حدیث نمبر: 3783
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " عُودُوا الْمَرِيضَ وَاتَّبِعُوا الْجِنَازَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بیمار کی عیادت کرو اور جنازے کے ساتھ جاؤ “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3783
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3784
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَمْسٌ مَنْ فَعَلَ وَاحِدَةً مِنْهُنَّ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : مَنْ عَادَ مَرِيضًا ، أَوْ خَرَجَ مَعَ جِنَازَةٍ أَوْ خَرَجَ غَازِيًّا ، أَوْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُرِيدُ تَعْزِيرَهُ وَتَوْقِيرَهُ ، أَوْ قَعَدَ فِي بَيْتِهِ فَسَلِمَ النَّاسُ مِنْهُ وَسَلِمَ مِنَ النَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ قُلْتُ : وَلَهُ طَرِيقٌ فِي فَضْلِ الْجِهَادِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” پانچ کام ایسے ہیں کہ اگر کوئی شخص ان میں سے کوئی ایک کام کر لے تو وہ اللہ تعالی کے ذمہ میں ہو گا ، جو شخص بیمار کی عیادت کرے یا جنازے کے ساتھ جائے یا جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے یا کسی امام کے پاس جائے اور اس کا مقصد اس کی مدد اور اس کی ، توقیر کرنا ہو ، یا وہ اپنے گھر میں بیٹھا رہے ، تو لوگ اس سے سلامت رہیں اور وہ لوگوں سے سلامت رہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جہاد کی فضیلت سے متعلق باب میں اس روایت کا ایک اور حوالہ بھی آئے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3784
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 3785
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : كَيْفَ أَصْبَحْتُ ؟ فَقَالَ : " بِخَيْرٍ مِنْ قَوْمٍ لَمْ يَعُودُوا مَرِيضًا ، وَلَمْ يَشْهَدُوا جِنَازَةً " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي فَضْلِ الصَّوْمِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : آپ کا کیا حال ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بہتر ہے ، ایک ایسی قوم کے حوالے سے ، جو نہ تو بیمار کی عیادت کرتے ہیں ، اور نہ ہی جنازے میں شریک ہوتے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث روزے کی فضیلت سے متعلق باب میں آگے آئے گی ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الجنائز / حدیث: 3785
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔