حدیث نمبر: 3669
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مِنْ سَعَادَةِ ابْنِ آدَمَ اسْتِخَارَتُهُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مِنْ سَعَادَةِ الْمَرْءِ اسْتِخَارَتُهُ رَبَّهُ وَرِضَاهُ بِمَا قَضَى ، وَمِنْ شَقَاءِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ الِاسْتِخَارَةَ وَسُخْطُهُ بَعْدَ الْقَضَاءِ " . ¤ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : ضَعْفُهُ بَيِّنٌ عَلَى مَا يَرْوِيهِ وَحَدِيثُهُ مُقَارِبٌ وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابن آدم کی سعادت مندی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے استخارہ کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آدمی کی سعادت مندی میں ، یہ چیز بھی شامل ہے کہ وہ اپنے پروردگار سے استخارہ کرے اور پروردگار نے جو فیصلہ دیا ہے ، اس سے راضی رہے ، اور آدمی کی بدنصیبی میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی استخارہ ترک کر دے اور ( تقدیر کے ) فیصلے کے بعد اس پر ناراض ہو“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ابن عدی کہتے ہیں : اس نے جو روایات نقل کی ہیں ، ان کے حساب سے اس کا ضعیف ہونا واضح ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث مقارب ہے ، تاہم اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اس شخص کو ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” آدمی کی سعادت مندی میں ، یہ چیز بھی شامل ہے کہ وہ اپنے پروردگار سے استخارہ کرے اور پروردگار نے جو فیصلہ دیا ہے ، اس سے راضی رہے ، اور آدمی کی بدنصیبی میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی استخارہ ترک کر دے اور ( تقدیر کے ) فیصلے کے بعد اس پر ناراض ہو“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ابن عدی کہتے ہیں : اس نے جو روایات نقل کی ہیں ، ان کے حساب سے اس کا ضعیف ہونا واضح ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث مقارب ہے ، تاہم اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اس شخص کو ” ضعیف“ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3670
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا خَابَ مَنِ اسْتَخَارَ ، وَلَا نَدِمَ مَنِ اسْتَشَارَ ، وَلَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” وہ شخص رسوا نہیں ہوتا ، جو استخارہ کرتا ہے ، اور وہ ندامت کا شکار نہیں ہوتا ، جو مشورہ لیتا ہے ، اور وہ غریب نہیں ہوتا جو میانہ روی سے کام لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے
حدیث نمبر: 3671
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " اكْتُمِ الْخُطْبَةَ ثُمَّ تَوَضَّأْ فَأَحْسِنِ الْوُضُوءَ ثُمَّ صِلِّ مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكَ ثُمَّ احْمَدْ رَبَّكَ وَمَجِّدْهُ ثُمَّ قُلِ : اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ فَإِنْ رَأَيْتَ فِي فُلَانَةٍ يُسَمِّيهَا بِاسْمِهَا خَيْرًا لِي فِي دُنْيَايَ وَآخِرَتِي فَاقْضِ لِي بِهَا أَوْ قَالَ فَاقْدُرْهَا لِي " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ هَكَذَا ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ كُلُّهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شادی کے پیغام کو پوشیدہ رکھو ، پھر تم وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرو ، پھر جو تمہارے نصیب میں اللہ تعالیٰ نے لکھا ہے اتنی نماز ادا کرو ، پھر اپنے پروردگار کی حمد اور بزرگی بیان کرو ، پھر یہ کہو : ” اے اللہ ! بے شک تو قدرت رکھتا ہے ، اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں ، تو علم رکھتا ہے ، اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اگر تو فلاں عورت کے بارے میں یہ جانتا ہے کہ وہ میرے لئے میری دنیا اور میری آخرت میں بہتر ہو گی ( یہاں آدمی اس عورت کا نام لے ) تو اس عورت کو میرے حق میں طے کر دے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُسے میرے مقدر میں کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ، اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسی طرح نقل کی ہے ، اور اس کے تمام رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 3672
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا كَمَا تَرَى وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ وَذَكَرَ لَهُ إِسْنَادًا آخَرَ ، ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَسُقْ لَفْظَهُ بَلْ قَالَ بِمَعْنَاهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ ، یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: ” تم شادی کے پیغام کو پوشیدہ رکھو ، پھر تم وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرو ، پھر تم اتنی نماز ادا کرو ، جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے نصیب میں لکھی ہو ، پھر تم اپنے پروردگار کی حمد اور اس کی بزرگی بیان کرو اور پھر تم یہ پڑھو : ” اے اللہ ! بے شک تو قدرت رکھتا ہے ، اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں ، تو علم رکھتا ہے ، اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اگر تو فلاں عورت کے بارے میں یہ جانتا ہے ۔ یہاں آدمی اس عورت کا نام لے ۔ کہ وہ میرے لئے میرے دین ، میری دنیا اور میری آخرت میں بہتر ہو گی ، تو اس کے میرے ہونے کا فیصلہ دیدے ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُسے میرے مقدر میں کر دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، جس طرح آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے “ ۔ انہوں نے اس کے حوالے سے ایک اور بھی سند نقل کی ہے ، جس کے رجال ثقہ ہیں ، تاہم انہوں نے اس سند کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ، بلکہ یہ کہا: ہے : اس مضمون کی روایت نقل ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام أحمد نے اسے ” موقوف “ روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، جس طرح آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے “ ۔ انہوں نے اس کے حوالے سے ایک اور بھی سند نقل کی ہے ، جس کے رجال ثقہ ہیں ، تاہم انہوں نے اس سند کے الفاظ نقل نہیں کیے ہیں ، بلکہ یہ کہا: ہے : اس مضمون کی روایت نقل ہوئی ہے ۔
حدیث نمبر: 3673
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَخَارَ فِي الْأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَصْنَعَهُ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَخَيْرًا لِي فِي مَعِيشَتِي وَخَيْرًا لِي فِيمَا أَبْتَغِي بِهِ الْخَيْرَ فَخِرْ لِي فِي عَافِيَةٍ وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا لِي فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ " يَقُولُ ثُمَّ يَعْزِمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ إِلَّا إِنَّهُ قَالَ فِي الصَّغِيرِ : " فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ وَاصْرِفْ عَنِّي الشَّرَّ حَيْثُ كَانَ وَرَضِّنِي بِقَضَائِكَ " . ¤ وَفِي إِسْنَادِ الْكَبِيرِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطَّلْحِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ رَجُلٌ ضَعْفٌ فِي الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے ، تو اُس کے بارے میں استخارہ کرتے ، تو یہ پڑھا کرتے تھے : ” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے علم کے مطابق بھلائی طلب کرتا ہوں ، اور تیری قدرت کی مدد سے طاقت مانگتا ہوں ، میں تیرا فضل مانگتا ہوں ، بے شک تو قدرت رکھتا ہے ، اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں ، اور تو علم رکھتا ہے ، اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اے اللہ ! اگر یہ چیز میرے لئے میرے دین کے حوالے سے بہتر ہے ، اور میری زندگی کے حوالے سے میرے لئے بہتر ہے ، اور اُس چیز کے حوالے سے میرے لئے بہتر ہے ، جس کے ذریعے میں بھلائی حاصل کرنا چاہوں ، تو میرے لئے عافیت مقرر کر دے اور اسے میرے لئے آسان کر دے اور پھر میرے لئے اس میں برکت رکھ دے ، اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور چیز میرے حق میں بہتر ہو ، تو میرے حق میں بہتر چیز مقدر کر دے ، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو “ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے ، اور پھر عزم کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے معجم صغیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تو میرے مقدر میں بھلائی رکھ دے ، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ، اور برائی کو مجھ سے پھیر دے ، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ، اور مجھے اپنے فیصلے سے راضی کر دے “ ۔ معجم کبیر کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم طلحی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، معجم اوسط اور معجم صغیر کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جسے حدیث میں ” ضعیف “ قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے معجم صغیر میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تو میرے مقدر میں بھلائی رکھ دے ، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ، اور برائی کو مجھ سے پھیر دے ، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ، اور مجھے اپنے فیصلے سے راضی کر دے “ ۔ معجم کبیر کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ صلی اللہ علیہ وسلم طلحی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، معجم اوسط اور معجم صغیر کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جسے حدیث میں ” ضعیف “ قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 3674
وَلِابْنِ مَسْعُودٍ فِي الْكَبِيرِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا اسْتَخَارَ فِي الْأَمْرِ يُرِيدُ أَنْ يَصْنَعَهُ يَقُولُ : فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " فَخَرْ لِي فِي عَافِيَةٍ وَيَسِّرْهُ لِي " . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ وَزَادَ فِيهِ : " وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ فَإِنَّهُمَا بِيَدِكَ لَا يَمْلِكُهَا أَحَدٌ سِوَاكَ " ، وَقَالَ : " فَوَفِّقْهُ لِي وَسَهِّلْهُ " وَرِجَالُ طَرِيقَيْنِ مِنْ طُرُقِهِ حَسَنَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے معجم کبیر میں یہ بات منقول ہے : جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی کام کرنے لگتے ، اور اُس کے بارے میں استخارہ کرنا چاہتے تو یہ کہا: کرتے تھے ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تو میرے لئے عافیت مقرر کر دے اور اُسے میرے لئے آسان کر دے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں ، کیونکہ یہ دونوں تیرے دست قدرت میں ہیں ، تیرے علاوہ کوئی اور ان کا مالک نہیں ہے “ ۔ اور انہوں نے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں : ” اُسے میرے لئے موافق کر دے اور اُسے آسان کر دے “ ۔ ان دونوں کے طرق حسن سند کے ساتھ منقول ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں ، کیونکہ یہ دونوں تیرے دست قدرت میں ہیں ، تیرے علاوہ کوئی اور ان کا مالک نہیں ہے “ ۔ اور انہوں نے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں : ” اُسے میرے لئے موافق کر دے اور اُسے آسان کر دے “ ۔ ان دونوں کے طرق حسن سند کے ساتھ منقول ہیں ۔
حدیث نمبر: 3675
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الِاسْتِخَارَةَ قَالَ : " يَقُولُ أَحَدُكُمُ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ [ بِعِلْمِكَ ] وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ فَإِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا - يُسَمِّي الْأَمْرَ بِاسْمِهِ - خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَخَيْرًا لِي فِي عَاقِبَةِ أَمْرِي وَخَيْرًا لِي فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا فَاقْدُرْهُ لِي وَبَارِكْ لِي فِيهِ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا لِي فَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ وَرَضِّنِي بِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں استخارہ کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا : ” اے اللہ ! میں تیرے علم کے مطابق تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے مطابق تجھ سے قدرت ( یعنی طاقت ) مانگتا ہوں اور تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں ، بے شک تو قدرت رکھتا ہے ، اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں ، تو علم رکھتا ہے ، اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اگر تو یہ معاملہ اس اس طرح ۔ یہاں پر آدمی اس معاملے کا نام لے ۔ میرے دین ، میری زندگی کے حوالے سے میرے حق میں بہتر ہے ، اور معاملے کے انجام کے حوالے سے میرے حق میں بہتر ہے ، اور میرے تمام امور کے حق میں میرے لئے بہتر ہے ، تو اسے میرا مقدر کر دے اور میرے لئے اس میں برکت رکھ دے اور اس کے علاوہ کچھ اور میرے حق میں زیادہ بہتر ہے ، تو میرے لئے بھلائی مقدر کر دے ، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو مجھے اُس سے راضی کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔
حدیث نمبر: 3676
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَا : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمَ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ مَا قَضَيْتَ عَلَيَّ مِنْ قَضَاءٍ فَاجْعَلْ عَاقِبَتَهُ إِلَى خَيْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئِ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَهُوَ مُتَّهَمٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں استخارہ کی تعلیم یوں دیا کرتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے ( استخارہ کے کلمات یہ ہیں : ) ” اے اللہ ! میں تجھ سے تیرے علم کے مطابق بھلائی طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کی مدد سے قدرت چاہتا ہوں ، بے شک تو قدرت رکھتا ہے ، اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں ، تو علم رکھتا ہے ، اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اے اللہ ! تو نے میرے خلاف جو فیصلہ دیا ہے ، تو اُس کا انجام میرے حق میں بہتر کر دے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہانی بن ابوعبلہ ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور وہ تہمت یافتہ شخص ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہانی بن ابوعبلہ ہے ، ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور وہ تہمت یافتہ شخص ہے ۔
حدیث نمبر: 3677
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا - فِي الَّذِي يُرِيدُ - خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَمَعِيشَتِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي وَإِلَّا فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ ثُمَّ قَدِّرْ لِيَ الْخَيْرَ أَيْنَمَا كَانَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جب تم میں سے کوئی ایک شخص کوئی کام کرنے کا ارادہ کرے ، تو اُسے یہ پڑھنا چاہیے : ” اے اللہ ! میں تیرے علم کے ذریعے تجھ سے بھلائی طلب کرتا ہوں ، میں تجھ سے تیری قدرت کا سوال کرتا ہوں ، میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں ، بے شک تو قدرت رکھتا ہے ، اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں تو علم رکھتا ہے ، اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو غیوب کا بہت زیادہ علم رکھنے والا ہے ، اے اللہ ! اگر یہ یہ معاملہ ۔ یہاں پر آدمی کو وہ معاملہ ذکر کرنا چاہیے جو وہ کرنا چاہتا ہے ۔ وہ میرے حق میں ، میرے دن ، میری زندگی ، اور میری آخرت کے حوالے سے بہتر ہے ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ وہ مجھے سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے ، اور پھر میرے لئے بھلائی مقدر کر دے ، خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔