حدیث نمبر: 3730
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ : انْطَلَقُوا إِلَى عَبْدِي فَصُبُّوا عَلَيْهِ الْبَلَاءَ [ صَبًّا ، فَيَصُبُّونَ عَلَيْهِ الْبَلَاءَ ] ، فَيَحْمَدُ اللَّهَ فَيَرْجِعُونَ فَيَقُولُونَ : يَا رَبَّنَا صَبَبْنَا عَلَيْهِ الْبَلَاءَ صَبًّا كَمَا أَمَرْتَنَا فَيَقُولُ : ارْجِعُوا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : میرے بندے کی طرف جاؤ اور اس پر آزمائش انڈیل دو ( فرشتے ایسا کرتے ہیں ) تو وہ بندہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہے ، جب فرشتے واپس آتے ہیں تو عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار جس طرح تو نے ہمیں حکم دیا تھا اس کے مطابق ہم نے اس پر آزمائش ڈال دی تھی پروردگار فرماتا ہے : تم واپس جاؤ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں اس کی آواز سنوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3731
وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ اللَّهَ لَيُجَرِّبُ أَحَدَكُمْ بِالْبَلَاءِ كَمَا يُجَرِّبُ أَحَدُكُمْ ذَهَبَهُ بِالنَّارِ فَمِنْهُ مَا يَخْرُجُ كَالذَّهَبِ الْإِبْرِيزِ فَذَاكَ حَمَاهُ اللَّهُ مِنَ الشُّبُهَاتِ ، وَمِنْهُ مَا يَخْرُجُ دُونَ ذَلِكَ فَذَلِكَ الَّذِي يَشُكُّ بَعْضَ الشَّكِّ ، وَمِنْهُ مَا يَخْرُجُ كَالذَّهَبِ الْأَسْوَدِ فَذَاكَ الَّذِي افْتُتِنَ " . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان منقول ہے : ” اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک شخص کی آزمائش کے ذریعے جانچ کرتا ہے ، جس طرح تم میں سے کوئی ایک شخص آگ کے ذریعے اپنے سونے کو جانچتا ہے ، تو اس میں سے جو نکلتا ہے وہ خالص سونے کی مانند ہوتا ہے ، تو یہ وہ شخص ہو گا جسے اللہ تعالی نے شبہات سے بچا لیا ہو ، اور اس میں سے کچھ ایسی چیز بھی نکلتی ہے ، جو اس سے کم ہوتی ہے ، تو یہ وہ شخص ہو گا ، جو کچھ شک کا شکار ہو ، اور اس میں سے وہ چیز بھی نکلتی ہے ، جو سیاہ سونے کی مانند ہوتی ہے تو یہ وہ شخص ہے ، جسے فتنہ کا شکار کیا گیا ہو گا“ ۔
حدیث نمبر: 3732
وَبِسَنَدِهِ أَيْضًا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرِضَ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى مَلَائِكَتِهِ فَيَقُولُ : أَيَا مَلَائِكَتِي أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي بِقَيْدٍ مِنْ قُيُودِي فَإِنْ قَبَضْتُهُ أَغْفِرُ لَهُ ، وَإِنْ عَافَيْتُهُ فَجَسَدُهُ مَغْفُورٌ لَهُ لَا ذَنْبَ لَهُ " . ¤
محمد محی الدین
اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مسلمان جب بیمار ہوتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کی طرف وحی کر کے یہ فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! میں نے اپنے بندے کو اپنی ایک بیڑی میں پابند کر دیا ہے اگر میں اس کو قبض کر لوں گا ، تو میں اس کی مغفرت کر دوں گا ، اور اگر میں نے اسے عافیت عطا کر دی ( یعنی اس آزمائش سے نجات دے دی ) تو اس کا جسم ایسا ہو گا کہ اس کی مغفرت ہو چکی ہو گی ، اور اس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا “ ۔
حدیث نمبر: 3733
وَعَنْ أَبِي عِنْبَةَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا ابْتَلَاهُ ، وَإِذَا ابْتَلَاهُ أَضْنَاهُ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا أَضْنَاهُ ؟ قَالَ : " لَا يَتْرُكُ لَهُ أَهْلًا وَلَا مَالًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ ، ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ وَلَمْ يَذْكُرْ سَبَبًا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرتا ہے ، تو اسے آزمائش کا شکار کر دیتا ہے ، اور جب اسے آزمائش کا شکار کرتا ہے ، تو اسے مشقت کا شکار کر دیتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسے مشقت کا شکار کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اُس کے اہل خانہ اور مال کو اس کے لئے نہیں رہنے دیتا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد ہے ، جو امام طبرانی کا استاد ہے ۔ امام ذہبی نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کوئی سبب ذکر نہیں کیا اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد ہے ، جو امام طبرانی کا استاد ہے ۔ امام ذہبی نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کوئی سبب ذکر نہیں کیا اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3734
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْمُصِيبَةُ تُبَيِّضُ وَجْهَ صَاحِبِهَا يَوْمَ تَسْوَدُّ الْوُجُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ رِقَاعٍ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مصیبت اپنے متعلقہ فرد کے چہرے کو اس دن سفید کرے گی جس دن کئی چہرے سیاہ ہوں گئے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن رقاع ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن رقاع ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔
حدیث نمبر: 3735
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِالْحُزْنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي الْبُيُوعِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَفِيهِ : أَنَّ مِنَ الذُّنُوبِ ذُنُوبًا لَا يُكَفِّرُهَا إِلَّا الْهَمُّ فِي طَلَبِ الْمَعِيشَةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جائیں اور اس کی کوئی ایسی چیز نہ ہو جو ان گناہوں کو ختم کر سکے تو اللہ تعالیٰ اسے غم کی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : خرید و فروخت سے متعلق باب میں ایک حدیث آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا اس میں یہ ذکر ہو گا کہ گناہوں میں سے کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کا کفارہ صرف رزق کے حصول میں آدمی کی پریشانی بن سکتی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : خرید و فروخت سے متعلق باب میں ایک حدیث آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا اس میں یہ ذکر ہو گا کہ گناہوں میں سے کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کا کفارہ صرف رزق کے حصول میں آدمی کی پریشانی بن سکتی ہے ۔
حدیث نمبر: 3736
وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ صَبَرَ فَلَهُ الصَّبْرُ وَمِنْ جَزَعَ فَلَهُ الْجَزَعُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب اللہ تعالی کسی قوم سے محبت کرتا ہے ، تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے ، جو شخص صبر سے کام لیتا ہے اسے صبر کا اجر و ثواب ) نصیب ہو گا ، اور جو شخص آہ وزاری کرے گا اسے آہ وزاری ( کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا ) “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3737
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے محبت کرتا ہے ، تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔