حدیث نمبر: 3815
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ بِشَوْكَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَكَفَّرَ عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَ لَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس بھی مسلمان کو اگر کوئی کانٹا بھی لگتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں دس نیکیاں نوٹ کرتا ہے اس کے دس گناہ ختم کر دیتا ہے ، اور اس کی وجہ سے اس شخص کے دس درجات بلند کرتا ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی روح بن مسافر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی روح بن مسافر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3816
وَعَنْهَا قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا ضَرَبَ عَلَى مُؤْمِنٍ عِرْقٌ قَطُّ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيئَةً وَكَتَبَ لَهُ حَسَنَةً وَرَفَعَ لَهُ دَرَجَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب بھی کسی مؤمن کی رگ جوش مارتی ہے ( یعنی وہ فشار دم کی وجہ سے حرکت کرتی ہے ) تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ، اور اس کے لئے نیکیاں نوٹ کرتا ہے ، اور اس کے درجے کو بلند کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 3817
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ " يُؤْتَى بِالشَّهِيدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُنْصَبُ لِلْحِسَابِ ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْمُتَصَدِّقِ فَيُنْصَبُ لِلْحِسَابِ ، ثُمَّ يُؤْتَى بِأَهْلِ الْبَلَاءِ فَلَا يُنْصَبُ لَهُمْ مِيزَانٌ وَلَا يُنْصَبُ لَهُمْ دِيوَانٌ فَيُصَبُّ عَلَيْهِمُ الْأَجْرُ صَبًّا حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْعَافِيَةِ لِيَتَمَنَّوْنَ أَنَّ أَجْسَادَهُمْ قُرِّضَتْ بِالْمَقَارِيضِ مِنْ حُسْنِ ثَوَابِ اللَّهِ لَهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُجَّاعَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن شہید کو لایا جائے گا ، اور حساب کے لئے پیش کیا جائے گا پھر صدقہ کرنے والے کو لایا جائے گا اسے حساب کے لئے پیش کیا جائے گا پھر آزمائش کا شکار لوگوں کو لایا جائے گا ، تو ان کے لئے نہ میزان نصب کیا جائے اور نہ دیوان نصب کیا جائے ان پر اجر کو انڈیل دیا جائے گا یہاں تک کہ ( دنیا میں ) عافیت والے لوگ یہ آرزو کریں گے کہ ( دنیا میں ) ان کے جسموں کو قینچیوں کے ذریعے کاٹ دیا گیا ہوتا اس کی وجہ یہ ہو گی کہ اللہ تعالی نے جو عمدہ ثواب ان ( آزمائش کا شکار لوگوں کو ) عطا کیا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاعہ بن زبیر ہے ، جسے امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاعہ بن زبیر ہے ، جسے امام أحمد نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3818
وَعَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْحَسَنِ نَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ : كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : أَصْبَحْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا قَالَ : كَذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ الْحَسَنُ : اسْنِدُونِي فَأَسْنَدَهُ عَلِيٌّ إِلَى صَدْرِهِ فَقَالَ : سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يُقَالُ لَهَا شَجَرَةُ الْبَلْوَى يُؤْتَى بِأَهْلِ الْبَلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَا يُرْفَعُ لَهُمْ دِيوَانٌ وَلَا يُنْصَبُ لَهُمْ مِيزَانٌ يُصَبُّ عَلَيْهِمُ الْأَجْرُ صَبَّا ، وَقَرَأَ : إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
اصبغ بن نباتہ بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے حاضر ہوا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے تمہارا کیا حال ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : الحمدللہ اب میں بہتر ہوں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہی ہو گا ، پھر سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ لوگ مجھے سہارا دیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سینے کے ساتھ لگایا ، تو سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے اپنے نانا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک جنت میں ایک درخت ہے ، جسے آزمائش کا درخت کہا: جاتا ہے قیامت کے دن آزمائش کا شکار لوگوں کو لایا جائے گا ، تو ان کے لئے دیوان بلند نہیں کیا جائے گا ان کے لئے میزان کو نصب نہیں کیا جائے گا ، اور ان پر اجر کو بہا دیا جائے گا پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ” بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر کسی حساب کے بغیر دیا جائے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3819
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : يَوَدُّ أَهْلُ الْبَلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يُعَايِنُونَ الثَّوَابَ لَوْ أَنَّ جُلُودَهُمْ كَانَتْ تُقْرَضُ بِالْمَقَارِيضِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قیامت کے دن آزمائش کا شکار لوگ جب ثواب کو دیکھیں گے تو وہ یہ خواہش کریں گے کہ کاش ان کی کھالیں قینچیوں کے ذریعے کاٹ دی گئی ہوتیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔