کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: جو شخص نماز ادا کرے ، اور اس میں صرف بھلائی کے بارے میں سوچے
حدیث نمبر: 3663
عَنْ عُثْمَانَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا إِلَّا بِخَيْرٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ : " إِلَّا بِخَيْرٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے تین ، تین مرتبہ وضو کیا ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے ، پھر دو رکعات ادا کرے اور اُن دو رکعات کے درمیان صرف بھلائی کے بارے میں سوچے ، تو اُس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحیح منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” صرف بھلائی کے بارے میں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :
یہ روایت صحیح منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” صرف بھلائی کے بارے میں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔