کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: عافیت والے شکرگزار اور آزمائش کا شکار صبر کرنے والے شخص کا بیان
حدیث نمبر: 3727
عَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ رَأَى إِنْسَانًا بِهِ بَلَاءٌ فَقَالَ : " لَعَلَّكَ سَأَلْتَ رَبَّكَ يُعَجِّلُ لَكَ الْبَلَاءَ ؟ " ، قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " فَهَلَّا سَأَلْتَ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ وَقُلْتَ : رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : يُعْتَبَرُ بِهِ إِذَا رَوَى عَنْ ثِقَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو کسی آزمائش ( یعنی بیماری وغیرہ ) کا شکار تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : شاید تم نے اپنے پروردگار سے یہ دعا کی ہو گی کہ وہ تمہیں جلدی ( یعنی دنیا میں ہی ) آزمائش کا شکار کر دے اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے اپنے پروردگار سے عافیت کا سوال کیوں نہیں کیا ؟ اور یہ کیوں نہیں کہا: ” اے ہمارے پروردگار ! تو ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں قبر کے عذاب سے بچا دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن زکریا غلابی ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، جب یہ کسی ثقہ راوی سے روایت نقل کرے تو اس کا اعتبار کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن زکریا غلابی ہے ، جسے امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے ، جب یہ کسی ثقہ راوی سے روایت نقل کرے تو اس کا اعتبار کیا جائے گا ۔
حدیث نمبر: 3728
وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عِبَادًا يُحْيِيهِمْ فِي عَافِيَةٍ وَيُمِيتُهُمْ فِي عَافِيَةٍ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ فِي عَافِيَةٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْبَرَاءَ بْنِ النَّضْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جنہیں وہ عافیت میں زندہ رکھتا ہے ، اور جنہیں وہ عافیت میں موت دیتا ہے ، اور جنہیں وہ عافیت میں جنت میں داخل کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن براء بن نضر ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن براء بن نضر ہے ، اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3729
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَافِيَةَ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لِصَاحِبِهَا مِنْ جَزِيلِ الثَّوَابِ إِذَا هُوَ شَكَرَ وَذَكَرَ الْبَلَاءَ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ مِنْ جَزِيلِ الثَّوَابِ إِذَا هُوَ صَبَرَ ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَأَنْ أُعَافَى فَأَشْكُرُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُبْتَلَى فَأَصْبِرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَرَسُولُ اللَّهِ يُحِبُّ مَعَكَ الْعَافِيَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْبَرَاءَ بْنَ النَّضْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عافیت کا ذکر کیا ، اور عافیت والے شخص کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو عظیم اجر و ثواب تیار کیا ہے اس کا ذکر کیا جب کہ وہ بندہ شکر کرتا ہو ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آزمائش کا ذکر کیا ، اور جب آزمائش کا شکار شخص صبر کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جو عظیم اجر و ثواب تیار کیا ہے اس کا ذکر کیا ، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں عافیت میں رہوں اور شکر کروں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں کسی آزمائش کا شکار ہو کر صبر کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ کے رسول بھی تمہارے ساتھ عافیت کو پسند کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن براء بن نضر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن براء بن نضر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔