حدیث نمبر: 3760
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يُعَادُ الْمَرِيضُ إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بیمار کی عیادت تین دن بعد کی جائے گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن حماد ہے ، اور وہ متروک ہے ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن حماد ہے ، اور وہ متروک ہے ایک جماعت نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 3761
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا فَقَدَ الرَّجُلَ مِنْ إِخْوَانِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ غَائِبًا دَعَا لَهُ وَإِنْ كَانَ شَاهِدًا زَارَهُ وَإِنْ كَانَ مَرِيضًا عَادَهُ ، فَفَقَدَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكْنَاهُ مِثْلَ الْقَرْعِ لَا يَدْخُلُ فِي رَأْسِهِ شَيْءٌ إِلَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عُودُوا أَخَاكُمْ " قَالَ فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعُودُهُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ إِذَا هُوَ كَمَا وُصِفَ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَيْفَ تَجِدُكَ ؟ " قَالَ : مَا يَدْخُلُ فِي رَأْسِي شَيْءٌ إِلَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرِي قَالَ : " وَمِمَّ ذَاكَ ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَصَلَّيْتُ مَعَكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ : الْقَارِعَةُ مَا الْقَارِعَةُ إِلَى آخِرِهَا نَارٌ حَامِيَةٌ قَالَ : فَقُلْتُ : اللَّهُمَّ مَا كَانَ مِنْ ذَنْبٍ مُعَذِّبْنِي عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْ لِي عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا ، فَنَزَلَ بِي مَا تَرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِئْسَ مَا قُلْتَ ، أَلَا سَأَلَتَ اللَّهَ أَنْ يُؤْتِيَكَ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَيَقِيَكَ عَذَابَ النَّارِ ؟ " قَالَ : فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِذَلِكَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ قَالَ : فَقَامَ كَأَنَّمَا نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ قَالَ : فَلَمَّا خَرَجْنَا قَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ حَضَضْتَنَا آنِفًا عَلَى عِيَادَةِ الْمَرِيضِ فَمَا لَنَا فِي ذَلِكَ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ يَعُودُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ إِلَى حَقْوَيْهِ ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ [ وَغَمَرَتِ الْمَرِيضَ الرَّحْمَةُ ] وَكَانَ الْمَرِيضُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ وَكَانَ الْعَائِدُ فِي ظِلِّ قُدْسِهِ ، وَيَقُولُ اللَّهُ لِلْمَلَائِكَةِ : انْظُرُوا كَمِ احْتَسَبُوا عِنْدَ الْمَرِيضِ الْعُوَّادُ ؟ قَالَ : تَقُولُ : أَيْ رَبِّ فَوَاقًا - إِنْ كَانَ احْتَبَسُوا فَوَاقًا - فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ : اكْتُبُوا لِعَبْدِي [ الْعَائِدِ ] عِبَادَةَ أَلْفِ سَنَةٍ قِيَامَ لَيْلِهِ وَصِيَامَ نَهَارِهِ ، وَأَخْبَرُوهُ أَنِّي لَمْ أَكْتُبْ عَلَيْهِ خَطِيئَةً وَاحِدَةً قَالَ : وَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ : انْظُرُوا كَمِ احْتَسَبُوا ؟ قَالَ : يَقُولُونَ : سَاعَةً - إِنْ كَانُوا احْتَسَبُوا سَاعَةً - فَيَقُولُ : اكْتُبُوا لَهُ دَهْرًا وَالدَّهْرُ عَشَرَةُ آلَافِ سَنَةٍ إِنْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَإِنْ عَاشَ لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ وَاحِدَةٌ ، وَإِنْ كَانَ صَبَاحًا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ [وَكَانَ فِي خَرَافِ الْجَنَّةِ ] ، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ ، وَكَانَ فِي خِرَافِ الْجَنَّةِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنَّهُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ لِغَفْلَتِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ساتھیوں میں سے کسی شخص کو تین دن تک غیر موجود پاتے تھے تو اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے اگر وہ غیر موجود ہوتا تھا ، تو اس کے لئے دعا کر دیتے تھے ، اور اگر وہ ( شہر میں ) موجود ہوتا تھا ، تو اس سے ملنے کے لئے جاتے تھے ، اور اگر وہ بیمار ہوتا تھا ، تو آپ اس کی عیادت کے لئے جاتے تھے ایک مرتبہ آپ نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو تیسرے دن غیر موجود پایا تو اس کے بارے میں دریافت کیا : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ہم نے اسے قرع ( بے آب و گیاہ جگہ جہاں نباتات نہیں ہوتی ہیں ) کی مانند پایا ہے کہ اس کے منہ میں جو چیز جاتی ہے ، وہ اس کے شرم گاہ سے ( پاخانے کی شکل میں ) نکل جاتی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعض ساتھیوں سے فرمایا تم لوگ اپنے بھائی کی عیادت کرو راوی کہتے ہیں : ہم لوگ اس شخص کی عیادت کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے لوگوں میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ، جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اس کی وہی حالت تھی جو ہمارے سامنے بیان کی گئی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے عرض کی : میرے سر ( یعنی منہ ) میں جو چیز بھی جاتی ہے وہ میری شرمگاہ سے نکل جاتی ہے ۔ لوگوں نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک مرتبہ میں آپ کے پاس سے گزرا آپ اس وقت مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے میں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی آپ نے اس میں سورة القارعہ کی تلاوت کی ، تو میں نے یہ دعا کی : اے اللہ ! میرے جس بھی گناہ کا مجھے آخرت میں عذاب ہونا ہے ، تو مجھے اس گناہ کی سزا دنیا میں دے دے تو مجھے اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ، جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے بہت غلط بات کہی ہے کیا تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا نہیں مانگ سکتے تھے کہ وہ تمہیں دنیا میں بھلائی عطا کرے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے اور تمہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو ہدایت کی ، تو اس شخص نے یہ دعا کی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کے لئے دعا کی راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ شخص یوں کھڑا ہوا جیسے اسے رسیوں سے چھڑا دیا گیا ہو راوی بیان کرتے ہیں : جب ہم وہاں سے نکلے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں کچھ دیر پہلے بیمار کی عیادت کرنے کی ترغیب دی تھی تو ہمیں اس کا کیا اجر و ثواب حاصل ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی مسلمان شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لئے اپنے گھر سے نکلتا ہے ، تو وہ تہبند باندھنے کے مقام تک رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ، اور جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ، اور بیمار شخص عرش کے سائے میں ہوتا ہے ، اور عیادت کرنے والا اس کی پاکی کے سائے میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ بیمار کے پاس عیادت کرنے والوں نے کتنے ثواب کی امید رکھی تو فرشتہ عرض کرتا ہے میرے پروردگار جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ لیا جاتا ہے خواہ وہ اتنی دیر کے لئے ثواب کی امید رکھے جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ لیا جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم میرے عیادت کرنے والے بندے کے لئے ایک ہزار سال کی راتوں کی نوافل اور دن کے نفلی روزوں کی عبادت کا ثواب نوٹ کر لو اور اسے یہ بتا دو کہ میں اس کے خلاف ایک بھی گناہ کو نوٹ نہیں کروں گا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ انہوں نے کتنے دیر تک ثواب کی امید رکھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرشتے کہتے ہیں : ایک گھڑی کے لئے ۔ خواہ ایک گھڑی کے لئے انہوں نے ثواب کی امید رکھی ہو ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم اس کے لئے ایک زمانے تک کا ثواب نوٹ کر لو اور ایک زمانہ دس ہزار سال پر مشتمل ہوتا ہے ، اور اگر وہ شخص اس سے پہلے انتقال کر گیا تو وہ جنت میں جائے گا ، اور اگر وہ زندہ رہا تو اس کے خلاف ایک بھی گناہ کو نوٹ نہیں کیا جائے گا اگر صبح کا وقت ہو ( یعنی جب وہ شخص عیادت کرنے کے لئے گیا تھا ) تو شام ہونے تک ستر ہزار فرشتے اس شخص کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں اور وہ شخص جنت کے میوے چنتا رہتا ہے ، اور اگر ( عیادت کے لئے جانے ) کا شام کا وقت ہو ، تو ستر ہزار فرشتے صبح ہونے تک اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں تو وہ شخص ( اس دوران ) جنت کے میوے چنتا رہتا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے وہ ایک نیک شخص ہے ، لیکن ضعیف الحدیث ہے ، اور اپنی غفلت کی وجہ سے متروک قرار پایا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے وہ ایک نیک شخص ہے ، لیکن ضعیف الحدیث ہے ، اور اپنی غفلت کی وجہ سے متروک قرار پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 3762
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَفَعَهُ قَالَ : " أَعْظَمُ الْعِبَادَةِ أَجْرًا أَخَفُّهَا ، وَالتَّعْزِيَةُ مَرَّةً " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : أَحْسَبُ ابْنَ أَبِي فُدَيْكٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ . ¤
محمد محی الدین
علی بن عمر بن علی نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اجر کے اعتبار سے سب سے بڑی عیادت وہ ہے ، جو سب سے مختصر ہو ، اور تعزیت ایک مرتبہ کی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میرا یہ خیال ہے کہ ابن ابوفدیک نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میرا یہ خیال ہے کہ ابن ابوفدیک نامی راوی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3763
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : عِيَادَةُ الْمَرِيضِ أَوَّلَ يَوْمٍ سُنَّةٌ وَبَعْدَ ذَلِكَ تَطَوُّعٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا إِنَّهُ قَالَ : فَمَا زَادَ فَتَطَوُّعٌ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَمَا زَادَ فَهِيَ نَافِلَةٌ وَفِي أَحَدِ أَسَانِيدِهِ : عَلِيُّ بْنُ عُرْوَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ ، وَفِي الْآخَرِ : النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ” پہلے دن بیمار کی عیادت کرنا سنت ہے ، اور اس کے بعد نفل ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ۔ ” جو اس کے علاوہ ہو وہ نفل ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو زیادہ ہو ، وہ نفل ہے “ ۔ ان کی اسانید میں سے ایک سند میں ایک راوی علی بن عروہ ہے ، اور وہ ضعیف اور متروک ہے ، اور دوسری سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ۔ ” جو اس کے علاوہ ہو وہ نفل ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جو زیادہ ہو ، وہ نفل ہے “ ۔ ان کی اسانید میں سے ایک سند میں ایک راوی علی بن عروہ ہے ، اور وہ ضعیف اور متروک ہے ، اور دوسری سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 3764
وَعَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ : أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَمْزَةَ إِنَّ الْمَكَانَ بَعِيدٌ ، وَنَحْنُ يُعْجِبُنَا أَنْ نَعُودَكَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا فَإِنَّمَا يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ ، فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ " قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلصَّحِيحِ الَّذِي يَعُودُ الْمَرِيضَ ، فَالْمَرِيضُ مَا لَهُ ؟ قَالَ : " تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَزَادَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " وَأَبُو دَاوُدَ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا . ¤
محمد محی الدین
بوداؤد بیان کرتے ہیں : میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : اے سیدنا ابوحمزہ ! جگہ دور ہے ، اور ہمیں یہ بات پسند ہے کہ ہم آپ کی عیادت کے لئے آئیں تو انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ رحمت میں غوطہ لگاتا ہے ، اور جب وہ بیمار کے پاس بیٹھا ہوا ہوتا ہے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے “ ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ثواب اس تندرست کو حاصل ہوتا ہے ُ، جو بیمار کی عیادت کرتا ہے ، تو بیمار کو کیا اجر حاصل ہو گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کے گناہ اس سے دور کر دیے جاتے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب بیمار شخص تین دن تک بیمار رہے ، تو وہ اپنے گناہوں سے یوں نکل جاتا ہے ، جس طرح اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا “ ۔ ابوداؤد نامی راوی انتہائی ضعیف ہے ، اور طبرانی کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے ، اور وہ بھی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب بیمار شخص تین دن تک بیمار رہے ، تو وہ اپنے گناہوں سے یوں نکل جاتا ہے ، جس طرح اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا “ ۔ ابوداؤد نامی راوی انتہائی ضعیف ہے ، اور طبرانی کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے ، اور وہ بھی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3765
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَائِدُ الْمَرِيضِ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ " ، وَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى وِرْكِهِ هَكَذَا مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا ، " فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” بیمار کی عیادت کرنے والا رحمت میں غوطہ لگاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اپنے پہلو پر رکھا اور پھر ارشاد فرمایا : اس طرح وہ جاتے ہوئے اور واپس آتے ہوئے بھی ( رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ) اور جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں یہ مذکور ہے اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن زید سے نقل کیا ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں یہ مذکور ہے اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن زید سے نقل کیا ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔
حدیث نمبر: 3766
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اسْتَشْفَعَ فِيهَا وَقَدِ اسْتَشْفَعْتُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي الرَّحْمَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ رحمت میں ڈوب جاتا ہے ، اور جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے ، تو اس سے شفاعت چاہے ، اگر اللہ نے چاہا ، تو تم رحمت میں شفاعت چاہو گے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 3767
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا لَمْ يَزَلْ يَخُوضُ الرَّحْمَةَ حَتَّى يَجْلِسَ ، فَإِذَا جَلَسَ اغْتَمَسَ فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ مسلسل رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ، جب تک وہ بیٹھ نہیں جاتا اور جب وہ بیٹھ جائے ، تو وہ اس ( رحمت ) میں ڈبکی لگاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3768
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا عَادَ الْمَرِيضَ جَلَسَ عِنْدَ رَأْسِهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار کی عیادت کرتے تھے تو اس کے سرہانے کے پاس تشریف فرما ہوتے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 3769
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَائِدُ الْمَرِيضِ فِي مَخْرَفَةِ الْجَنَّةِ ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : وَهُوَ مِمَّنْ لَا يَتَعَمَّدُ الْكَذِبَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بیمار کی عیادت کرنے والا جنت کے پھل چننے میں مصروف رہتا ہے ، اور جب وہ اس کے پاس بیٹھتا ہے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ائمہ نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جو جان بوجھ کر غلط بیانی نہیں کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ائمہ نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ ان افراد میں سے ایک ہے ، جو جان بوجھ کر غلط بیانی نہیں کرتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 3770
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ عَادَ مَرِيضًا فَلَا يَزَالُ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى إِذَا قَعَدَ عِنْدَهُ اسْتَشْفَعَ فِيهَا وَإِذَا قَامَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَا يَزَالُ يَخُوضُ فِيهَا حَتَّى يَرْجِعَ مِنْ حَيْثُ خَرَجَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ مسلسل رحمت میں رہتا ہے یہاں تک کہ جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے ، تو اس بارے میں شفاعت چاہے ، اور جب وہ اس کے پاس سے اٹھتا ہے ، تو وہ مسلسل رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ، جب تک وہ اس جگہ تک واپس نہیں آ جاتا جہاں سے وہ نکلا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3771
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ عَادَ الْمَرِيضَ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اغْتَمَسَ فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ رحمت میں غوطہ لگاتا ہے ، اور جب وہ اس کے پاس بیٹھتا ہے ، تو وہ اس ( رحمت ) میں ڈبکی لگاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3772
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ عَادَ الْمَرِيضَ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اغْتَمَسَ فِيهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ رحمت میں رہتا ہے ، اور جب وہ اس کے پاس بیٹھتا ہے ، تو وہ اُس ( رحمت ) میں ڈبکی لگاتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور امام طبرانی کے استاد کے علاوہ اس کے باقی تمام رجال کو ” ثقہ “ قرار دیا گیا ہے میں امام طبرانی کے استاد سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور امام طبرانی کے استاد کے علاوہ اس کے باقی تمام رجال کو ” ثقہ “ قرار دیا گیا ہے میں امام طبرانی کے استاد سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 3773
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - " مِنْ عَادَ مَرِيضًا خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ ، فَإِذَا جَلَسَ إِلَيْهِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ ، فَإِنْ عَادَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ اسْتَغْفَرَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى [ يُمْسِي وَإِنْ عَادَ مِنْ آخِرِ النَّهَارِ اسْتَغْفَرَ لَهُ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى ] يُصْبِحَ " ، قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلْعَائِدِ ، فَمَا لِلْمَرِيضِ ؟ قَالَ : " أَضْعَافُ هَذَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْأَنْصَارِيُّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ رحمت میں غوطہ لگاتا ہے ، اور جب وہ اس کے پاس بیٹھتا ہے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے اگر وہ دن کے ابتدائی حصے میں اس کی عیادت کرتا ہے ، تو ستر ہزار فرشتے شام ہونے تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں اور اگر وہ دن کے آخری حصے میں عیادت کرتا ہے ، تو ستر ہزار فرشتے صبح ہونے تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے ہیں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ فضیلت تو عیادت کرنے والے کو حاصل ہوتی ہے بیمار کو کیا ( اجر و ثواب ) ملتا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا کئی گنا ( اجر و ثواب ) ملتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبد الملک انصاری ہے ، اور میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبد الملک انصاری ہے ، اور میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 3774
وَعَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ : أَتَيْنَا صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِيَّ فَقَالَ : أَزَائِرِينَ ؟ قُلْنَا : نَعَمْ فَقَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ زَارَ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى يَرْجِعَ ، وَمَنْ عَادَ أَخَاهُ الْمُؤْمِنَ خَاضَ فِي رِيَاضِ الْجَنَّةِ حَتَّى يَرْجِعَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمُسَاوِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
زرین بن حبیش بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا صفوان بن عسال مرادی کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا : کیا تم لوگ ملاقات کے لئے آئے ہو ، تو ہم نے عرض کی : جی ہاں ۔ تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص اپنے مؤمن بھائی سے ملنے کے لئے جاتا وہ واپس آنے تک رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ، اور جو شخص اپنے مؤمن بھائی کی عیادت کرنے کے لئے جاتا ہے وہ واپس آنے تک جنت کے باغات میں رہتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن ابومساور ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن ابومساور ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3775
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا خَرَجَ يَعُودُ أَخًا لَهُ مُؤْمِنًا خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ إِلَى حَقْوَتِهِ " ، وَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى رُكْبَتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى الصَّدَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص اپنے مؤمن بھائی کی عیادت کرنے کے لئے نکلتا ہے ، تو وہ ( پیٹ پر ) تہبند باندھنے کی جگہ تک رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے ( یا ان کے ) گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر یہ بات ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جب وہ اس کے پاس بیٹھتا ہے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3776
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ ، فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُكَمِّدُهُ بِخِرْقَةٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ دَابٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب کوئی شخص اپنے مؤمن بھائی کی عیادت کرنے کے لئے نکلتا ہے ، تو وہ ( پیٹ پر ) تہبند باندھنے کی جگہ تک رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ( یا ان کے ) گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر یہ بات ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جب وہ اس کے پاس بیٹھتا ہے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی معاویہ بن یحیی صدفی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3777
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ : " اذْهَبُوا بِنَا إِلَى بَنِي وَاقِفٍ نَعُودُ الْبَصِيرَ - وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ الْحَمَّالُ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَأَظُنُّهُ فِي الْمُسْنَدِ بِلَفْظٍ : نَزُورُ فَلِذَلِكَ ذَكَرْتُهُ فِي الْبَرِّ وَالصِّلَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے سعید بن العاص کی عیادت کی ، تو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک کپڑے کے ذریعے انہیں پٹی باندھی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن داب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن داب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3778
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : عَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِهِ بِهِ وَجَعٌ ، وَأَنَا مَعَهُ فَقَبَضَ عَلَى يَدِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ وَكَانَ يَرَى ذَلِكَ مِنْ تَمَامِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَقَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَالَ : نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ لِيَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحاب میں ایک صاحب کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے جنہیں کوئی بیماری لاحق تھی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاتھ کو مٹھی میں لیا اور ان کا ہاتھ اُن کی پیشانی پر رکھا ( یا اپنا دست ان کی پیشانی پر رکھا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ یہ چیز بیمار کی عیادت کا حصہ ہے آپ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : یہ میری آگ ہے ، جو میں اپنے مؤمن بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ آخرت میں جہنم کی جگہ یہ اس کا حصہ ہو جائے “ ۔ میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یزید بن تمیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یزید بن تمیم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3779
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ : دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُنِي فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ قَالَ : " يَا سَلْمَانُ كَشَفَ اللَّهُ ضُرَّكَ وَغَفَرَ ذَنْبَكَ وَعَافَاكَ فِي دِينِكَ وَجَسَدِكَ إِلَى أَجَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس میری عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے جب آپ تشریف لے جانے لگے تو آپ نے ارشاد فرمایا : ” اے سلمان ! اللہ تعالیٰ تمہاری تکلیف کو دور کرے تمہارے گناہ کی مغفرت کرے اور مرتے دم تک تمہارے دین اور تمہارے جسم میں تمہیں عافیت نصیب کرے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد قرشی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3780
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا عَادَ مَرِيضًا يَضَعُ يَدَهُ عَلَى الْمَكَانِ الَّذِي يَأْلَمُ ثُمَّ يَقُولُ : " بِسْمِ اللَّهِ لَا بَأْسَ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے تو اپنا دست مبارک اس جگہ پر رکھتے تھے جہاں اسے تکلیف محسوس ہو رہی ہوتی تھی اور پھر یہ پڑھتے تھے : ” اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے کوئی تکلیف باقی نہیں رہے گی“ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3781
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ وَهُوَ مَحْمُومٌ فَقَالَ : " كَفَارَّةٌ وَطَهُورٌ " فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ : بَلْ حُمَّى تَفُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَرَكَهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ شُرَحْبِيلَ فِي بَابِ فِيمَنْ صَبَرَ عَلَى الْحُمَّى وَاحْتَسَبَ أَبْيَنُ مِنْ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کی عیادت کرنے کے لئے اس کے پاس تشریف لے گئے وہ بخار کی حالت میں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ( یہ بیماری ) کفارے اور پاکیزگی کے حصول کا باعث ہو گی تو اس دیہاتی نے کہا: جی نہیں بلکہ یہ ایک بخار ہے ، جو ایک بوڑھے آدمی پر جوش مار رہا ہے ، اور اسے قبر تک پہنچا کے دم لے گا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ گئے اور آپ نے اسے ( اس کے حال پر ) چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کر سیدنا شرحبیل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث آئے گی جو اس باب میں آئے گی کہ جو شخص بخار میں صبر سے کام لیتا ہے ، اور ثواب کی امید رکھتا ہے اس میں
یہ روایت زیادہ واضح طور پر آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کر سیدنا شرحبیل رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث آئے گی جو اس باب میں آئے گی کہ جو شخص بخار میں صبر سے کام لیتا ہے ، اور ثواب کی امید رکھتا ہے اس میں
یہ روایت زیادہ واضح طور پر آئے گی ۔
حدیث نمبر: 3782
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا : مَنْ مَشَى فِي حَاجَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ أَظَلَّهُ اللَّهُ بِخَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يَدْعُونَ لَهُ ، وَلَمْ يَزَلْ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ حَتَّى يَفْرَغَ ، فَإِذَا فَرَغَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ حَجَّةً وَعُمْرَةً ، وَمِنْ عَادَ مَرِيضًا أَظَلَّهُ اللَّهُ بِخَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ لَا يَرْفَعُ قَدَمًا إِلَّا كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ وَلَا يَضَعُ قَدَمًا إِلَّا حُطَّتْ عَنْهُ سَيِّئَةٌ وَرْفُعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ حَتَّى يَقْعُدَ مَقْعَدَهُ فَإِذَا قَعَدَ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ إِذَا أَقْبَلَ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى مَنْزِلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ الْأَشْجَعِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کے کام کے سلسلے میں چل کے جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ پچھتر ہزار فرشتوں کے ذریعے اس پر سایہ کرتا ہے ، جو اس کے لئے دعا کرتے رہتے ہیں اور ایسا شخص مسلسل رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ، جب تک وہ اس کام سے فارغ نہیں ہو جاتا جب وہ فارغ ہو جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے حج اور عمرے کا ثواب عطا فرماتا ہے ، اور جو شخص بیمار کی عیادت کے لئے جاتا ہے اللہ تعالیٰ پچھتر ہزار فرشتوں کے ذریعے اس پر سایہ کر دیتا ہے وہ شخص جو بھی قدم اٹھاتا ہے ، تو فرشتے اس کے لئے نیکی کو نوٹ کرتے ہیں اور وہ جو بھی قدم رکھتا ہے ، تو اس کے کسی گناہ کو اس سے دور کر دیا جاتا ہے ، اور اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ شخص بیٹھنے کی جگہ پر جا کر بیٹھ جاتا ہے ، جب وہ بیٹھ جاتا ہے ، تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ، تو وہ شخص مسلسل اسی حالت میں رہتا ہے ، جب تک وہ واپس اس جگہ نہیں آ جاتا جو اس کی رہائش گاہ تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن میسرہ اشجعی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن میسرہ اشجعی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔