کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: بیمار کی برائیوں کا کفارہ اور اسے کتنا اجر نصیب ہوتا ہے ؟
حدیث نمبر: 3788
عَنْ عِيَاضِ بْنِ غُطَيْفٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - نَعُودُهُ مِنْ شَكْوَى أَصَابَهُ وَامْرَأَتُهُ نَحِيفَةٌ قَاعِدَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ قُلْتُ : كَيْفَ بَاتَ أَبُو عُبَيْدَةَ ؟ قَالَتْ : وَاللَّهِ لَقَدْ بَاتَ بِأَجْرٍ ، فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ : مَا بِتُّ بِأَجْرٍ وَكَانَ مُقْبِلًا بِوَجْهِهِ عَلَى الْحَائِطِ فَأَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ وَقَالَ : أَلَا تَسْأَلُونِي عَمَّا قُلْتُ ؟ قَالُوا : مَا أَعْجَبَنَا مَا قُلْتَ فَنَسْأَلَكَ عَنْهُ ! ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فَاضِلَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَبِسَبْعِمِائَةٍ ، وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ وَأَهْلِهِ [ أ ] وَعَادَ مَرِيضًا أَوْ مَازَ أَذًى ، فَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَالصَّوْمُ جُنَّةٌ مَا لَمْ يَخْرِقْهَا ، وَمَنِ ابْتَلَاهُ [ اللَّهُ ] فِي جَسَدِهِ فَهُوَ لَهُ حِطَّةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَسَارُ بْنُ أَبِي سَيْفٍ وَلَمْ أَرَ مَنْ وَثَّقَهُ وَلَا جَرَحَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عیاض بن غطیف بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی بیماری کی عیادت کے سلسلے میں حاضر ہوئے جو ان کو لاحق ہوئی تھی ان کی اہلیہ جو ایک کمزور خاتون تھیں جو ان کے سرہانے کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں میں نے اُن سے دریافت کیا : سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کیا حال ہے ؟ تو انہوں نے بتایا : اللہ کی قسم انہوں نے اجر کے ہمراہ رات بسر کی ہے ( یعنی رات بھر تکلیف کا شکار رہے ہیں ) تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اجر کے ہمراہ رات بسر نہیں کی ہے پہلے ان کا رخ دیوار کی طرف تھا پھر انہوں نے اپنا رخ لوگوں کی طرف کر لیا اور ارشاد فرمایا : میں نے جو کہا: ہے تم اس کے بارے میں دریافت نہیں کرو گے ؟ لوگوں نے کہا: آپ نے جو کچھ کہا: ہے وہ ہمیں اچھا نہیں لگا کہ ہم اس کے بارے میں دریافت کرتے تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص اللہ کی راہ میں ایک اضافی چیز خرچ کرتا ہے ، تو اس کا سات سو گنا اجر و ثواب ہوتا ہے ، اور جو شخص اپنی جان پر یا اپنے اہل خانہ پر خرچ کرتا ہے ، یا بیمار کی عیادت کرتا ہے ، یا کسی تکلیف دہ چیز کو دور کرتا ہے ، تو ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہوتا ہے ، اور روزہ ڈھال ہے ، جب تک آدمی اسے توڑ نہ دے اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ اس کے جسم کے حوالے سے کسی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے ، تو یہ چیز اس کے لئے اس کے گناہوں کے کفارہ کا سبب بنتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشار بن ابوسیف ہے میں نے کسی کو اس کو ” ثقہ “ قرار دیتے ہوئے یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشار بن ابوسیف ہے میں نے کسی کو اس کو ” ثقہ “ قرار دیتے ہوئے یا اس پر جرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3789
وَعَنْ أَبِي زُرْعَةَ الْبُسْتَانِيِّ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ أَبِي وَمَعَنَا النَّاسُ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ نَعُودُهُ وَكَانَ بِبَيْتٍ ضَرَبْنَ فِي جِدَارِهِ ، مُوَلِّيًا وَجْهَهُ إِلَى الْحَائِطِ وَوَجَدْنَا امْرَأَتَهُ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهَا الْقَوْمُ : كَيْفَ بَاتَ أَبُو الدَّرْدَاءِ ؟ فَقَالَتْ : بَاتَ بِأَجْرٍ ، فَحَرَّفَ وَجْهَهُ إِلَيْنَا وَقَالَ : لَيْسَ الْقَوْلُ مَا قَالَتْ ! ! فَوَجَمَ الْقَوْمُ لِذَلِكَ فَقَالَ : أَلَا تَسْأَلُونِي لِمَ قُلْتُ هَذَا ؟ قَالُوا : وَلِمَ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمُؤْمِنُ إِذَا مَرِضَ لَمْ يُؤْجَرْ فِي مَرَضِهِ وَلَكِنْ يُكَفَّرُ عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْقَاسِمِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوزرعہ بستانی بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ اور دیگر کچھ لوگوں کے ساتھ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گیا وہ اس وقت ایک ایسے گھر میں موجود تھے ، جس کی دیواریں پرانی ( یا کمزور ) ہو چکی تھیں ، اور ان کا رخ دیوار کی طرف تھا ہم نے ان کی اہلیہ کو ان کے سرہانے پایا لوگوں نے اس خاتون سے دریافت کیا : سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کیسے رات بسر کی ؟ تو اس خاتون نے جواب دیا : انہوں نے اجر کے ہمراہ رات بسر کی ، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اپنا چہرہ ہماری طرف کیا ، اور پھر فرمایا حقیقت وہ نہیں ہے ، جو اس عورت نے بیان کی ہے ۔ لوگ اس بات پر حیران ہوئے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے : کیا تم لوگ مجھ سے یہ نہیں پوچھو گے کہ میں نے یہ بات کیوں کہی ہے ؟ لوگوں نے کہا: آپ نے یہ بات کیوں کہی ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” مومن جب بیمار ہوتا ہے ، تو اسے بیماری کی وجہ سے اجر نہیں دیا جاتا بلکہ اس سے ( گناہوں کو ) دور کر دیا جاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر بن ابوالقاسم ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر بن ابوالقاسم ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3790
وَعَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ : كُنَّا إِذَا سَمِعْنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ شَيْئًا نَكْرَهُهُ سَكَتْنَا حَتَّى يُفَسِّرَهُ لَنَا فَقَالَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ ذَاتَ يَوْمٍ : إِنَّ السَّقَمَ لَا يُكْتَبُ لِصَاحِبِهِ أَجْرٌ فَسَاءَنَا ذَلِكَ وَكَبُرَ عَلَيْنَا قَالَ : وَلَكِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُكَفِّرُ بِهِ الْخَطَايَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
ابومعمر بیان کرتے ہیں : جب ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زبانی کوئی ایسی بات سنتے تھے جو ہمیں اچھی نہیں لگتی تھی تو ہم خاموش رہتے تھے ، یہاں تک کہ وہ خود ہی ہمارے سامنے اس کی وضاحت کر دیتے تھے ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے یہ بات بیان کی کہ بیماری کی وجہ سے بیمار شخص کے لئے اجر نوٹ نہیں کیا جاتا ہمیں یہ بات بہت بری لگی ، اور ہم پر یہ بات بہت گراں گزری تو انہوں نے بتایا : اللہ تعالی بیماری کی وجہ سے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 3791
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَا يَمْرَضُ مُؤْمِنٌ وَلَا مُؤْمِنَةٌ وَلَا مُسْلِمٌ وَلَا مُسْلِمَةٌ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ خَطَايَاهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب بھی کوئی مؤمن مرد یا مومن عورت یا مسلمان مرد یا مسلمان عورت بیمار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس بیماری کی وجہ سے اس کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے “ ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” اللہ تعالیٰ اس سے اس کی خطاؤں کو ختم کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3792
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ حَتَّى الشَّوْكَةِ تُصِيبُهُ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رِشْدِينُ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی تکلیف کسی مؤمن کو لاحق ہوتی ہے یہاں تک کہ اسے جو کانٹا لگتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے بھی اس شخص کے لئے نیکی نوٹ کرتا ہے ، اور اس کی وجہ سے اس شخص کے گناہ کو ختم کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3793
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا مِنْ شَيْءٍ يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ فِي جَسَدِهِ يُؤْذِيهِ إِلَّا كُفِّرَ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ قِصَّةٌ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو بھی چیز مومن کو اس کے جسم میں لاحق ہوتی ہے ، اور اسے اذیت کا شکار کرتی ہے ، تو اللہ تعالیٰ ( اس تکلیف کی وجہ سے ) اس مؤمن کے گناہ اس سے دور کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس روایت میں پورا واقعہ منقول ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس روایت میں پورا واقعہ منقول ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3794
وَعَنِ أَسَدِ بْنِ كُرْزٍ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " الْمَرِيضُ تَحَاتُّ خَطَايَاهُ كَمَا يُحَاتُّ وَرَقُ الشَّجَرِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا اسد بن کرز رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بیمار کے گناہ یوں گرتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 3795
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَجَرَةً فَهَزَّهَا حَتَّى تَسَاقَطَ مِنْ وَرَقِهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَتَسَاقَطَ ، ثُمَّ قَالَ : "الْمُصِيبَاتُ وَالْأَوْجَاعُ أَسْرَعُ فِي ذُنُوبِ بَنِي آدَمَ مِنِّي فِي هَذِهِ الشَّجَرَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے پاس تشریف لائے آپ نے اسے ہلایا تو اس کے پتے گرنے لگے جتنا اللہ کو منظور تھا کہ وہ گر جائیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” مصیبتیں اور تکلیفیں اولاد آدم کے گناہوں کو اس سے زیادہ تیزی سے گراتی ہیں جتنی ( تیزی سے ) میں نے اس درخت کے پتے گرائے ہیں “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3796
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ : " إِنَّ الصُّدَاعَ وَالْمَلِيلَةَ لَا تَزَالُ بِالْمُؤْمِنِ وَإِنَّ ذَنْبَهُ مِثْلُ أُحُدٍ فَمَا تَدَعُهُ وَعَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” سر درد ، یا بخار ، مومن کے ساتھ لاحق ہوتے ہیں ، مؤمن کے گناہ اُحد پہاڑ کی مانند ہوتے ہیں ، تو جب وہ بیماری مؤمن کو چھوڑتی ہے ، تو اس پر رائی کے دانے کے وزن جتنا بھی گناہ باقی نہیں رہتا “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3797
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَزَالُ الْمَلِيلَةُ وَالصُّدَاعُ بِالْعَبْدِ وَالْأَمَةِ وَإِنَّ عَلَيْهِمَا مِنَ الْخَطَايَا مِثْلَ أُحُدٍ فَمَا يَدَعُهُمَا وَعَلَيْهِمَا مِثْقَالُ خَرْدَلَةٍ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بخار یا سر درد ، مسلسل کسی بندے یا کنیز کے ساتھ رہتے ہیں ، حالانکہ ان دونوں پر ” اُحد “ پہاڑ جتنے گناہ ہوتے ہیں ، لیکن یہ دونوں بیماریاں جب اسے چھوڑتی ہیں تو ان دونوں ( یعنی کسی بندے یا کنیز ) پر رائی کے وزن جتنا گناہ باقی نہیں رہا ہوتا“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3798
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَأَيْتَ هَذِهِ الْأَمْرَاضَ الَّتِي تُصِيبُنَا مَالَنَا بِهَا ؟ قَالَ : " كَفَّارَاتٌ " قَالَ أَبِي : وَإِنْ قَلَّتْ ؟ قَالَ : " وَإِنْ شَوْكَةً فَمَا فَوْقَهَا " قَالَ : فَدَعَا أَبِي عَلَى نَفْسِهِ أَنْ لَا يُفَارِقَهُ الْوَعْكُ حَتَّى يَمُوتَ فِي أَنْ لَا يَشْغَلَهُ عَنْ حَجٍّ وَلَا عُمْرَةٍ وَلَا جِهَادٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ فِي جَمَاعَةٍ فَمَا مَسَّهُ إِنْسَانٌ إِلَّا وَجَدَ حَرَّهَا حَتَّى مَاتَ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَيَأْتِي حَدِيثُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي الْحُمَّى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یہ بیماریاں جو ہمیں لاحق ہوتی ہیں ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ ہمیں ان کا کیا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ کفارہ بن جاتی ہیں ۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : خواہ وہ تھوڑی ہو ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خواہ کوئی کانٹا لگتا ہے ، یا اس سے بھی کمتر کوئی تکلیف لاحق ہوتی ہے “ ۔ رادی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا ابی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات کے بارے میں یہ دعا کی تھی کہ مرتے دم تک انہیں ہمیشہ بخار رہے ، لیکن وہ بخار انہیں حج اور عمرے کی ادائیگی ، یا اللہ کی راہ میں جہاد میں حصہ لینے سے ، یا با جماعت فرض نماز ادا کرنے سے نہ روکے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو ان کی مرتے دم تک یہ حالت رہی تھی کہ جو بھی شخص انہیں چھوتا تھا ، اُسے بخار محسوس ہوتا تھا ۔ میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، سیدنا ابی بن کعب سے منقول حدیث آگے چل کر بخار سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت ” صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، سیدنا ابی بن کعب سے منقول حدیث آگے چل کر بخار سے متعلق باب میں آئے گی ۔
حدیث نمبر: 3799
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَبْتَلِي عَبْدَهُ الْمُؤْمِنَ بِالسَّقَمِ حَتَّى يُكَفِّرَ عَنْهُ كُلَّ ذَنْبٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنے مؤمن بندے کو بیماری میں مبتلاء کرتا ہے یہاں تک کہ اس سے ہر گناہ کو دور کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن معاویہ بن حویرث ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن معاویہ بن حویرث ہے ، جسے یحیی بن معین نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 3800
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ صُدِعَ رَأْسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاحْتَسَبَ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ ذَنْبٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کو اللہ کی راہ میں سر کے درد کی شکایت ہوتی ہے ، اور وہ ثواب کی امید رکھتا ہے ، تو اس کے پہلے کے تمام گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 3801
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَثَلُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ حِينَ يُصِيبُهُ الْوَعْكُ أَوِ الْحُمَّى كَمَثَلِ حَدِيدَةٍ تُدْخَلُ النَّارَ فَيَذْهَبُ خُبْثُهَا وَيَبْقَى طِيبُهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب مؤمن کو تیز بخار ، یا بخار لاحق ہوتا ہے ، تو اس ( بیمار مؤمن ) کی مثال اس لوہے کی مانند ہوتی ہے ، جو آگ میں جاتا ہے ، تو اس کا میل ( یعنی زنگ ) چلا جاتا ہے ، اور پاکیزہ چیز باقی رہ جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جو معروف نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 3802
وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فِي مَرَضِهِ الشَّدِيدِ الَّذِي أَصَابَهُ فَقَالَ : إِنِّي لَأَرْثِيَ لَكَ مِمَّا أَرَى ! ! قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي لَا تَفْعَلْ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَحَبَّهُ إِلَيَّ أَحَبُّهُ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَقَدْ قَالَ : مَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ فَهَذَا مَا كَسَبَتْ يَدَايَ ثُمَّ يَأْتِينِي عَفْوُ رَبِّي بَعْدُ فِيمَا بَقِيَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے یہ ان کی اس شدید بیماری کے دوران کی بات ہے ، جو انہیں لاحق ہوئی تھی تو انہوں نے فرمایا : میں جو صورت حال دیکھ رہا ہوں ، اس کے حوالے سے میں آپ کے سامنے افسوس کا اظہار کرتا ہوں تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! ایسا نہ کرو ، اللہ کی قسم ! وہ چیز میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہو ، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” تمہیں جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ اس چیز کی وجہ سے ہوتی ہے ، جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا ہوتا ہے ، اور وہ بہت سی چیزوں سے درگزر کرتا ہے “ ۔ تو یہ وہ چیز ہے ، جو میرے ہاتھوں نے کمائی ہے ، اور پھر میرے پاس میرے پروردگار کی معافی آ جائے گی ، جو باقی رہ جانے والی چیزوں کے بارے میں ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 3803
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ تَضَرَّعَ مِنْ مَرَضٍ إِلَّا بَعَثَهُ اللَّهُ مِنْهُ طَاهِرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی بندہ بیماری کے دوران ( اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ) التجاء کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ جب اسے اس بیماری سے اٹھاتا ہے ، تو وہ شخص پاک ہو چکا ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3804
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا اشْتَكَى الْمُؤْمِنُ أَخْلَصَهُ [ ذَلِكَ ] مِنَ الذُّنُوبِ كَمَا يُخَلِّصُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَعْرِفْ شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان نقل کرتی ہیں : ” جب مؤمن بیمار ہوتا ہے ، تو وہ ( بیماری ) اسے گناہوں سے یوں پاک کر دیتی ہے ، جس طرح بھٹی لوہے کے میل ( یعنی زنگ کو ) صاف کر دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم میں امام طبرانی کے استاد سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم میں امام طبرانی کے استاد سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 3805
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ صُدِعَ رَأْسُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَاحْتَسَبَ غُفِرَ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَ ذَلِكَ مِنْ ذَنْبٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جس شخص کے سر میں درد ہو ، اور وہ ثواب کی امید رکھے اس شخص کے اس سے پہلے کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 3806
وَعَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا مِنِ امْرِئٍ مُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ يَمْرَضُ إِلَّا جَعَلَهُ اللَّهُ كَفَّارَةً لِمَا مَضَى مِنْ ذُنُوبِهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو بھی مؤمن مرد یا مومن عورت بیمار ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ( اس بیماری کو ) اس کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3807
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَثَلُ الْمَرِيضِ إِذَا بَرَأَ وَصَحَّ مِنْ مَرَضِهِ كَمَثَلِ الْبُرْدَةِ تَقَعُ مِنَ السَّمَاءِ فِي صَفَائِهَا وَلَوْنِهَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقِّرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بیمار جب تندرست ہو جائے اور بیماری سے ٹھیک ہو جائے اس کی مثال اولوں کی مانند ہے ، جو آسمان سے گرتے ہیں ، ( یعنی ) اس کی صفائی اور اس کی رنگت کے حوالے سے ( اس کی مانند ہے ) “ ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔