حدیث نمبر: 3714
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَجَّهَ نَحْوَ مَشْرَبَتِهِ فَدَخَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَخَرَّ سَاجِدًا فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّهَ قَبَضَ نَفْسَهُ فِيهَا ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ : " مَنْ هَذَا ؟ " قُلْتُ : عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ سَجَدْتَ سَجْدَةً خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ قَبَضَ نَفْسَكَ فِيهَا قَالَ : " إِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَانِي فَبَشَّرَنِي فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ : مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدْتُ لِلَّهِ شُكْرًا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے آپ کا رخ اپنے بالا خانے کی طرف تھا آپ اس میں گئے آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا ، اور سجدے میں چلے گئے آپ نے طویل سجدہ کیا یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالی نے سجدے کے دوران آپ کی جان کو قبض کر لیا ہے میں آپ کے قریب آیا تو آپ نے اپنا سر اٹھایا آپ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے عرض کی : عبدالرحمن آپ نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا سجدہ کیا ہے کہ میں اس اندیشے کا شکار ہو گیا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے اس سجدے کے دوران آپ کی جان کو قبض نہ کر لیا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی اور بتایا : اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : جو شخص آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت نازل کروں گا ، اور جو شخص آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی نازل کروں گا ، تو میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے یہ سجدہ کیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3715
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ : غَابَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيهَا فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ : " إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي مَاذَا أَفْعَلُ بِهِمْ ؟ فَقُلْتُ : مَا شِئْتَ أَيْ رَبِّ هُمْ خَلْقُكَ وَعِبَادُكَ فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ فَقُلْتُ لَهُ كَذَلِكَ ، فَقَالَ : لَا أُحْزِنُكَ فِي أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِمَّا فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ أَوْ فِي الْمَنَاقِبِ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے اوجھل ہو گئے آپ تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ تشریف نہیں لائیں گے پھر آپ تشریف لائے اور سجدے میں چلے گئے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید اس سجدے کے دوران آپ کی روح قبض ہو گئی ہے ، جب آپ نے سر اٹھایا تو آپ نے فرمایا : میرے پروردگار نے میری امت کے بارے میں مجھ سے مشورہ لیا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں ؟ تو میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو جو چاہے وہ کر ! وہ تیری مخلوق ہیں ، اور تیرے بندے ہیں پروردگار نے دوسری مرتبہ مجھ سے مشورہ لیا تو میں نے پھر اسی طرح کہ دیا پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! امیں تمہیں تمہاری امت کے بارے میں غمگین نہیں کروں گا“ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اگر اللہ نے چاہا تو
یہ روایت مکمل طور پر آگے آئے گی جو یا تو نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئے گی یا امت کی فضیلت سے متعلق باب میں کتاب المناقب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت مکمل طور پر آگے آئے گی جو یا تو نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئے گی یا امت کی فضیلت سے متعلق باب میں کتاب المناقب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3716
وَعَنْ جَابِرٍ رَفَعَهُ قَالَ : " مَرَّ رَجُلٌ بِجُمْجُمَةِ إِنْسَانٍ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ فَخَرَّ سَاجِدًا فَقِيلَ لَهُ : ارْفَعْ رَأْسَكَ فَأَنْتَ أَنْتَ وَأَنَا أَنَا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ” مرفوع “ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ایک مرتبہ ایک شخص ، ایک انسان کی کھوپڑی کے پاس سے گزرا ، اس کے ذہن میں کچھ خیال آیا تو وہ سجدے میں گر گیا ، اس سے کہا: گیا : تم اپنا سر اٹھاؤ ! تم ، تم ہو ، اور میں ، میں ہوں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3717
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا يَتْبَعُهُ فَفَزِعَ عُمَرُ فَأَتَاهُ بِظَهْرَةٍ مِنْ جِلْدٍ فَوَجَدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدًا فِي مَشْرَبَتِهِ فَتَنَحَّى عَنْهُ مِنْ خَلْفِهِ حَتَّى رَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فَقَالَ : " أَحْسَنْتَ يَا عُمَرُ حِينَ وَجَدَتْنِي سَاجِدًا فَتَنَحَّيْتَ عَنِّي ، إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي فَقَالَ : مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْ أُمَّتِكَ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَرَفَعَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ بَحِيرٍ الْمِصْرِيِّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے آپ نے کسی شخص کو نہیں پایا جو آپ کے پیچھے جاتا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گھبرا گئے وہ چھڑے کا ڈول لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بالا خانے میں سجدے کے حالت میں دیکھا وہ ایک طرف ہٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! تم نے اچھا کیا جب تم نے مجھے سجدے کی حالت میں پایا تو مجھ سے پرے ہو کر بیٹھ گئے جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ بتایا : آپ کی امت کا جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، تو اللہ تعالٰی اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کرے گا ، اور اس درود کی وجہ سے اس شخص کے دس درجات بلند کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن عبدالرحیم بن بحیر مصری کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن عبدالرحیم بن بحیر مصری کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 3718
وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ : خَرَجَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَجِدْهُ فَطَلَبَهُ فِي بُيُوتِهِ فَلَمْ يَجِدْهُ ، فَاتَّبَعَهُ فِي سِكَّةٍ سِكَّةٍ حَتَّى دُلَّ عَلَيْهِ فِي جَبَلِ ثَوَابٍ فَخَرَجَ حَتَّى رَقِيَ جَبَلَ ثَوَابٍ فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالًا فَبَصَرَ بِهِ فِي الْكَهْفِ الَّذِي اتَّخَذَ النَّاسُ إِلَيْهِ طَرِيقًا إِلَى مَسْجِدِ الْفَتْحِ قَالَ مُعَاذٌ : فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى أَسَأْتُ بِهِ الظَّنَّ فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ قُبِضَتْ رُوحُهُ فَقَالَ : " جَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِهَذَا الْمَوْضِعِ فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ : مَا تُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمَّتِكَ ؟ قُلْتُ : اللَّهُ أَعْلَمُ ، فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ إِلَيَّ فَقَالَ : إِنَّهُ يَقُولُ لَكَ : لَا أَسُوؤُكَ فِي أُمَّتِكَ فَسَجَدْتُ فَأَفْضَلُ مَا تُقُرِّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - السُّجُودُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَدَنِيُّ مَوْلَى بَنِي مُزَيْنَةَ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں نکلے ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے گھروں میں تلاش کیا ، تو نہیں پایا وہ ایک ایک گلی سے گزرتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ جبل ثواب کے پاس ان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پتہ چلا تو وہ جبل ثواب پر چڑھ گئے انہوں نے دائیں بائیں دیکھا تو ان کی نظر ایک غار پر پڑی کہ جسے لوگ مسجد فتح کے راستے کے طور پر استعمال کرتے تھے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں تھے میں پہاڑ کے سرے سے نیچے اتر آیا ، لیکن آپ سجدے کی حالت میں ہی رہے آپ نے اپنا سر نہیں اٹھایا یہاں تک کہ میں نے آپ کے بارے میں براگمان کیا میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کی روح قبض ہو گئی ہے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا لیا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کے بارے میں برا گمان کیا تھا ۔ میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کی روح قبض ہو گئی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے پاس اس مقام پر آئے اور انہوں نے یہ بتایا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا: ہے ، اور آپ سے یہ فرمایا ہے کہ تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں ؟ میں نے عرض کی : اللہ بہتر جانتا ہے وہ چلے گئے پھر وہ میرے پاس آئے اور بولے : پروردگار آپ سے یہ فرما رہا ہے : میں تمہاری اُمت کے بارے میں تمہیں ناگواری کا شکار نہیں کروں گا ، تو میں سجدے میں چلا گیا کیونکہ سب سے زیادہ فضیلت والی وہ چیز ، جس کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے ، وہ سجدہ کرنا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم مدنی ہے ، جو بنو مرینہ کا غلام ہے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم مدنی ہے ، جو بنو مرینہ کا غلام ہے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3719
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : أَقْبَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى أَصْبَحَ فَسَجَدَ سَجْدَةً ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيهَا قَالَ : " تَدْرِي لِمَ ذَاكَ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَأَعَادَهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَقَالَ : " إِنِّي صَلَّيْتُ مَا كَتَبَ لِي رَبِّي وَأَتَانِي رَبِّي فَقَالَ لِي فِي آخِرِهَا : مَا أَفْعَلُ بِأُمَّتِكَ ؟ قُلْتُ : أَيْ رَبِّ أَنْتَ أَعْلَمُ فَأَعَادَهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَقَالَ لِي فِي آخِرِهَا : مَا أَفْعَلُ بِأُمَّتِكَ ؟ قُلْتُ : أَنْتَ أَعْلَمُ يَا رَبِّ قَالَ : إِنِّي لَا أُحْزِنُكَ فِي أُمَّتِكَ ، فَسَجَدْتُ لِرَبِّي وَرَبِّي شَاكِرٌ يُحِبُّ الشَّاكِرِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ عُثْمَانَ السَّكْسَكِيِّ عَنْ مُعَاذٍ وَلَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا فَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ وَهُوَ مِنْ طَرِيقِ بَقِيَّةَ وَقَدْ عَنْعَنَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ۔ آپ مسلسل قیام کی حالت میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی تو آپ سجدے میں چلے گئے میں نے یہ گمان کیا کہ شاید سجدے کے دوران آپ کی روح قبض ہو گئی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا : اے معاذ کیا تم نے دیکھا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اتنا طویل سجدہ کیا کہ میں نے یہ گمان کیا کہ شاید اس سجدے کے دوران آپ کی روح قبض ہو گئی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو اس کی ( یعنی سجدے کو طویل کرنے کی ) وجہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے وہ نماز ادا کی جو اللہ تعالیٰ نے میرے نصیب میں لکھی تھی پھر میرا پروردگار میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے فرمایا : میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں ؟ میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو زیادہ بہتر جانتا ہے پروردگار نے تین یا چار مرتبہ یہ بات میرے ساتھ کی سب سے آخر میں مجھ سے یہ بات کی کہ میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں ؟ میں نے عرض کی : اے پروردگار تو زیادہ بہتر جانتا ہے ، تو پروردگار نے فرمایا : تمہاری امت کے بارے میں ، میں تمہیں غمگین نہیں کروں گا ، تو میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سجدے میں چلا گیا میرا پروردگار شکر قبول کرنے والا ہے ، اور شکر کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں حجاج بن عثمان سکسکی کے حوالے سے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اور اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ تبع تابعین میں کیا ہے
یہ روایت بقیہ کے حوالے سے منقول ہے ، اور وہ عنعنہ کے ساتھ اس کو نقل کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں حجاج بن عثمان سکسکی کے حوالے سے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، اور اس نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ تبع تابعین میں کیا ہے
یہ روایت بقیہ کے حوالے سے منقول ہے ، اور وہ عنعنہ کے ساتھ اس کو نقل کرتے ہیں ۔
حدیث نمبر: 3720
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ : جِئْتُ أَزُورُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ يُوحَى إِلَيْهِ ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ لِعَائِشَةَ : " نَاوِلِينِي رِدَائِي " فَخَرَجَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا فِيهِ قَوْمٌ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُهُمْ فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ حَتَّى قَضَى الْمُذَكِّرُ تَذْكِرَتَهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى إِذَا جَاءَ مَنْ كَانَ عَلَى قَدْرِ مِيلَيْنِ وَتَسَامَعَ النَّاسُ سُجُودَهُ فَعَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى أَهْلِهَا احْضُرُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقَدْ رَأَيْتُ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ أَرَهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلْتَ السُّجُودَ ؟ فَقَالَ : " سَجَدْتُ لِرَبِّي شُكْرًا فِيمَا أَعْطَانِي مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أُمَّتُكَ أَكْثَرُ وَأَطْيَبُ فَاسْتَكْثِرْ لَهُمْ فَقَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ عُمَرُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدِ اسْتَوْهَبْتَ أُمَّتَكَ ! . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ قُلْتُ : وَلَهُ طُرُقٌ تَأْتِي فِي الْبَعْثِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کرنے کے لئے آیا تو اس وقت آپ کی طرف وحی نازل ہو رہی تھی جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی تو آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان سے فرمایا کہ مجھے میری چادر پکڑاؤ پھر آپ مسجد میں چلے گئے وہاں کچھ لوگ موجود تھے ان کے علاوہ مسجد میں اور کوئی نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئے یہاں تک کہ بیان کرنے والے نے اپنی بات ختم کی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت تنزیل السجدہ کی تلاوت کی اور طویل سجدہ کیا جو اتنا طویل تھا کہ کوئی شخص ( اتنی دیر میں ) دو میل کا فاصلہ طے کر سکتا تھا لوگوں نے اس سجدے کے بارے میں لوگوں کو بتایا تو لوگ اتنے زیادہ اکھٹے ہو گئے کہ مسجد بھر گئی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں کو پیغام بھیجا کہ آپ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جائیں کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ایک ایسی چیز دیکھی ہے ، جو پہلے میں نے نہیں دیکھی تھی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے سجدے کو اتنا طول دیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے میری امت کے بارے میں مجھے جو چیز عطا کی ہے میں نے اپنے پروردگار کا شکر ادا کرنے کے لئے سجدہ کیا تھا اس نے یہ چیز عطا کی ہے کہ میری امت کے ستر ہزار افراد کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ سیدنا ابوبکر نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ کی امت کثرت والی ہے ، اور زیادہ پاکیزہ ہے آپ ان کے لئے مزید کثرت کی دعا کرتے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دو مرتبہ یا تین مرتبہ ( میں نے مزید کثرت طلب کی تھی ) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کی امت آپ کو ہبہ کر دی گئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے میں یہ کہتا ہوں ، اس روایت کے مختلف طرق ہیں جو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق باب میں آگے آئیں گے ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے میں یہ کہتا ہوں ، اس روایت کے مختلف طرق ہیں جو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق باب میں آگے آئیں گے ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 3721
وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَمْ يَبْقَ مِنْ طَوَاغِيتَ الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا بَيْتُ ذِي الْخَلَصَةِ فَمَنْ يُنْتَدَبُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ؟ " قَالَ جَرِيرٌ : أَنَا ، وَانْتَدَبَ مَعَهُ سَبْعَمِائَةٍ كُلُّهُمْ مِنْ أَحْمُسَ فَلَمْ يَفْجَأِ الْقَوْمَ إِلَّا بِنَوَاصِي الْخَيْلِ فَقَتَلُوا وَحَرَقُوا الْبَيْتَ وَكَتَبُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبِشَارَةٍ وَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْهُ إِلَّا كَالْبَعِيرِ الْأَجْرَبِ فَخَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَحْمُسَ فِي خَيْلِهَا وَرِجَالِهَا " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارِ السُّجُودِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَجَمَاعَةٌ كَثِيرَةٌ ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ : صَدُوقٌ كَثِيرُ الْخَطَأِ وَالْوَهْمِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زمانہ جاہلیت کے بتوں میں سے صرف بیت ذی الخلصہ رہ گیا ہے ، تو کون اللہ اور اس کے رسول کی خاطر اس کو ختم کرے گا ؟ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ، تو وہ اپنے ساتھ سات سو افراد کو لے کے گئے جن کا سب تعلق احمس قبیلے سے تھا وہ لوگ اچانک ان کے سروں پر پہنچ گئے انہوں نے لوگوں کو قتل بھی کیا ، اور اس گھر کو جلا دیا انہوں نے خوشخبری کی خبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحریری طور پر بھیجی اور آپ کو یہ بتایا : اب اس گھر کی حالت یوں ہے ، جس طرح رسوا کیا ہوا کوئی اونٹ ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جس طرح کوئی خارش زدہ اونٹ ہوتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے پھر آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! احمس قبیلے کے گھڑ سواروں اور پیادہ افراد کو برکت نصیب فرما ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں
یہ روایت اس کی مانند منقول ہے ، جس میں اختصار کے ساتھ سجدہ کرنے کا ذکر ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے ، جسے شعبہ اور ایک بڑی جماعت نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے عمرو بن علی کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، لیکن بکثرت غلطی کرتا ہے ، اور بکثرت وہم کا شکار ہوتا ہے ۔
یہ روایت اس کی مانند منقول ہے ، جس میں اختصار کے ساتھ سجدہ کرنے کا ذکر ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے ، جسے شعبہ اور ایک بڑی جماعت نے ” ضعیف“ قرار دیا ہے عمرو بن علی کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ، لیکن بکثرت غلطی کرتا ہے ، اور بکثرت وہم کا شکار ہوتا ہے ۔
حدیث نمبر: 3722
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُهُ سَجَدَ سَجْدَةَ الشُّكْرِ وَقَالَ : " سَجَدْتُ شُكْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ خُارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ ، وَوَثَّقَهُ عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے میں نے آپ کو سجدہ شکر کرتے ہوئے دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے یہ سجدہ شکر کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے ، جسے یحیی بن معین امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے علی بن یحیی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے ، جسے یحیی بن معین امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے علی بن یحیی نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3723
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِهِ رَجُلٌ بِهِ زَمَانَةٌ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَمَرَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَمَرَّ بِهِ عُمَرُ فَنَزَلَ فَسَجَدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جس کا ایک ہاتھ نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نیچے اترے اور سجدے میں چلے گئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا گزر اس شخص کے پاس سے ہوا تو وہ بھی نیچے اترے اور سجدے میں چلے گئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر اس شخص کے پاس سے ہوا تو وہ بھی نیچے اترے اور سجدے میں چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3724
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا رَأَى رَجُلًا مُتَغَيِّرَ الْخَلْقِ سَجَدَ ، وَإِذَا رَأَى قِرْدًا سَجَدَ ، وَإِذَا قَامَ مِنْ مَنَامِهِ سَجَدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَثَّقَهُ أَبُو زَرْعَةَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی ایسے شخص کو دیکھتے تھے جس کی ظاہری تخلیق میں کوئی خامی ہوتی تھی تو آپ سجدے میں چلے جاتے تھے ، جب آپ بندر کو دیکھتے تھے تو آپ سجدے میں چلے جاتے تھے ، اور جب آپ نیند سے بیدار ہوتے تھے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن محمد بن منکدر ہے ، جسے ابوزرعہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن محمد بن منکدر ہے ، جسے ابوزرعہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 3725
وَعَنْ عُرْفُجَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْصَرَ رَجُلًا بِهِ زَمَانَةٌ فَسَجَدَ ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَتَاهُ فَتْحٌ فَسَجَدَ ، وَأَنَّ عُمَرَ أَتَاهُ فَتْحٌ فَسَجَدَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفَهْمِيُّ وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مِسْعَرٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا ، جو اپاہج تھا ، تو آپ سجدے میں چلے گئے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس آئے ، تو وہ بھی سجدے میں چلے گئے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے ، تو وہ بھی سجدے میں چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ فہمی ہے مسعر کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ فہمی ہے مسعر کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3726
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ لَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ كَانَ عِنْدَهَا شَيْءٌ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفْطٍ فَأَمَرَتْ بِطَلَبِهِ فَلَمَّا وَجَدَتْهُ خَرَّتْ سَاجِدَةً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَفِي بَعْضِ رِجَالِهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس ایک چیز تھی ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہا کو ایک ٹوکری میں عطا کی تھی ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اسے تلاش کرنے کا حکم دیا جب وہ انہیں مل گئی ، تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سجدے میں چلی گئیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند حسن ہے ، اور اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند حسن ہے ، اور اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔