حدیث نمبر: 3820
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَسَلَّمَ - مَا جَزَاءُ الْحُمَّى ؟ قَالَ : " تُجْرَى الْحَسَنَاتُ عَلَى صَاحِبِهَا مَا اخْتَلَجَ عَلَيْهِ قَدَمٌ أَوْ ضَرَبَ عَلَيْهِ عِرْقٌ " قَالَ أُبَيٌّ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكُ حُمَّى لَا تَمْنَعُنِي خُرُوجًا فِي سَبِيلِكَ وَلَا خُرُوجًا إِلَى بَيْتِكَ وَلَا مَسْجِدِ نَبِيِّكَ ، قَالَ : فَلَمْ يُمْسِ إِلَيَّ قَطُّ إِلَّا وَبِهِ حُمَّى . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ وَهُمَا مَجْهُولَانِ كَمَا قَالَ ابْنُ مَعِينٍ ، قُلْتُ : ذَكَرَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ قَبْلَ هَذَا بِبَابَيْنِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بخار کی جزا کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ اپنے متعلقہ فرد کی نیکیوں کو جاری رکھتا ہے ، جب تک اس کا قدم لڑکھڑاتا ہے ، یا جب تک اس کی رگ اس پر جوش مارتی ہے سیدنا ابی نے عرض کی : اے اللہ ! میں تجھ سے ایسے بخار کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری راہ میں ( جہاد کے لئے ) نکلنے یا تیرے گھر کی طرف نکلنے یا تیری مسجد کی طرف جانے سے نہ روکے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو شام ہونے سے پہلے انہیں بخار ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں محمد بن معاذ بن ابی بن کعب کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ۔ یہ دونوں راوی مجہول ہیں جیسا کہ یحیی بن معین نے یہ بات بیان کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے ان دونوں کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس سے دو باب پہلے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث گزر چکی ہے ( جس میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا تذکرہ ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں محمد بن معاذ بن ابی بن کعب کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ۔ یہ دونوں راوی مجہول ہیں جیسا کہ یحیی بن معین نے یہ بات بیان کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے ان دونوں کا تذکرہ کتاب ” الثقات“ میں کیا ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس سے دو باب پہلے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث گزر چکی ہے ( جس میں سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا تذکرہ ہے ) ۔
حدیث نمبر: 3821
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحُمَّى كِيرٌ مِنْ جَهَنَّمَ فَمَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْهَا كَانَ حَظَّهُ مِنْ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو حَصِينٍ الْفِلَسْطِينِيُّ وَلَمْ أَرَ لَهُ رَاوِيًا غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بخار جہنم کی ایک بھٹی ( یا تپش ) ہے ، تو جس مؤمن کو اس میں سے جو چیز لاحق ہوتی ہے وہ جہنم میں سے اس مؤمن کا حصہ ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحصین فلسطینی ہے محمد بن مطرف کے علاوہ میں نے کسی اور کو اس سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحصین فلسطینی ہے محمد بن مطرف کے علاوہ میں نے کسی اور کو اس سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 3822
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : اسْتَأْذَنَتِ الْحُمَّى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : " مَنْ هَذِهِ ؟ " قَالَتْ : أُمُّ مِلْدَمٍ فَأَمَرَ بِهَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ فَلَقُوا مِنْهَا مَا يَعْلَمُ اللَّهُ فَأَتَوْهُ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ : " مَا شِئْتُمْ ؟ إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَكَشَفَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَكُونَ لَكُمْ طَهُورًا ؟ " قَالُوا : وَتَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " قَالُوا : فَدَعْهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بخار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کون ہو اس نے عرض کی : ام ملدم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ اہل قباء کی طرف چلا جائے تو جو اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا ان لوگوں کو بخار کے حوالے سے سامنا کرنا پڑا پھر وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے بخار کی شکایت کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم کیا چاہتے ہو اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں وہ اس کو تم سے دور کر دے گا ، اور اگر تم چاہو تو یہ تمہارے لئے طہارت کے حصول ( یعنی گناہوں سے پاک ہونے ) کا باعث بن جائے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ایسا کر لیں گے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ ان لوگوں نے عرض کی : پھر آپ اسے رہنے دیں ( تاکہ یہ ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جائے ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3823
وَعَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ قَالَتْ : جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدٍ فَاسْتَأْذَنَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ثُمَّ أَعَادَ فَسَكَتَ سَعْدٌ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهِ سَعْدٌ أَنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ لَكَ إِلَّا أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِيدَنَا قَالَتْ : فَسَمِعْتُ صَوْتًا عَلَى الْبَابِ يَسْتَأْذِنُ وَلَا أَرَى شَيْئًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ أَنْتِ ؟ " قَالَتْ : " أُمُّ مِلْدَمٍ " قَالَ : " لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا أَتَذْهَبِينَ إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ " قَالَتْ : نَعَمْ قَالَ : " فَاذْهَبِي إِلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی کنیز ام طارق بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے آپ نے پھر آنے کی اجازت طلب کی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پھر خاموش رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ اجازت طلب کی سیدنا سعد رضی اللہ عنہ پھر خاموش رہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس مڑ گئے ام طارق بیان کرتی ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ یہ عرض کروں کہ ہم نے آپ اجازت اس لئے پیش نہیں کی تھی کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ آپ ہمیں مزید عطا کرتے رہیں ( یعنی زیادہ السلام علیکم کہتے رہیں ) ام طارق بیان کرتی ہیں : میں نے دروازے پر کسی کی آواز سنی جو اندر آنے کی اجازت مانگ رہا تھا ، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کون ؟ اس نے عرض کی : ام ملد ( یعنی بخار ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہیں نہ خوش آمدید ہے ، اور نہ اہلا و سہلا ہے کیا تم اہل قباء کی طرف چلے جاؤ گے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم ان کی طرف چلے جاؤ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3824
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : اسْتَأْذَنَتِ الْحُمَّى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهَا : " مَنْ أَنْتِ ؟ " فَقَالَتْ : أَنَا الْحُمَّى أَبْرِي اللَّحْمَ وَأَمُصُّ الدَّمَ قَالَ : " اذْهَبِي إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ " فَأَتَتْهُمْ فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِ اصْفَرَّتْ وُجُوهُهُمْ فَشَكَوُا الْحُمَّى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا شِئْتُمْ ؟ إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَدَفَعَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُمُوهَا وَأَسْقَطَتْ بَقِيَّةَ ذُنُوبِكُمْ ؟ " قَالُوا : بَلَى فَدَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ لَاحِقٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بخار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں بخار ہوں ، میں گوشت کو کم ( یا کمزور ) کر دیتا ہوں اور خون کو چوس لیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اہل قباء کی طرف چلے جاؤ وہ بخار ان لوگوں کے پاس چلا گیا وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے چہرے زرد ہو چکے تھے ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بخار کی شکایت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو تم چاہو ( ویسا ہو گا ) اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں وہ اس کو تم سے دور کر دے گا ، اور اگر تم چاہو تو تم اسے رہنے دو یہ تمہارے بقایا گناہوں کو ختم کر دے گا ، تو لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ اسے رہنے دیں یا رسول اللہ ! “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، جبکہ امام أحمد اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3825
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْحُمَّى حَظُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ” بخار “ جہنم میں سے ہر مومن کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 3826
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : فَقَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا كَانَ يُجَالِسُهُ فَقَالَ : " مَا لِي فَقَدْتُ فُلَانًا ؟ " فَقَالُوا : اعْتَبَطَ - وَكَانُوا يُسَمُّونَ الْوَعْكَ الِاعْتِبَاطَ - فَقَالَ : " قُومُوا حَتَّى نَعُودَهُ " ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ بَكَى الْغُلَامُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تَبْكِ فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ الْحُمَّى حَظُّ أُمَّتِي مِنْ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے شخص کو غیر موجود پایا جو آپ کی خدمت میں حاضر رہتا تھا آپ نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے میں فلاں شخص کو غیر موجود پا رہا ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : اسے بخار ہو گیا ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) وہ لوگ لفظ بخار کے لئے لفظ اعتباط استعمال کرتے تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اٹھو تاکہ ہم لوگ اس کی عیادت کر آئیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کے پاس تشریف لائے ، تو وہ لڑکا رونے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نہ روؤ ! کیونکہ جبرائیل نے مجھے بتایا ہے : بخار جہنم میں سے میری امت کا حصہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ، جسے امام أحمد نے اور دیگر حضرات نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ عجلی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ، جسے امام أحمد نے اور دیگر حضرات نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، جبکہ عجلی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3827
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحُمَّى حَظُّ أُمَّتِي مِنْ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مَيْمُونَ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ وَقَالَ الْفَلَّاسُ : صَدُوقٌ كَثِيرُ الْخَطَأِ وَالْوَهْمِ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بخار جہنم میں سے میری امت کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے فلاس فرماتے ہیں یہ صدوق ہے ، اور بکثرت غلطی کرتا ہے ، اور بکثرت وہم کا شکار ہوتا ہے یہ متروک الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون ہے ، جسے امام أحمد اور ایک جماعت نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے فلاس فرماتے ہیں یہ صدوق ہے ، اور بکثرت غلطی کرتا ہے ، اور بکثرت وہم کا شکار ہوتا ہے یہ متروک الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 3828
وَعَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ وَهِيَ نَصِيبُ الْمُؤْمِنِ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَوَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے ، اور یہ جہنم میں سے مؤمن کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ایک جماعت نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ایک جماعت نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3829
وَعَنْ شِيثِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أُمُّ مِلْدَمٍ تَأْكُلُ اللَّحْمَ وَتَشْرَبُ الدَّمَ بَرْدُهَا وَحَرُّهَا مِنْ جَهَنَّمَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا شیث بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بخار گوشت کو کھا جاتا ہے ، اور خون کو پی جاتا ہے اس کی ٹھنڈک اور گرمی جہنم کا حصہ ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
حدیث نمبر: 3830
وَعَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَمَّتِهِ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أُمُّ مِلْدَمٍ تُخْرِجُ خَبَثَ ابْنِ آدَمَ كَمَا يُخْرِجُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
عبدربہ بن سعید بن قیس ، اپنی پھوپھی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بخار انسان کی خرابیوں کو یوں نکال دیتا ہے ، جس طرح بھٹی لوہے کے میل ( یعنی زنگ ) کو نکال دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3831
وَعَنْ فَاطِمَةَ الْخُزَاعِيَّةِ قَالَتْ : عَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ وَهِيَ وَجِعَةٌ فَقَالَ لَهَا : " كَيْفَ تَجِدِينَكِ ؟ " قَالَتْ : بِخَيْرٍ إِلَّا أَنَّ أُمُّ مِلْدَمٍ قَدْ بَرِحَتْ بِي [ يَعْنِي : الْحُمَّى ] ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اصْبِرِي فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَبَثَ ابْنِ آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْحُمَّى فِي الطِّبِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ فاطمہ خزاعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک خاتون کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لے گئے جس کا تعلق انصار سے تھا وہ خاتون بیمار تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا : تم کیا صورت حال پا رہی ہو ؟ اس نے عرض کی : ٹھیک ہوں ، لیکن مجھے مسلسل بخار رہ رہا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم صبر سے کام لو ! کیونکہ یہ ( یعنی بخار ) انسان کے میل کو یوں ختم کر دیتا ہے ، جس طرح بھٹی لوہے کے میں ( یعنی زنگ ) کو ختم کر دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : بخار کے بارے میں مزید احادیث طب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : بخار کے بارے میں مزید احادیث طب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 3832
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ : قَالَ نُعَيْمَانُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ بِي وَعْكٌ شَدِيدٌ مِنَ الْحُمَّى ! ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَأَيْنَ أَنْتَ يَا نُعَيْمَانُ مِنْ مَهِيعَةَ " وَكَانَتْ أَرْضَ وَبِيئَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا نعیمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے شدید بخار ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے نعیمان ! تم مہیعہ سے کہاں ہو ؟ راوی کہتے ہیں : وہ ایک وبائی سرزمین تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔