حدیث نمبر: 3678
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : جَاءَ الْعَبَّاسُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاعَةً لَمْ يَكُنْ يَأْتِيهِ فِيهَا فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا عَمُّكَ عَلَى الْبَابِ ؟ قَالَ : " ائْذَنُوا لَهُ فَقَدْ جَاءَ لِأَمْرٍ " ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ : " مَا جَاءَ بِكَ يَا عَمَّاهُ هَذِهِ السَّاعَةَ وَلَيْسَتْ سَاعَتَكَ الَّتِي كُنْتَ تَجِيءُ فِيهَا ؟ " قَالَ : يَا ابْنَ أَخِي ذَكَرْتُ الْجَاهِلِيَّةَ وَجَهْلَهَا فَضَاقَتْ عَلَيَّ الدُّنْيَا بِمَا رَحُبَتْ فَقُلْتُ : مَنْ يُفَرِّجُ عَنِّي ؟ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ لَا يُفَرِّجُ عَنِّي أَحَدٌ إِلَّا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ثُمَّ أَنْتَ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَوْقَعَ هَذَا فِي قَلْبِكَ وَدِدْتُ أَنَّ أَبَا طَالِبٍ أَخَذَ نَصِيبَهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ ! ! " قَالَ : " أُخْبِرُكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " أُعْطِيكَ ؟ " قَالَ : قَالَ : " أَحْبُوكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ قَالَ : " فَإِذَا كَانَتْ سَاعَةٌ تُصَلِّي فِيهَا لَيْسَتْ بَعْدَ الْعَصْرِ وَلَا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ فَأَسْبِغْ طَهُورَكَ ثُمَّ قُمْ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَاقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَسُورَةٍ إِنْ شِئْتَ ، وَإِنْ شِئْتَ جَعَلْتَهَا مِنْ أَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فَإِذَا فَرَغْتَ مِنَ السُّورَةِ فَقُلْ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لَهُ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً ، فَإِذَا رَكَعْتَ فَقُلْ ذَلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ فَقُلْ ذَلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ هُرْمُزَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے کہ اس گھڑی میں وہ آپ کے پاس نہیں آیا کرتے تھے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! دروازے پر آپ کے چچا موجود ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : انہیں اندر آنے کے لئے کہو ، وہ کسی ضروری معاملے کی وجہ سے تشریف لائے ہوں گے ، جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے چچا جان ! آپ اس وقت کیوں تشریف لائے ہیں ؟ آپ پہلے تو اس گھڑی میں تشریف نہیں لایا کرتے تھے ، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے میرے بھتیجے ! مجھے زمانہ جاہلیت اور اس کی جہالتیں یاد آ گئیں ، تو دنیا اپنی تمام تر کشادگی کے باوجود میرے لئے تنگ ہو گئی میں نے یہ سوچا کہ مجھے اس چیز سے نجات کیسے مل سکتی ہے ، تو مجھے یہ اندازہ ہو گیا کہ اس چیز سے مجھے کوئی نجات نہیں دے سکتا ، صرف اللہ تعالیٰ دے سکتا ہے ، یا پھر تم دے سکتے ہو ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے آپ کے دل میں یہ بات ڈال دی ہے میری تو یہ خواہش تھی کہ جناب ابوطالب بھی اپنا حصہ حاصل کر لیتے ، لیکن اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں آپ کو اس بارے میں بتاؤں ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں آپ کو ایک عطیہ دوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا میں آپ کو کچھ دوں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جب کوئی ایسا وقت ہو ، جس میں آپ نماز ادا کر سکتے ہوں ، یعنی وہ عصر کے بعد نہ ہو یا سورج نکلنے کے بعد نہ ہو ، تو آپ اس میں اچھی طرح وضو کریں ، پھر آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑے ہوں ، ، سورت فاتحہ پڑھیں ، پھر اگر ایک سورت چاہیں تو وہ پڑھ لیں اگر آپ چاہیں ، تو مفصل کی ابتدائی سورت پڑھ لیں ، جب آپ سورت پڑھ کر فارغ ہوں ، تو «سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اكبر» پندرہ مرتبہ پڑھیں ، جب آپ رکوع میں جائیں ، تو دس مرتبہ پڑھیں ، جب آپ سر کو اٹھائیں ، تو دس مرتبہ پڑھیں ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ہرمز ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 3679
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : " يَا غُلَامُ أَلَا أَحْبُوكَ ؟ أَلَا أَنْحَلُكَ ؟ أَلَا أُعْطِيكَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : بَلَى ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : فَظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَقْطَعُ لِي قِطْعَةً مِنْ مَالٍ فَقَالَ : " أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ تُصْلِيهِنَّ فِي كُلِّ يَوْمٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ جُمُعَةٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ شَهْرٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي كُلِّ سَنَةٍ فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَفِي دَهْرِكَ مَرَّةً ، تُكَبِّرُ فَتَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَسُورَةً ، ثُمَّ تَقُولُ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ خَمْسَ عَشْرَةَ مَرَّةً ثُمَّ تَرْكَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَرْفَعُ فَتَقُولُهَا عَشْرًا ، ثُمَّ تَفْعَلُ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا مِثْلَ ذَلِكَ ، فَإِذَا فَرَغْتَ قُلْتَ بَعْدَ التَّشَهُّدِ وَقَبْلَ السَّلَامِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَوْفِيقَ أَهْلِ الْهُدَى وَأَعْمَالَ أَهْلِ الْيَقِينِ وَمُنَاصَحَةَ أَهْلِ التَّوْبَةِ وَعَزْمَ أَهْلِ الصَّبْرِ وَجِدَّ أَهْلِ الْخَشْيَةِ وَطَلَبَ أَهْلِ الرَّغْبَةِ وَتَعَبُّدَ أَهْلِ الْوَرَعِ وَعِرْفَانَ أَهْلِ الْعِلْمِ حَتَّى أَخَافَكَ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ مَخَافَةً تَحْجِزُنِي عَنْ مَعَاصِيكَ حَتَّى أَعْمَلَ بِطَاعَتِكَ عَمَلًا أَسْتَحِقُّ بِهِ رِضَاكَ وَحَتَّى أُنَاصِحَكَ بِالتَّوْبَةِ خَوْفًا مِنْكَ وَحَتَّى أُخْلِصَ لَكَ النَّصِيحَةَ حُبًّا لَكَ وَحَتَّى أَتَوَكَّلَ عَلَيْكَ فِي الْأُمُورِ حُسْنَ ظَنٍّ بِكَ سُبْحَانَ خَالِقِ النَّارِ فَإِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذُنُوبَكَ صَغِيرَهَا وَكَبِيرَهَا وَقَدِيمَهَا وَحَدِيثَهَا وَسِرَّهَا وَعَلَانِيَتَهَا وَعَمْدَهَا وَخَطَأَهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : اے لڑکے ! کیا میں تمہیں کچھ نہ دوں ؟ کیا میں تمہیں عطیہ نہ دوں ؟ کیا میں تمہیں تحفہ نہ دوں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، راوی کہتے ہیں : میں نے یہ گمان کیا کہ شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے مال عطا کریں گے ، آپ نے ارشاد فرمایا : چار رکعات تم نے روزانہ پڑھنی ہیں ، اگر تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ، تو ہفتے میں ایک مرتبہ پڑھ لینی ہیں ، اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتے ، تو پھر مہینے میں ایک مرتبہ پڑھ لینی ہیں ، اگر اس کی بھی اسطاعت نہیں رکھتے ، تو سال میں ایک مرتبہ پڑھ لینی ہیں ، اگر اس کی بھی استطاعت نہیں رکھتے ، تو کبھی بھی ایک مرتبہ پڑھ لینا ، تم تکبیر پڑھ کے ایک مرتبہ سورت فاتحہ اور ایک سورت کی تلاوت کرنا ، پھر تم سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله والله اکبر پندرہ مرتبہ پڑھنا ، پھر تم رکوع میں یہ کلمات دس مرتبہ پڑھنا ، پھر جب تم اُٹھو گے ، تو دس مرتبہ یہ کلمات پڑھنا ، پھر تم سجدے میں جاؤ گے ، تو یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھنا ، پھر تم اُٹھو گے ، تو یہ کلمہ دس مرتبہ پڑھنا ، پھر تم اپنی نماز میں اسی طرح پڑھنا ، جب تم فارغ ہو جاؤ گے ، تو تشہد کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے یہ پڑھنا : ” اے اللہ ! میں تجھ سے ہدایت والے لوگوں کی ، توفیق اور اہل یقین کے اعمال اور توبہ کرنے والوں کی خیرخواہی صبر کرنے والوں کے عزم خشیت والوں کی کوشش ، رغبت والوں کی طلب ، پرہیز گاروں کی عبادت گزاری ، اہل علم کے عرفان کا سوال کرتا ہوں ، تاکہ میں تجھ سے ڈرتا رہوں ، اے اللہ ! میں تجھ سے ایسا خوف مانگتا ہوں ، جو مجھے تیری نافرمانی سے روک دے ، یہاں تک کہ میں تیری فرمانبرداری سے متعلق ایسا عمل کروں ، جس کے ذریعے میں تیری رضامندی کا مستحق ہو جاؤں ، یہاں تک کہ میں تیری بارگاہ میں خالص توبہ کر لوں ، تیرے خوف کی وجہ سے ہو ، اور تیری محبت کی وجہ سے ، میں خیرخواہی کو تیرے لئے خالص کر لوں ، یہاں تک کہ تمام امور میں تجھ پر توکل کروں ، تیرے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہوئے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے جہنم کو پیدا کرنے والے ! “ ( اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) اے ابن عباس ! جب تم ایسا کر لو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہارے تمام چھوٹے بڑے ، پرانے نئے پوشیدہ اعلانیہ ، جان بوجھ کر اور غلطی سے کیے گئے ، ( تمام ) گناہوں کی مغفرت کر دے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 3680
وَلِابْنِ عَبَّاسٍ عِنْدَهُ أَيْضًا مِنْ طَرِيقِ أَبِي الْجَوْزَاءِ قَالَ : قَالَ لِيَ ابْنُ عَبَّاسٍ : يَا أَبَا الْجَوْزَاءِ أَلَا أَحْبُوكَ ؟ أَلَا أَنْحَلُكَ ؟ أَلَا أُعْطِيكَ ؟ قُلْتُ : بَلَى فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ " فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " مَنْ صَلَّاهُنَّ غُفِرَ لَهُ كُلُّ ذَنَبٍ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ قَدِيمٍ أَوْ حَدِيثٍ كَانَ هُوَ أَوْ كَائِنٌ " . ¤ وَفِي الْأَوَّلِ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ حَبِيبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَفِي الثَّانِي يَحْيَى بْنُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي الْعَيْزَارِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے انہوں نے
یہ روایت ابوجوزاء کے حوالے سے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا : اے ابوجوزاء ! کیا میں تمہیں کچھ نہ دوں ؟ کیا میں تمہیں کوئی تحفہ نہ دوں ؟ کیا میں تمہیں کوئی عطیہ نہ دوں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص چار رکعات ادا کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے زیادہ مختصر ہے ، اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص انہیں ادا کر لے گا ، اُس کے ہر چھوٹے بڑے ، پرانے نئے گناہ کی مغفرت ہو جائے گی ، خواہ وہ پہلے ہو چکا ہو ، یا آگے چل کے ہو “۔
پہلی روایت میں ایک راوی عبدالقدوس بن حبیب ہے ، اور وہ متروک ہے ، جبکہ دوسری روایت میں یحیی بن عقبہ بن ابوعیزار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت ابوجوزاء کے حوالے سے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا : اے ابوجوزاء ! کیا میں تمہیں کچھ نہ دوں ؟ کیا میں تمہیں کوئی تحفہ نہ دوں ؟ کیا میں تمہیں کوئی عطیہ نہ دوں ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص چار رکعات ادا کرتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے زیادہ مختصر ہے ، اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ” جو شخص انہیں ادا کر لے گا ، اُس کے ہر چھوٹے بڑے ، پرانے نئے گناہ کی مغفرت ہو جائے گی ، خواہ وہ پہلے ہو چکا ہو ، یا آگے چل کے ہو “۔
پہلی روایت میں ایک راوی عبدالقدوس بن حبیب ہے ، اور وہ متروک ہے ، جبکہ دوسری روایت میں یحیی بن عقبہ بن ابوعیزار ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔