِي فَسَاءَ مَا قَدَّمْتِ ، فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ جِيفَةٍ وَجَدَهَا أَحَدُكُمْ بِأَنْفِهِ قَطُّ ، وَعَلَى أَرْجَاءِ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ يَقُولُونَ : سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ جَاءَ مِنَ الْأَرْضِ جِيفَةٌ وَنَسَمَةٌ خَبِيثَةٌ لَا يُفْتَحُ لَهُ بَابُ السَّمَاءِ فَيُؤْمَرُ بِجَسَدِهِ فَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ فِي الْقَبْرِ وَيُمْلَأُ حَيَّاتٌ مِثْلُ أَعْنَاقِ الْبُخْتِ تَأْكُلُ لَحْمَهُ فَلَا يَدَعَنَّ مِنْ عِظَامِهِ شَيْئًا ، ثُمَّ يُرْسَلُ عَلَيْهِ مَلَائِكَةٌ صُمٌّ عُمْيٌ مَعَهُمْ فَطَاطِيسُ مِنْ حَدِيدٍ لَا يُبْصِرُونَهُ فَيَرْحَمُونَهُ وَلَا يَسْمَعُونَ صَوْتَهُ فَيَرْحَمُونَهُ فَيَضْرِبُونَهُ وَيَخْبِطُونَهُ ، وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ نَارٍ فَيَنْظُرُ إِلَى مَقْعَدِهِ مِنَ النَّارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً يَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُدِيمَ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَلَا يَصِلُ إِلَى مَا وَرَاءَهُ مِنَ النَّارِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب بندے کو اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاتا ہے ، تو اس کے خون کا پہلا قطرہ جب زمین پر گرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کی ایک چادر بھیجتا ہے ، جس میں اس کی جان کو قبض کیا جاتا ہے ، اور اسے جنت میں سے ایک جسم فراہم کیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی روح اس جسم میں داخل ہو جاتی ہے پھر فرشتے اسے لے کر اوپر جاتے ہیں اور وہ یوں ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا تھا اس دن سے وہ ان فرشتوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ اسے رحمان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے وہ فرشتوں سے پہلے سجدے میں جاتا ہے فرشتے اس کے بعد سجدے میں جاتے ہیں پھر اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اور پھر اسے پاک کر دیا جاتا ہے پھر اس کے بارے میں حکم دیا جاتا ہے کہ اسے شہداء کی طرف لے جایا جائے تو وہ شہداء کو سرسبز باغات میں اور ریشمی کپڑوں میں پاتا ہے ، ان کے پاس بیل اور مچھلی ہوتے ہیں وہ روزانہ انہیں ایسی چیز کھلاتے ہیں ، جو گزشتہ دن نہیں کھلائی گئی ہوتی ، وہ مچھلی جنت کی نہروں میں رہتی ہے ، اور جنت کی نہروں میں سے ہر قسم کے ذائقے کی چیز کھاتی ہے ، جب شام ہوتی ہے ، تو بیل اسے سینگ مارتا ہے ، اور اسے ذبح کر دیتا ہے وہ لوگ اس کا گوشت کھاتے ہیں تو انہیں اس کے گوشت میں جنت کی نہروں میں سے ہر چیز کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے وہ بیل جنت میں چرتا رہتا ہے ، اور جنت کے پھلوں کو کھاتا رہتا ہے ، جب صبح ہوتی ہے ، تو مچھلی اس کے پاس آتی ہے ، اور اسے اپنی دم کے ذریعے مار کر اسے ذبح کر دیتی ہے وہ لوگ اس بیل کا گوشت کھاتے ہیں اور اس کے گوشت میں جنت کے ہر پھل کا ذائقہ پاتے ہیں وہ لوگ اپنی قیام گاہوں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ قیامت قائم ہو جائے ۔ جب اللہ تعالیٰ کسی مومن بندے کو وفات دیتا ہے تو اس کی طرف دو فرشتے جنت کے کپڑے کے ہمراہ بھیجتا ہے ، اور جنت کے رزق ( یعنی مختلف چیزوں ) کے ہمراہ بھیجتا ہے ، اور یہ فرماتا ہے : اے مطمئن جان ! تم نکل کر سرور اور رزق ( یا رحمت ) اور اس پروردگار کی طرف جاؤ ، جو غضب ناک نہیں ہے ، تم نکل جاؤ ! وہ چیز اچھی ہے ، جو تم نے آگے بھیجی ہے ، تو جب وہ جان نکلتی ہے ، تو وہ مشک کی سب سے پاکیزہ ترین خوشبو کی مانند ہوتی ہے ، جسے تم لوگوں میں سے کسی ایک نے اپنے ناک کے ذریعے محسوس کیا ہو ، آسمان پر فرشتے موجود ہوتے ہیں ، جو یہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ، آج زمین کی طرف سے ایک پاکیزہ روح آ رہی ہے وہ روح جس بھی دروازے کے پاس سے گزرتی ہے وہ دروازہ اس کے لئے کھل جاتا ہے ، اور جس بھی فرشتے کے پاس سے گزرتی ہے وہ فرشتہ اس کے لئے دعائے رحمت کرتا ہے ، اور اس کی شفاعت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لایا جاتا ہے ، تو فرشتے اس سے پہلے سجدہ کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار یہ تیرا فلاں بندہ ہے ، جسے ہم نے وفات دے دی تو اس کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ، تو پروردگار فرماتا ہے اسے سجدہ کرنے کا حکم دو تو وہ جان سجدے میں چلی جاتی ہے پھر میکائیل کو بلایا جاتا ہے ، اور یہ کہا: جاتا ہے اس جان کو اہل ایمان کی روحوں کے ہمراہ رکھ دو قیامت کے دن میں تم سے اس کے بارے میں دریافت کروں گا پھر اس کے جسم کے بارے میں حکم دیا جاتا ہے ، تو اس کے لئے کشادہ کر دیا جاتا ہے ، جس کی لمبائی ستر گز اور چوڑائی ستر گز ہوتی ہے ، اور اس کے لئے اس میں رزق ( یعنی مختلف نعمتیں ) رکھ دی جاتی ہیں ، اور ریشمی کپڑا اس کے لئے بچھا دیا جاتا ہے ، اگر اس کو قرآن آتا ہو ، تو وہ اس کے لئے روشنی کر دیتا ہے ورنہ اس کے لئے ایسا نور رکھا جاتا ہے ، جو سورج کے نور کی مانند ہوتا ہے پھر اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے ، تو وہ صبح و شام اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھتا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کافر شخص کو موت دیتا ہے ، تو اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے وہ اس کے ساتھ ایک کپڑا بھیجتا ہے ، جو انتہائی بدبودار اور انتہائی سخت ہوتا ہے ، اور یہ فرماتا ہے اے خبیث روح تم نکل کر جہنم دردناک عذاب اور ناراض پروردگار کی طرف جاؤ تم نکلو تم نے جو آگے بھیجا تھا وہ برا ہے ، تو وہ یوں نکتی ہے جیسے بدبودار ترین مردار ہو جس کی بو کسی شخص نے کبھی بھی ناک کے ذریعے محسوس کی ہو ہر آسمان پر فرشتے موجود ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے زمین کی طرف سے ایک مردار اور خبیث روح آئی ہے اس کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا اس کے جسم کے بارے میں حکم دیا جاتا ہے ، تو اس کی قبر اس پر تنگ ہو جاتی ہے ، اور اسے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے سانپوں کے ذریعے بھر دیا جاتا ہے وہ سانپ اس شخص کا گوشت کھاتے ہیں اور اس کی ہڈیوں میں سے بھی کوئی چیز باقی نہیں رہنے دیتے ہیں پھر اس پر ایسے فرشتوں کو بھیجا جاتا ہے جو بہرے اور اندھے ہوتے ہیں ان کے پاس لوہے کے گرز ہوتے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے کہ اس پر رحم کریں اس کی آواز نہیں سن سکتے کہ اس پر رحم کریں وہ اسے مارتے ہیں اور اسے مخبوط الحواس کر دیتے ہیں پھر اس شخص کے لئے جہنم کا دروازہ کھولا جاتا ہے ، اور وہ صبح و شام اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھتا ہے ، اور وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہے کہ اس کی یہی صورت حال ہمیشہ رہے تاکہ اسے اس کے بعد جہنم تک نہ پہنچنا پڑے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔